جوان لڑکی اپنے بوڑھے باپ کے ساتھ سفر کر رہی تھی کہ راستے میں ڈاکوؤں نے لڑکی کو پکڑ لیا اور

رانے زمانے کی بات ہے کہ کسی ریاست کے چھوٹے سے گاؤں میں ایک قاضی رہتا تھا ، وہ قاضی بہت ہی عقلمند انسان تھا ۔ وہ ہر فیصلہ عقلمندی اور انصاف سے کرتا تھا اور کسی بھی مقدمے کا فیصلہ گواہوں اور ثبوتوں کی بنیاد پر نہیں کرتا تھا کیونکہ وہ کہتا تھا کہ گواہ اور ثبوت اپنے ہاتھوں سے بھی بنائے جا سکتے ہیں ، اور اللہ تعالی نے انسان کو عقل سے نوازا ہے اور عقل کے ساتھ ساتھ شعور بھی عطا کیا ۔

اس کی زندگی میں کوئی ایسا مقدمہ نہیں گزرا ہو گا جس کا اس نے انصاف پرمبنی فیصلہ نہ کیا ہو ۔ اس گاؤں میں ایک بزرگ موچی رہتا تھا جس کی داڑھی سفید ہو چکی تھی اور موچی کی ایک نہایت حسین اور خوبصورت بیٹی تھی ۔ ایک دن موچی اور اس کی بیٹی دوسرے گاؤں سے واپس آ رہے تھے تو راستے میں ڈاکوؤں کا ایک گروہ بیٹھا ہوا تھا ۔ جب ڈاکوؤں نے اس خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی کو دیکھا تو اسے اٹھا کر جنگل کے بیچ میں لے گئے اور اس بزرگ موچی کو انہوں نے مار کر بیہوش کر دیا ۔ پھر جب وہ موچی کی بیٹی کے ساتھ زیادتی کر رہے تھے تو اسیوقت وہاں سے قاضی صاحب اپنے بہت بڑے قافلے کے ساتھ گزر رہے تھے ۔

جب ڈاکوؤں نے قاضی صاحب کے قافلے کو آتا دیکھا تو ان کے پیروں تلے زمین نکل گئی کیونکہ ان کو معلوم تھا کہ اگر قاضی صاحب کے کسی سپاہی نے اس موچی کو دیکھ لیا تو وہ ہمیں ڈھونڈ کر مار ڈالیں گے کیونکہ قاضی صاحب کا قافلہ اور سپاہی بہت زیادہ تعداد میں تھے ۔ جب لڑکی نے قافلے کی آواز سنی تو وہ زور زور سے چیخیں ماننے ہیں جب قاضی صاحب نے اس لڑکی کی آواز سنی تو اس نے اپنےسپاہیوں کو بھیجا کہ جنگل میں کسی لڑکی کی آواز آ رہی ہے ۔ قاضی صاحب کے سپاہی اس جنگل میں داخل ہو گئے لیکن لڑکی نے ان ڈاکوؤں کی شکل نہیں دیکھی تھی کیونکہ انہوں نے منہ چھپایا ہوا تھا ۔ جب سپاہی قریب پہنچے تو ڈاکو بڑی چالاکی سے اس قافلے میں شامل ہو گئے

لیکن وہ لڑ کی یہ جانتی تھی کہ وہ ڈاکو اس قافلے میں شامل ہوۓ ہیں۔اس کے بعد سپاہی سیدھا اس لڑکی کو قاضی صاحب کے پاس لے آۓ اور کہا کہ قاضی صاحب اس لڑکی نے کہا ہے کہ جن ڈاکوؤں نے میرےساتھ زبردستی کی ہے وہ اس قافلے میں شامل ہو گئے ہیں ۔ یہ سن کر قاضی صاحب بڑا پریشان ہوا اور سوچنے لگا تھا کہ اتنے بڑے قافلے میں مجرموں کو کیسے ڈھونڈا جائے۔اس کے بعد قاضی صاحب نے حکم دیا کہ اس قافلے کو چاروں طرف سے گھیر لو اور یہ قافلہ سیدھا عدالت میں ۔ جاۓ گا ۔ جب قافلہ عدالت میں پہنچاتو قاضی صاحب نے اعلان کیا کہ اس کمرے کے اندھیرے میں ایک بت رکھا ہوا ہے اور ہر آدمی اس کمرے میں سے گزر کر اس بت کو گلے لگاۓ گا اور پھر باہر آنے کےبعد مجھ سے گلے ملے گا اور جو آدمی مجرم ہو گا وہ بت خود اس کو پکڑ لے گا اور اس طرح ہم اس مجرم کو پکڑ لیں گے ۔ یہ بات سنتے ہی ڈاکوؤں کے پیروں تلے زمین نکل گئی کہ یہ قاضی تو بڑا چلاک ہے ۔

اس کے بعد کمرے میں سے ایک ایک کر کے سب کو گزارا گیا جو بھی آدمی کمرے سے گزرتااور بت کو گلے سے لگا کر آتا تو وہ پھر قاضی صاحب کو بھی گلے ملتا تھا ۔ سب آدمی گزر گئے لیکن آخر پر تین آدمی بچ گئے ۔ قاضی صاحب نے ان کو کہا کہ اندر جاؤ اور بت کو گلے سے لگا کر دوسریطرف سے واپس آ جاؤ اور میرے گلے لگو ۔ جب ایک آدمی کمرے سے باہر آیا تو قاضی صاحب نے اسے گلے لگایا اور کہا کہ تم ایک طرف کھڑے ہو جاؤ پھر دوسرا اور اسی طرح تیسرا آدمی اس کمرے میں گیا اور بت کو گلے لگانے کے بعد واپس آ کر قاضی صاحب کے گلے لگا تو قاضی نے کہا تم تینوں ہی مجرم ہو ۔ یہ سن کر ڈاکو بڑے پریشان ہوۓ اور کہا کہ قاضی صاحب آپ نے تو کہا تھا کہ جو مجرم ہو گا بت اس کو پکڑ لے گا

لیکن بت نے تو ہمیں کچھ نہیں کہا ۔ پھرقاضی صاحب نے کہا کہ بیوقوف بھی بت نے بھی کسی مجرم کو پکڑا ہے ، وہ خود تو انسانوں کے محتاج ہوتے ہیں ، پھر ڈاکوؤں نے کہا کہ قاضی صاحب آپ کو کیسے پتہ چلا کہ ہم ہی اس لڑکی کے مجرم ہیں ۔ قاضی صاحب نے کہا کہ جب میں نے کہا تھا کہ جو مجرم ہو گابت اس کو پکڑ لے گا تو مجھے پورا یقین تھا کہ مجرم اس کو اندھیرے کمرے میں کبھی گلے نہیں لگاۓ گا کہ کہیں وہ ہمیں مہ پکڑ لے لیکن میں نے اس بت پر ایک خوشبو لگارکھی تھی جو بھی آدمی اس کو گلے لگاۓگا اور جب میں اس کو گلے لگاؤں گا تو اس کے جسم سے خوشبو آۓ گی لیکن جب میں نے تم تینوں کو گلے سے لگایا تو مجھے وہ خوشبو نہیں آئی ، اس لیے میں سمجھ گیا کہ تم تینوں نے بت کو گلے نہیں لگایا اور تم تینوں ہی مجرم ہو ۔ یہ سن کر تمام عدالتی قاضی سے بڑے متاثر ہوۓ ۔ پھر قاضی صاحب نے ان تینوں کو بھری عدالت میں سنگسار کرنے کا حکم دیا اور وہ لڑکی انصاف ملنے کے بعد واپس اپنے اس بزرگ موچی کے ساتھ چلی گئی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *