جلال الدین رومی اگر تم چاہتے ہو کہ جس سے تم محبت کرتے ہو وہ بھی تم سے محبت کرے تو تم ۔۔۔؟؟

ہررونے کے بعد بالاآخر ہنسی ہے ۔ مبارک انسان ہے وہ انجام پر نظر رکھے۔ جہاں کہیں آبِ رواں ہو، سبزہ ضرور ہوتا ہے ، جہاں کہیں اشک رواں ہو وہاں رحمت ضرور ہوتی ہے۔ اگر تم نمرود ہے تو آگ میں نہ جا اور اگر چاہتا ہے تو پہلے ابراہیم بن۔ کامل انسان اگر خاک لےلے سونا ہوجائے ، ناقص اگر سونا لےلے خاک ہوجائے۔ناقص کا ہاتھ، شیطان کا ہاتھ ہوتاہے۔ کیونکہ وہ دھوکے اور مکر کے جال میں ہوتاہے۔ سچا انسان چونکہ اللہ کا مقبول رہتا ہے

اس لیے کاموں میں اس کا ہاتھ خدا کا ہاتھ ہے۔ اے نازک دل ! تو آنسوؤں کا ذوق کیاجانے، اس لیے کہ تو گدھے کی طرح دھنسا ہو اہے۔ دانائی حلا ل لقمہ سے پیدا ہوتی ہے۔ اور عشق اور دل کی نرمی حلال لقمہ سے ہی جنم لیتی ہے۔ جب تو دیکھے کہ لقمہ سے ہمیشہ حسد، مکر ، جہالت اور غفلت پیدا ہوئی ہے تو اس کو حرام سمجھ۔ دل تجھے اہل دل کے کو چہ کی طرف کھینچتا ہے۔

اور جسم تجھے پانی ، مٹی کے قید خانہ کی طرف کھینچتا ہے۔ کسی دل والے سے لے کر دل کو خوراک دے ۔ جا! کسی نصیبہ والے سے نصیبہ تلاش کر۔ کسی دوست والے کا دامن تھا م لو تاکہ اس کی بزرگی سے تو بلند ی پالے ۔ نیک کی صحبت تجھے نیک بنائےگی ۔ بدبخت کی صحبت تجھے بدبخت بنائے گی۔ اگر تو غور کرے تو طالبوں کی نیاز مندی پیغمبری جو ہر کے شعلے ہیں۔

رشوت خور کو رشوت سے خوشی ہوتی ہے۔ تو اگر رشوت سے دست کش ہوجائے تو ہزاروں خوشیاں پائے گا۔ اگر تو شکر کی وجہ سے میٹھا ہے۔ تو ہوسکتا ہے۔ کہ وہ شکر کبھی تجھ سے غائب ہوجائے ۔ جب وفا کی تا ثیر سے تو خود شکر بن جائے تو شکر، مٹھاس سے کب جدا ہوتی ہے؟ جو بے وفا ہے، وہ خالص زہر ہے۔ عاشق جب اللہ کی جانب سے شراب کی غذا پالیتا ہے،

اے دوست! عقل اس جگہ بالکل بے کار ہوجاتی ہے۔ تھو ڑی عقل عقل عشق کی منکر ہوتی ہے۔ اگر سو خوبیوں کے ساتھ ایک عیب ہوتو وہ مصری میں لکڑی کی طرح ہوگا۔ اگر تو اپنے لیے آگے پیچھے کا گمان رکھتا ہے توتو جسم کا پابند ہے۔ اور جان سے محروم ہے ۔ نیچا اور اونچا، آگا اور پیچھا جسم کی صفتیں ہیں۔ پاک جان، بغیر سمتوں کے ہے۔

تو اگر وجود اور عدم سے گز رجائے تو ابدی زندگی حاصل کرلے۔ بارش کا دن ہے، رات کو چلاچل۔ اس بارش سے نہیں خدا کی بارش سے ۔ سمجھ لے ! اس بارش کے علاوہ اور بارش بھی ہے جس کو صرف جان کی آنکھ دیکھتی ہے۔ جان کی آنکھ کھول ، اچھی طرح دیکھ تاکہ اس بارش کا سبزہ صاف دیکھے۔ جو پھول اپنے اندر خوشبو دے رہا ہو تو وہ پھول تمام اسرار کا پتہ دیتا ہے۔

اس کی خوشبو منکروں کی ذلت کے ساتھ پردہ دری کرتے ہیں ۔ دنیا کا چکر کاٹتی ہے۔ آنکھ تو وہ ہے جو جائے پناہ کو دیکھ لے۔ اگر تو باطن کی آنکھیں کھول لے ، بہت جلد پسندیدہ سرمہ حاصل کرلے۔اگر تم چاہتے ہو کہ جس سے تم محبت کرتے ہو وہ بھی تم سے محبت کرے تو تم صرف محبت کا مطالبہ مت کرو بلکہ خود بھی اس سے پیار کرو۔

Categories

Comments are closed.