حضرت سلیمان ؑ نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پو چھا

یہ شہر بحیرہ مردار کے قریب واقع تھا۔ اس شہر کی رہنمائی اور ہدایت کے لیے اللہ کریم نے حضرت لوط علیہ السلام کو مبعوث فر ما یا تھا شہر سدوم حضرت لوط علیہ السلام کا شہر ہے۔ حضرت لوط علیہ السلام بن ہاران بن تارخ یہ حجرت ابراہیم علیہ السلام کے بھتیجے ہیں یہ لوگ عراق میں شہر بابل کے باشندہ تھے پھر حضرت ابراہیم علیہ السلام وہاں سے ہجرت کر کے فلسطین تشریف لے گئے۔ اور حضرت لوط ؑ ملک شام کے ایک شہر “اُردن” میں مقیم ہو گئے اور اللہ تعالیٰ نے آپ کو نبوت عطا فر ما کر “سدوم” والوں کی ہدایت کے لیے بھیج دیا شہر سدوم کی بستیاں بہت آباد اور نہایت سر سبز و شاداب تھیں۔ اور وہاں طرح طرح کے اناج اور قسم قسم کے پھل اور میوے بکثرت پیدا ہوتے تھے۔

شہر کی خوشحالی کی وجہ سے اکثر بہت سے لوگ مہمان بن کر ان آبادیوں میں آیا کر تے تھے اور شہر کے لوگوں کو ان مہمانوں کی مہمان نوازی کا بار اٹھا نا پڑتا تھا اس لیے اس شہر کے لوگ مہمانوں کی آمد سے بہت ہی کبیدہ خاطر اور تنگ ہو چکے تھے مگر مہمانوں کو روکنے اور بھگانے کی کوئی صورت نظر نہیں آرہی تھی اس ماحول میں ابلیس لعین ایک بوڑھے کی صورت میں نمودار ہوا اور ان لوگوں سے کہنے لگا کہ اگر تم لوگ مہمانوں کی آمد سے نجات چاہتے ہو تو اس کی یہ تدبیر ہے کہ جب بھی کوئی مہمان تمہاری بستی میں آ ئے تو تم لوگ زبردستی اس کے ساتھ ب د ف ع ل ی کرو چنانچہ سب سے پہلے ابلیس خود ایک خوبصورت لڑکے کی شکل میں مہمان بن کر اس بستی میں داخل ہوا اور ان لوگوں سے خوب ب د ف ع ل ی کرائی اس طرح یہ فعل ِ بد ان لوگوں نے شیطان سے سیکھا پھر رفتہ رفتہ چنانچہ حضرت لوط ؑ نے ان لوگوں کو اس فعل ِ بد سے منع کر تے ہوئے اس طرح وعظ فر ما یا کہ اپنی قوم سے کہا کیا۔

وہ بے حیائی کر تے ہو جو تم سے پہلے جہاں میں کسی نے نہ کی تو مردوں کے پاس ش ہ و ت سے جاتے ہو عورتیں چھوڑ کر بلکہ تم لوگ حد سے گزر گئے حضرت لوط ؑ کے اس اصلاحی اور مصلحانہ وعظ کو سن کر ان کی قوم نے نہا یت بے با کی اور انتہائی بے حیائی کے ساتھ کہاترجمہ قرآن : اور اس کی قوم کا کچھ جواب نہ تھا مگر یہی کہنا کہ ان کو اپنی بستی سے نکال دو یہ لوگ تو پاکیزگی چاہتے ہیں جب قوم لوط کی سر کشی اور ب د ف ع ل ی قابلِ ہدایت نہ رہی تو اللہ تعالیٰ کا عذاب آ گیا۔ پھر کنکر کے پتھروں کا مینہ بر سا اور اس زور سے سنگ باری ہوئی کہ قوم لوط کے تمام لوگ مر گئے اور ا ن کی ل ا ش ی ں بھی ٹکڑے ٹکڑے ہو کر بکھر گئیں عین اس وقت جب کہ یہ شہر الٹ پلٹ ہو رہا تھا۔ پھر عذابِ الٰہی کا ایک پتھر اس کے اوپر بھی گر پڑا اور وہ بھی ہلاک ہو گئی چنانچہ قرآنِ مجید میں حق تعالیٰ کا ارشاد ہے۔

کہ تو ہم نے اسے اور اس کے گھر والوں کو نجات دی مگر اس کی عورت وہ رہ جانے والوں میں ہوئی اور ہم نے ان پر ایک مینہ بر سا یا تو دیکھو کیسا انجام ہوا مجرموں کا۔۔ جو پتھر اس قوم پر برسائے گئے وہ کنکروں کے ٹکڑے تھے۔ اور ہر پتھر پر اس شخص کا نام لکھا ہوا تھا جو اس پتھر سے ہلاک ہوا۔ اس واقعہ سے معلوم ہوا کہ لواطت کس قدر شدید اور ہو لناک گ ن ا ہ کبیرہ ہے کہ اس جرم میں قوم لوط کی بستیاں الٹ پلٹ کر دی گئیں اور مجر مین پتھراؤ کے عذاب سے مر کر دنیا سے نیست و نابود ہو گئے۔ منقول ہے کہ حضرت سلیمان علیہ السلام نے ایک مرتبہ ابلیس لعین سے پوچھا کہ اللہ تعالیٰ کو سب سے بڑھ کر کون سا گ ن ا ہ نا پسند ہے تو ابلیس نے کہا کہ سب سے زیادہ اللہ تعالیٰ کو یہ گ ن ا ہ نا پسند ہے کہ مرد مرد سے ب د ف ع ل ی کرے اور عورت عورت سے اپنی خواہش پوری کرے اور حدیث میں ہے کہ عورت کا اپنی ش ر م گ ا ہ کو دوسری عورت کی ش ر م گ ا ہ سے رگڑنا یہ ان دونوں کی ز ن ا کاری ہے جو گ ن ا ہ کبیرہ ہے۔ اللہ تعالیٰ ہمیں اپنے غضب سے بچائے اور ہمیں جملہ گناہوں سے محفوظ رکھے۔ اے اللہ کریم ہم تجھ سے تیرا فضل طلب کر تے ہیں ہمیں اپنی ناراضگی سے مامون فر ما آ مین۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *