تین یتیم بچے بھیک مانگنے بازار آۓ تو سب دوکانداروں نے انکو دھکے دے کر نکال دیا

ایک دفعہ ایک بازار میں بہت ہجوم لگا ہوا تھا ۔ اور چیزوں کی خرید و فروخت جاری تھی کہ اتنے میں تین یتیم بچے اس بازار میں داخل ہوۓ ۔ وہ تینوں ہی بے سہارا تھے ۔ ان کے والدین ایک حادثے میں وفات پا چکے تھے ، اور ان کی پرورش کرنے والا کوئی نہ تھا ۔ حالات سے مجبور ہو کر انہوں نے بھیک مانگنا شروع کر دی ۔ جب وہ تینوں بچے بازار

میں داخل ہوۓ اور باری باری دوکانوں پر بھیک مانگنے کے لیے گئے تو دکانداروں نے ان کو بھیک نہ دی کچھ دکانداروں نے تو ان کو گالیاں نکالنا شروع کر دیں اور کچھ دکاندار تو ان کو دھکے دے کر دوکانوں سے نکال رہے تھے ۔ وہ بیچارے بے سہارا بچے اس بازار کے درمیان بیٹھ کر اپنی قسمت پر رونے لگے اور تمام دکاندار ان کا تماشہ دیکھ کر ہنس رہے

تھے ۔ ابھی بچے رو ہی رہے تھے کہ اتنے میں تین عورتیں بازار میں داخل ہوئیں ۔ انہوں نے خوب بناؤ سنگار کیا ہوا تھا ۔ ان عورتوں کو دیکھ کر تمام دکاندار بہت حیران ہو رہے تھے ۔ کیونکہ وہ نہایت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل تھیں , ان عورتوں کو دکاندار عجیب و غریب اور گندی نظروں سے دیکھنے لگے ۔ اتنے میں تینوں عورتیں بچوں کے پاس آ کر

کھڑی ہو گئیں اور ان میں سے سب سے خوبصورت اور حسین و جمیل لڑکی نے آواز لگائی کہ اس بازار میں موجود کوئی ایسا آدمی ہے جو میرے ساتھ رات گزارے ۔ یہ بات سن کر تمام دکانداروں کے منہ میں پانی آگیا اور وہ دوڑتے ہوۓ اس لڑکی کی طرف آۓ ۔ پھر اس لڑکی نے کہا کہ سب میرے جسم کی قیمت لگاؤ اور جو زیادہ قیمت لگاۓ گا میں

اس کے ساتھ ساری رات زنا کروں گی ۔ لڑکی اتنی خوبصورت تھی کہ ہر کوئی زیادہ سے زیادہ ریٹ لگائے جا رہا تھا ۔ لیکن آخر کار ایک ایسا دکاندار تھا جس نے سو سونے کے سکے رات گزارنے کے لیے اس لڑکی کے ہاتھ میں رکھ دیے اور باقی دکاندار بس اس لڑکی کا منہ دیکھتے رہ گئے جو اس کے ساتھ ن گزارنے کے لئے ہاتھ میں پیسے لیے کھڑے رات

تھے ۔ اس کے بعد جو کام لڑکی نے کیا وہ دیکھ کر سب دوکانداروں کے پیروں تلے زمین نکل گئی ۔ اس لڑکی نے وہ سونے کے سو سکے زمین پر پھینک دیے , اور پاؤں سے ان کو مسلنے لگی ۔ لڑکی کی اس حرکت سے تمام دکاندار بڑے حیران ہوۓ ، اور جس نے سونے کے سو سکے دیے تھے وہ غصے میں آ گیا ۔ اور اس سے پوچھا کہ تم نے سونے کے سکوں کو

ایسے ہی زمین پر پھینک دیا جن کی قیمت کا تمہیں اندازہ بھی نہیں تو اس لڑکی نے جواب دیا کہ تم تو مجھے انسان لگتے ہی نہیں ۔ تمہارے اندر انسانیت نام کی کوئی چیز موجود ہی نہیں کیونکہ تم نے مجبور اور لاچار بچوں کو ایک سکا بھی نہ دیا ۔ لیکن میری ایک آواز پر ایک فاحشہ لڑکی کو اپنے ساتھ ایک رات گزارنے کے لیے سو سونے کے سکے

دے دیے ۔ میں ایک فحاشہ لڑ کی ہو کر مردوں کے ساتھ رات گزارتی ہوں اور ان سے پیسہ اکٹھے کر کے یتیم بچوں کی پرورش کرتی ہوں لیکن تمہارے پاس اتنا پیسہ ہونے کے باوجود بھی تم یتیموں پر خرچ نہیں کرتے اور ایک فاحشہ عورت پر خرچ کرنے کے لئے تیار ہو جاتے ہو ۔ اس لڑکی کی یہ بات سن کر تمام دکانداروں کے چہرے شرم سے جھک گئے ۔اس کے

بعد وہ لڑکی ان یتیموں کو اٹھا کر اپنے گھر لے جانے لگی ۔ جہاں وہ دوسرے یتیم بچوں کی پرورش کرتی تھی ۔ جب وہ جانے لگی تو تمام دکانداروں نے ایک ساتھ مل کر اس عورت کو ایک ہزار سونے کے سکے دیے تاکہ وہ مزید ان بچوں کی پرورش کر سکے اور اس عورت کا بھی شکر یہ ادا کیا کہ تم نے آج ہماری آنکھیں کھول دیں ۔

Categories

Comments are closed.