جس نے بھی آپ کا حق کھایا ہو وہ خود معافیاں مانگ کر واپس کرے گا

جس نے بھی آپ کا حق کھایا ہو وہ خود معافیاں مانگ کر واپس کرے گا اپنا حق لینے کا وظیفہ ۔یہ وظیفہ ان حضرات کے لئے ہے جن کا حق کوئی کھا چکا ہو۔یا نہ دے رہا ہو تو یہ وظیفہ کریں وہ معافی مانگے گا اور حق بھی ادا کرے گا۔ آپ نے کسی بھی وقت (مکروہ وقت کے علاوہ) دو رکعت نفل ادا کرنے ہیں اور ان دو رکعت میں چارسجدے ہوں گے تو ہر سجدے میں تین بار تسبیح سجدہ پڑھنے کے بعد آپ نے اللہ پاک کا یہ اسم مبارک 75 مرتبہ پڑھنا ہے اور اس کے بعد دعا کرلینی ہے۔انشاء اللہ آپ کا حق آپ کو مل جائے گا۔اسم مبارک یہ ہے یَامُذِلُّ۔رسول پاک ﷺ نے فرمایا: جس نے بھی اپنے کسی بھائ پر ظلم وزیادتی کی ہے اسے آج ہی اس کا کفارہ ادا کردے قبل اس کے کہ اس کے پاس درھم ودینا نہ ہوں

( یعنی قیامت کے دن ) اگر اس کی نیکیاں ہوں گی تووہ مظلوم کو دی جائيں گي اوراگرنیکیاں نہ ہوئيں تو مظلوم کے گناہ لے کے اس کے پر ڈال دیۓ جائيں گے اورپھر اسے جہنم میں ڈال دیا جاۓ گااوراسی طرح غصب شدہ چيز کی زیادتی بھی واپس کرنی لازم ہے چاہے وہ زیادہ شدہ اس کے ساتھ متصل ہویا منفصل ، اس لیے کہ وہ غصب شدہ چيز کی پیداوار ہے اوروہ بھی اصلی مالک کی ہوگي ۔اس لیے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان ہے 🙁 ظالم کے پیسنے کا کوئ حق نہیں ) سنن ترمذي وغیرہ امام ترمذی رحمہ اللہ تعالی نے اس حدیث کوحسن قرار دیا ہے ۔اوراگر اس چيز کےمنھدم کرنے یا اکھيڑنے سے زمین کونقصان ہوتوغاصب پر اس نقصان کا بھی جرمانہ ہوگا اوراسی طرح اسے کاشت کے آثار بھی ختم کرنے لازم ہیں تا کہ زمین کے مالک کو زمین صحیح سالم واپس ہوسکے ۔اوراسی طرح غاصب کے ذمہ غصب کےوقت سے لیکر مالک کوواپس کرنے تک کا کرایہ بھی ادا کرنا ہوگا یعنی

اس کراۓ کی مثل ادا کرے گا ، اس لیے کہ اس نے زمین کےمالک کواس مدت میں نفع حاصل کرنے سے ناحق روک رکھا تھا ۔اوراگر کسی نے چيز غصب کرکے روکے رکھی تو اس کی قیمت میں کمی واقع ہوگئي توصحیح یہ ہے کہ وہ اس نقص کا ذمہ دار ہوگا ۔اوراگر غصب کردہ چيز کسی ایسی چیز میں مل گئي جس میں تمیيز کرنا ممکن ہو مثلا گندم جومیں مل جاۓ ، توغاصب اسے علیحدہ کرکے واپس کرنے گا ۔اوراگر ایسی چيز میں مل جاۓ جس کی تمیز کرنی مشکل ہو مثلا گندم گندم میں ہی مل جاۓ توغاصب اسی طرح کی گندم اوراتنی غیرملاوٹ شدہ واپس کرے گا ۔اوراگر وہ اسی طرح کی چيز میں یا پھر اس سے بھی بہتر اوراچھی قسم میں یا پھر کسی اورجنس میں مل جاۓ جس کی تمیز کرنا مشکل ہو تو اس ملی ہوئ کوفروخت کر کے دونوں کو ان کے حصوں کے مطابق قیمت ادا کردی جاۓ گی ۔اوراگر اس صورت میں جس کی چيز غصب کی گئي ہواسےقیمت کم ملے توغاصب باقی نقصان کا ذمہ دار ہوگا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.