حضورﷺ کے پاس ایک قبیلے کے کچھ لوگ آئے

حضرت بلال ؓ ان اولین لوگوں میں سے ہیں جنہوں نے شروع میں اسلام قبول کیا اور جن کو دنیا میں ہی جنت کی بشارت دے دی گئی تھی۔ ان کی زبان صرف احد احد کرنا جانتی تھی۔ آپ مکہ میں پیدا ہوئے جبکہ بنیادی طور پر آپکا تعلق ابی سنیا سے تھا، جسے آجکل ایتھوپیا کے نام سے جانا جاتا ہے۔

آپ رسول اللہ ﷺ کے تین برس بعد پیدا ہوئے اور آپکا پورا نام بلال بن ابی رباح ہے۔ان کی والدہ کا نام روایات میں حمامہ آیا ہے، صحابہ اور روایات کے مطابق ان کا رنگ سیاہ تھا، قد اونچا اور کسی قدر دبلے پتلے تھے لیکن جب صحابہ ان کی خصوصیات بتاتے تو کہتے تھے کہ وہ صادق القلب تھے، ایک ایسے انسان جنہوں نے سب کچھ محنت اور جدو جہد سے حاصل کیا اور یہ سب اللہ اور اس کے رسولﷺ کی محبت کا نتیجہ تھا۔

آپ ﷺ کی جانب سے حضرت بلال کو دو لقب دئے گئے یا دو طرح کی خدمات تھیں جو خود آپ ﷺ نے حضرت بلال کو دیں، ایک الخازن، یعنی حضرت بلال، آپ ﷺ کے ذاتی خزانچی تھے، اور دوسرا لقب جو آپکا ہے وہ مؤذن رسول ﷺ ہے جو کہ سب بخوبی جانتے ہیں۔ ایک حدیث میں رسول اللہ ﷺ نے حضرت بلال کو تمام مؤذنوں کا سردار کہا ہے تو دنیا میں جب تک جہاں بھی اذان دی جائے گی۔

حضرت بلال ان تمام مؤذنوں کے سردار ہیں۔حضرت بلال ؓ کا تعلق بنی جہر سے تھا، ان کی والدہ ایک غلام تھیں۔ جن کو امیہ بن خلف نے خریدا تھا۔ امیہ بن خلف اسلام کا د۔ش۔م۔ن تھا اور حضرت بلال پر طرح طرح کے مظ۔الم ڈھ۔ات۔ا تھا۔ ایک بار ایک قبیلے کے کچھ لوگ رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اے اللہ کے رسول میری بیٹی کی شادی کسی سے کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا، بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟

وہ لوگ پھر آئے پھر کہا کہ رسول اللہ ﷺ میری بیٹی کی شادی کسی سے کر دیں، آپ ﷺ نے فرمایا، بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ وہ لوگ تیسری بار پھر آئے اور پھر یہی کہا، آپ ﷺ نے پھر جواب دیا، بلال کے بارے میں کیا خیال ہے؟ جو کہ جنتی ہے۔ ایک حدیث میں ہے کہ جنت، حضرت بلال کا انتظار کرتی ہے۔ ایک مسلمان کی حیثیت سے ہم جنت کا انتظار کرتے ہیں جبکہ جنت خود حضرت بلال کا انتظار کرتی ہے۔

ایک بار فجر کی نماز کے بعد آپ ﷺ نے حضرت بلال سے پوچھا کہ تم ایسا کیا کرتے ہو کہ کل رات جب میں جنت میں داخل ہوا تو میں نے اپنے آگے تمہارے قدموں کی آواز سنی۔حضرت بلال نے جواب دیا۔ یا رسول اللہ ﷺ جب بھی میرا وضو ٹوٹت۔ا ہے ۔میں دوبارہ وضو کر کے دو رکعت نفل ادا کرتا ہوں۔کون تھا ایسا جو نہ چاہتا ہو کہ موذن رسول ﷺ کا منصب اسے نصیب ہو؟

صحابہ اس بات پر ج۔ان تک دے سکتے تھے۔ لیکن یہ مقام حضرت بلال کے حصے میں آیا تھا نہ صرف یہ بلکہ فتح مکہ کو یاد کریں جب بڑے بڑے مرتبے والے صحابہ موجود تھے اور ایک طرف خانہ کعبہ تھا جو مسلمان اور مشرکینِ مکہ دونوں کے لئے سب سے محترم تھا لیکن جب رسول اللہ ﷺ نے مکہ کی چھت پر جا کر اذان دینے کے لئے بُلایا۔

دو ہی بار تھا جب رسول اللہ ﷺ کے علاوہ کسی اور کے کہنے پر حضرت بلال نے اذان دی، اس کے بعد حضرت بلال کی اذان نہ تو فرش والوں نے سنی نہ ہی عرش والوں نے۔یہ فخر صرف بلال بن ابی رباح کو حاصل ہے کہ جنہوں نے خانہ کعبہ میں، مسجدِ نبویﷺ میں اور مسجد اقصیٰ میں، تینوں جگہ اذان دی، تینوں جگہ توحید کا اعلان کیا۔

حضرت بلال کی وف۔ات کے وقت جب ان کی بیوی نے یہ کہا کہ کیا ہی غ م کا وقت ہے تو حضرت بلال نے فرمایا نہیں یہ بہت خوشی کا وقت ہے۔ کل میں رسول اللہ ﷺ سے ملوں گا، اپنے ساتھیوں سے ملوں گا۔ حضرت بلال رضی اللہ دمشق میں، 20 ہجری میں اس دنیا کوچھ۔وڑ کر اپنے محبوب سے ملنے چلے گئے۔ ان کی کوئی اولاد نہیں تھی نہ ہی ان کی کوئی جائداد تھی۔

Categories

Comments are closed.