حاجی صاحب یہ معجزہ کیسے ہوا کوئی دوا کوئی دعا

یک حاجی صاحب کافی بیمار تھے کئی سالوں سے ہر ہفتے پیٹ سے چار بوتل پانی نکلواتے تھے اب ان کے گردے واش ہوتے ہوتے ختم ہو چکے تھے ایک وقت میں آدھا سلائس ان کی غذا تھی سانس لینے میں بہت دشواری کا سامنا تھا نقاہت اتنی کہ بغیر سہارے کے حاجت کیلئے نہ جا سکتے تھے ایک دن چوہدری صاحب ان کے ہاں تشریف لے گئے

اور انہیں سہارے کے بغیر چلتے دیکھا تو بہت حیران ہوئے انہوں نے دور سے ہاتھ ہلاکر چوہدری صاحب کا استقبال کیا چہل قدمی کرتے کرتے حاجی صاحب نے دس چکر لان میں لگاۓ پھر مسکراکر ان کے سامنے بیٹھ گئے ان کی گردن میں صحت مند لوگوں حبیبی تناؤ تھا چو ہدری صاحب نے ان سے پوچھا کہ یہ معجزہ کیسے ہوا کوئی دوا کوئی دعا کوئی پیتھی کوئی تھراپی۔آخر یہ کمال کس نے دکھایا حاجی صاحب نے فرمایا میرے ہاتھ میں ایک ایسانسخہ آیا ہے کہ اگر دنیا کو معلوم ہو جاۓ تو سارے ڈاکٹر ، حکیم بیروز گار ہو جائیں سارے ہسپتال بند ہو جائیں

اور سارے میڈیکل سٹوروں پر تالے پڑ جائیں چوہدری صاحب مزید حیران ہوۓ کہ آخر ایسا کونسانسخہ ہے جو ان کے ہاتھ آیا ہے حاجی صاحب نے فرمایا کہ میرے ملازم کی والدہ فوت ہو گئی میرے بیٹوں نے عارضی طور پر ایک چھ سات سالہ بچہ میری خدمت کیلئے دیا میں نے ایک دن بچے سے پوچھا کہ آخر کس مجبوری کی بناپر تمہیں اس عمر میں میری خدمت کرناپڑی بچہ پہلے تو خاموش رہا پھر سسکیاں بھر کر بولا کہ ایک دن میں گھر سے باہر تھامیری امی ابو بھائی بہن سب سیلاب میں بہہ گئے میرے مال مویشی ڈھور ڈنگر زمین پر رشتہ داروں نے قبضہ کر لیا اب دنیا میں میرا کوئی نہیں اب دو وقت کی روٹی اور کپڑوں کے عوض آپ کی خدمت پر مامور ہوں یہ سنتے ہی حاجی صاحب کادل پیچ گیا اور پوچھا بیٹا کیا تم پڑھو گے بچے نے ہاں میں سر ہلادیا حاجی صاحب نے میجر سے کہا کہ اس بچے کو شہر کے سب سے اچھے سکول میں داخل کر اؤ بچے کا داخل ہو نا تھا کہ اس کی دعاؤں نے اثر کیا قدرت مہربان ہو گئی میں نے تین سالوں کے بعد پیٹ بھر کر کھانا کھایاسارے ڈاکٹر اور گھر والے حیران تھے

اگلے روز اس یتیم بچے کو ہاسٹل میں داخلہ دلوایا اور بغیر سہارے کے ٹائلٹ تک چل کر گیا ، میں نے منیجر سے کہا کہ شہر سے پانچ ایسے اور بچے ڈھونڈ کر لاؤ جن کا دنیا میں کوئی نہ ہو پھر ایسے بچے لائےگئے انہیں بھی اسی سکول میں داخل کرادیا گیا اللہ تعالی نے فضل کیا اور آج میں بغیر سہارے کے چل رہا ہوں سیر ہو کر کھاپی رہا ہوں اور قہقہے لگارہاہوں۔حاجی صاحب سینہ پھلا کر گلاب کی کیاریوں کی طرف چل دیئے اور فرمایا میں اب نہیں کروں گا جب تک کہ یہ بچے اپنے قدموں پر کھڑے نہیں ہو جاتے حاجی صاحب گلاب کی کیاریوں کے قریب رک گئے اور ایک عجیب

فقرہ زبان پر لاۓ قدرت یتیموں کو ساۓ دینے والے درختوں کے ساۓ لیے کر دیا کرتی ہے

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *