جادو کی دیگ

اچانک وہ اپنے قدم نہ سنبھال سکا اور اس کا پاؤں دیگ میں جا پڑا۔اب جادوئی دیگ کی وجہ سے 100 بادشاہ نکل آئے۔ ایک جیسے 100 بادشاہ میں ایک اصلی بادشاہ تھا، باقی جادوئی تھے۔وہ سب دیگ کے حصول اور لالچ کی وجہ سے ایک دوسرے سے لڑنے لگے،یوں سب نے ایک دوسرے کو جادوئی دیگ کے لالچ میں قتل کر دیا۔یوں لالچ کی وجہ سے اصل بادشاہ خود بھی زندہ نہ رہا۔لکڑہارے نے خاموشی سے اپنی جادوئی دیگ اٹھائی اور اسے لے کر اپنے گھر چل دیا۔پیارے بچو!لالچ کرنا بُری بات ہوتی ہے۔اگر کسی کے پاس آپ سے زیادہ اچھی چیز موجود ہے تو آپ اس سے حسد نہ کریں،بلکہ جو کچھ آپ کے پاس موجود ہے اس پر شکر ادا کریں۔ایک غریب لکڑہارا جنگل کے قریب رہتا تھا۔وہ روز جنگل میں جاتا،لکڑیاں کاٹتا اور اسے شہر میں لے جا کر بیچ دیتا تھا۔وہ اس سوچ کے ساتھ زمین بھی کھودتا تھا کہ کبھی شاید اس میں سے اسے خزانہ مل جائے اور اس کی زندگی سنور جائے۔اسی امید کے ساتھ وہ روزانہ اپنے ساتھ جنگل میں بیلچہ اور کلہاڑی بھی لے کر بھی جاتا تھا۔ایک دن خزانے کی تلاش میں زمین کھودنے لگا۔اچانک اسے ایک بہت بڑی دیگ نظر آئی۔

وہ اس دیگ کو دیکھ کر بہت خوش ہوا اور دل ہی دل میں سوچنے لگا،”لگتا ہے کہ اس دیگ کے اندر کوئی خزانہ چھپا ہوا ہے،جبھی تو اسے کسی نے جنگل میں درخت کے پاس زمین کھود کر دبایا ہوا ہے۔وہ خوشی خوشی دیگ کی طرف بڑھا تاکہ اس کے اندر ہاتھ ڈال کر خزانے کو دیکھ سکے۔اس نے جب دیگ میں ہاتھ ڈالا تو اسے پتا چلا کہ دیگ اندر سے بالکل خالی تھی،اس نے غصے میں دیگ اٹھا کر درخت کے پیچھے رکھ دی۔کچھ دیر وہ خزانے کی تلاش میں زمین کھودتا رہا،لیکن اس کے ہاتھ کچھ نہ آیا۔

اس نے غصے میں کلہاڑی اٹھا کر درخت کے پاس پھینک دی اور تھک ہار کر درخت کے قریب بیٹھ گیا۔اچانک اس کی نظر دیگ پر پڑی،اس نے دیکھا کہ وہ کلہاڑی اس دیگ میں جاگری تھی اور اب دیگ میں 100 کلہاڑیاں موجود تھیں۔وہ ان کلہاڑیوں کو دیکھ کر بہت حیران ہوا،ساتھ ہی اسے یہ بھی سمجھ میں آگیا کہ یہ دیگ کوئی عام سی دیگ نہیں ہے،بلکہ یہ کوئی جادوئی دیگ ہے،جبھی تو اس کی ایک کلہاڑی 100 میں تبدیل ہو گئی ہیں۔وہ خوشی خوشی اس دیگ کو اٹھا کر گھر میں لے آیا۔لکڑہارے نے اس دیگ کو ایک کمرے میں چھپا دیا۔رات کے وقت اس نے جادوئی دیگ کو دوبارہ آزمانے کیلئے اس میں آم ڈالا،تھوڑی دیر بعد اس نے دیکھا تو دیگ میں 100 آم موجود تھے۔اب تو اس کا یقین پختہ ہو گیا کہ یہ واقعی کوئی جادوئی دیگ ہے۔وہ اس دیگ سے سونے کے سکے وغیرہ نکال کر انہیں بیچتا رہا اور امیر ہو گیا۔امیر ہونے کے بعد وہ دوسرے غریبوں کی مدد کرتا تھا،اس کے پاس اگر کوئی غریب شخص آتا تھا تو وہ کبھی اسے خالی ہاتھ نہیں لوٹاتا تھا۔یہی وجہ ہے کہ وہ ملک بھر میں اپنی سخاوت کی وجہ سے مشہور ہو گیا،اس کے اچانک امیر ہو جانے اور جادوئی دیگ کی کہانی ہر جگہ پھیل گئی۔

اس ملک کے بادشاہ کے پاس بھی اس جادوئی دیگ کی خبر پہنچی۔بادشاہ بہت لالچی تھا۔اس کے پاس اپنا بہت سارا خزانہ موجود تھا،اس کے باوجود اسے مزید خزانے کی ہوس تھی۔اس نے سوچا کہ یہ دیگ اگر اسے مل جائے تو اس کے خزانے میں مزید اضافہ ہو جائے گا۔اس سوچ کے ساتھ بادشاہ نے حکم دیا کہ لکڑہارے اور اس کی دیگ کو محل میں لایا جائے۔خادم گئے اور بادشاہ کی حکم کی تکمیل کی اور لکڑہارے کو دیگ سمیت پکڑ کر محل میں لے آئے۔لکڑہارے سے بادشاہ نے وہ دیگ لے لی اور اس کا معائنہ کرنے لگا۔

Categories

Comments are closed.