حضرت عبد اللہ بن مسعود فرماتے ہیں کہ میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور

حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں قریب البلوغ تھا اور مکہ میں عقبہ بن ابی معید کی بکریاں چرایا کر تا تھا میرے پاس رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور حضرت ابو بکر صدیق تشریف لائے اور فرمایا اے لڑکے ! تیرے پاس دودھ ہے جو تو ہمیں پلا دے

میں نے کہا میرے پاس تو یہ امانت ہیں میں تمہیں دودھ نہیں پلا سکتا ۔ آپ نے فرمایا کیا تیرے پاس کوئی نوعمر بکری ہے جس پر ابھی بکرانہ چڑھا ہو . ۔ میں نے ایسی بکری انہیں لا دی تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالی عنہ نے اسے پکڑا اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا تھن پکڑ کر دعا مانگی

تو اس کا تھن بھر گیا ۔ پھر دودھ دوھ کر آپ نے اور حضرت ابو بکر نے پیا پھر حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ان سے فرمایا سکڑ جا تو وہ سکڑ گیا میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا اور عرض کیا مجھے بھی یہ پاکیزہ کلمات سکھا دیجئے تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا

تو سیکھے ہوۓ لڑکے ہو اس کے بعد میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے ستر سورتیں یاد کیں جن میں میرا مقابلہ کوئی نہیں کر سکتا حضرت علقمہ رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ حضرت عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ تعالی عنہ فرمایا کرتے تھے لوگوں پر اور ان کے میری قرآت کو چھوڑ کر زید کی قرات اختیار کرنے

ہے حالانکہ میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دہن مبارک سے سات م سورتیں سیکھی ہیں اور زید بن ثابت اس وقت چھوٹا لڑکا تھا جو مدینہ میں آیا جایا کرتا تھا ۔۔۔۔۔۔۔۔

Categories

Comments are closed.