حضرت عمر بن خطاب سے بیٹے نے کہا فلاں لڑکی سے شادی کروادیجئے

حضرت سیدنا اسلم ؓ فرماتے ہیں امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ اللہ تعالیٰ اکثر رات کے وقت مدینہ منورہ کا دورہ فرماتے ہیں تاکہ اگر کسی کو کوئی حاجت ہو تو اسے پورا کریں ایک رات میں بھی ان کے ساتھ تھا۔آپ ؓ چلتے چلتے اچانک ایک گھر کے پاس رُ ک گئے

اندر سے ایک عورت کی آواز آرہی تھی بیٹی دودھ میں تھوڑا سا پانی ملا دو لڑکی یہ سن کر بولی امی جان کیا آپ کو معلوم نہیں کہ امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے کیا حکم جاری فرمایا ہے ۔اس کی ماں بولی بیٹی ہمارے خلیفہ نے کیا حکم جاری فرما یا ہے ۔ لڑکی نے کہا امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ نے یہ اعلان کروایا ہے کہ کوئی بھی دودھ میں پانی نہ ملائے ماں نے یہ سن کر کہا بیٹی اب تو تمہیں حضرت سیدنا عمر ؓ نہیں دیکھ رہے انہیں کیا معلوم کہ تم نے دودھ میں پانی ملایا ہے جاؤ اور دودھ میں پانی ملادو ۔ لڑکی نے یہ سن کر کہا خدا عزوجل کی قسم میں ہر گزایسا نہیں کرسکتی کہ ان کے سامنے تو ان کی فرمانبرداری کروں اور ان کی غیر موجودگی میں ان کی نافرمانی کروں اس وقت اگرچہ مجھے امیر المومنین حضرت سیدنا عمر بن خطاب ؓ نہیں دیکھ رہے

لیکن میرا رب عزوجل تو مجھے دیکھ رہا ہے میں ہرگز دودھ میں پانی نہیں ملاؤں گی ۔امیر المومنین حضرت سیدنا عمر فاروق اعظم ؓ نے ماں بیتی کے درمیان ہونے والی تمام گفتگو سن لی تھی ۔ آپ ؓ مجھ سے فرمایا اے اسلم ؓ اس گھر کو اچھی طرح پہچان لو ۔پھر آپ ؓ رات اسی طرح گلیوں میں دورہ کرتے رہے ۔ جب صبح ہوئی تو مجھے اپنے پاس بلایا اور فرمایا اے اسلم ؓ اس گھر کی طرف جاؤ اور معلوم کرو کہ یہاں کون کون رہتا ہے اور یہ بھی معلوم کرو کہ وہ لڑکی شادی شدہ ہے یا کنواری ۔حضرت سیدنا اسلم ؓ فرماتے ہیں میں اس گھر کی طرف گیا اور ان کے بارے میں معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ اس گھر میں ایک بیوہ عورت اور اس کی بیٹی رہتی ہے اور اس کی بیٹی کی ابھی تک شادی نہیں ہوئی ۔معلومات حاصل کرنے کے بعد میں حضرت سیدنا عمر ؓ کے پاس آیا اور انہیں ساری تفصیل بتائی ۔

آپ ؓ نے فرمایا میرے تمام صاحبزادوں کو میرے پاس بلا کر لاؤ جب سب آپ ؓ کے پاس جمع ہوگئے تو آپ ؓ نے ان سے فرمایا کیا تم میں سے کوئی شادی کرنا چاہتا ہے حضرت سیدنا عبداللہ بن عمر ؓ اور حضرت سیدنا عبدالرحمٰن ؓ نے عرض کی ہم تو شادی شدہ ہیں پھر حضرت سیدنا عاصم بن عمر ؓ کھڑے ہوئے اور عرض کی ابا جان میں غیر شادی شدہ ہوں میری شادی کرادیجئے چنانچہ آپ ؓ نے اس لڑکی کو اپنے بیٹے سے شادی کیلئے پیغام بھیجا جو اس نےبخوشی قبول کرلیا۔اس طرح حضرت سیدنا عاصم ؓ کی شادی اس لڑکی سے ہوگئی اور ان کے ہاں ایک بیٹی پیدا ہوئی جس سے حضرت سیدنا عمر بن عبدالعزیز ؓ کی ولادت ہوئی ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *