جب عورت باہر آتی ہے تو وہ اس کو کچھ دیتا ہے جب دوسری رات بھی یہ منظر دیکھاتوآپ ؓ کو شک ہوا

حضرت علی ؓ خلفائے راشدین میں چوتھے خلیفہ راشد اور ان دس خوش نصیب صحابہ ؓ میں سے ایک ہیں جن کو دنیا میں ہی جنت کی خوشخبری سنائی گئی آپ ؓ اللہ تعالیٰ حضور نبی کریمﷺ کی چہیتی صاحبزادی حضرت فاطمہ ؓ کے شوہر ہے آپ ؓ کے پاس سے ساحل کبھی خالی ہاتھ نہ لوٹا مکہ میں مقیم ہوئے تاکہ امانت داروں کو ان کی مانتیں لٹائیں

پھر دور دراز کے سفر کیلئے رات کے وقت خفیہ طور پر ہجرت فرمائی آپ ؓ انتہائی طاقتور انتہائی بہادر اور بے مثال شاہ سوار تھے ہر جابر وظالم شخص کی کمر کو توڑنے والے تھے جس سے مقابلہ ہوا اس پر غالب آئے او رجس کو بھی آپ ؓ نے للکارہ اس کو ق ت ل کیا ۔ایک مرتبہ رات کے اندھیرے میں حضرت علی ؓ مکہ سے روانہ ہوئے اور صبح کی روشنی ہونے سے پہلے مدینہ منورہ پہنچنے کا عز م کیا تاکہ رسالت ماب ﷺ کے ساتھ مل جائیں قباء میں ایک دو راتیں قیام کرنے کے دوران آپ ؓ نے دیکھا کہ کوئی آدمی رات کے وقت ایک مسلمان عورت کے پاس آتا ہے

گھر کا دروازہ کھٹکھٹاتا ہے عورت باہر آتی ہے وہ اس کو کچھ دیتا ہے اور عورت وہ چیز لے لیتی ہے حضرت علی ؓ کو اس عورت کے متعلق شک ہوا اس سے پوچھا کہ خدا کی بندی یہ آدمی کون ہے جو ہر شب تیرے گھر کے دروازے پر آکر دستک دیتا ہے اور تو باہر نکلتی ہے او رپھر تجھے کچھ دے کر چلا جاتا ہے میں اس آدمی کو نہیں جانتا لیکن تم تو ایک مسلمان ہو اور تمہارا خاوند بھی نہیں ہے ۔اس عورت نے کہا کہ وہ سہل بن حنیف بن وہب ؓ ہے انہیں علم ہے کہ میں ایک ایسی عورت ہوں جس کا کوئی نہیں ہے وہ رات کو اپنی قوم کی لکڑی کے بتوں کو توڑ کر لکڑیاں مجھے دے جاتا ہے تاکہ میں ان کو جلا کر کھانا پکا سکوں اللہ اکبر۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *