تم سے کون شادی کریں گا شکل دیکھی ہے تم نے اپنی کتنی بدصورت ہو تم ، اس کو سب الفاظ یاد آئے

م سے کون شادی کریں گا شکل دیکھی ہے تم نے   کتنی بدصورت ہو تم ، اس کو سب الفاظ یاد آئے آج اس کے لیے بہت خاص دن تھا وہ دلہن بنی بیٹھی تھی اسے ایسا لگا وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہے ہمیشہ سے اس کی کزن اس سے یہ ہی کہتی تھی تم سے کون شادی کریں گا تم تو کہی سے بھی خوبصورت نہیں ہوں تمہارا شوہر تو تمہیں دیکھ کر ڈر جائے گا

مگر اس کو یقین تھا کہ کوئی تو ہوگا جو بس کو اپنائے گا اس سے محبت کریں گا اس کی خوبصورتی نہیں اس کی سیرت دیکھے گا آج وہ دن آگیا تھاوہ دلہن کے لباس پہنے ہوئے تھی وہ کوئ پری نہیں لگ رہی تھی نہ ہی کوئی شہزادی مگر گندمی رنگ پر ہلکا سا میک اپ کیے ہوئے وہ اچھی لگ رہی تھی اس کے چہرے پر ایک کشش تھی ایک مصومیت تھی جو کیسی کو بھی اپنے طرف کر سکتی تھی نکاح شروع ہوگیا تھا کیا آپ کو نکاح قبول ہےمولوی نے دلہے سے پوچھا نہیں میں اس لڑکی سے شادی نہیں کروں گا اچانک حال میں یہ الفاظ گھومے سب لوگ حیرت سے دیکھنے لگا

یہ تم کیا کہہ رہے ہوں ، فیضان صاحب نے پوچھا میں نہیں کرنا چاہتا اس سے شادی شکل دیکھی ہے اس نے اپنی کہاں یہ اور کہاں میں ، اس نے سفارش سے کہا اگر اس سے شادی نہیں کرنی تھی تو نکاح کے لیے ہاں کیوں کہا ، فیضان صاحب نے کہا اتب میں نے اسے نہیں دیکھا تھا مگر اب میں اس سے اس سے شادی نہیں کر سکتا ، اس نے کہا اور وہاں سے چلا گیا غزل یہ سن کر رونے لگی اس کا دل کیا وہ یہاں سے غائب ہو جائےافنان بیٹا پلیز یہ شادی کر لو اب ہماری عزت تمہارے ہاتھ میں ہے ، فیضان صاحب نے ہاتھ جوڑ کر افنان سے کہا ماموں جان ایسا کر کے مجھے شرمندہ مت کریں مگر میں غزل سے شادی نہیں کروں گا ، افنان نے کہا بیٹا ایسا مت کہو ، پلیز اس سے شادی کر لو ، فیضان صاحب نے کہابھائی آپ فکر نہ کریں افنان غزل سے شادی کریں گا ، رابعہ نے کہا مگر امی ، افنان نے کچھ کہنا چاہاافنان اگر تم نے میری بات نہیں مانی تو ٹھیک نہیں ہوگا ، رابعہ نے دھمکی دیتے ہوئے کہا افنان بے بسی سے اپنی امی کو دیکھنے لگا

ایسا ہمیشہ کیوں ہوتا ہے مجھے میرے رنگ کی وجہ سے دھتکار دیا جاتا ہے آج میرے لیے اتنا خاص دن تھا مگر میرے رنگ کی وجہ سے پھر سے سب تباہ ہوگیا ، غزل نے روتے ہوئے کہا غزل بیٹا منہ ہاتھ دھو کر باہر آجاؤ سب انتظار کر رہے ہیں ، رابعہ نے آکر کہا کیوں پھوپھو اب کیا کوئی تماشا باقی ہے ، غزل نے روتےہوئے کہا نہیں بیٹا افنان شادی کے لیے تیار ہے ، رابعہ نے کہا غزل نے حیرت سے ان کو دیاایسے یقین نہیں آرہا تھا کہ افنان جیسا خوبصورت مرد اس سے شادی کر رہا ہے مگر پھر اپنی ہی بے بسی پر مسکرا دی وہ جانتی تھی افنان اس کو بالکل پسند نہیں کرتا اور شادی بھی مجبوری میں کر رہا ہے مگر وہ چاہ کر بھی کچھ نہیں کر پاتیوہ کیسی ربورٹ کی طرح چپ چاپ باہر آگئی اس کو کچھ بھی ہوش نہیں تھا کہ کب اس کا نکاح ہوا اور کب وہ افنان کے گھر پہنچی

یہ بے آ پ کی بہو نہیں یہ تو کہی سے خوبصورت نہیں لگتی ، آپ نے تو کہا تھا میں اپنے بیٹے کے لیے چاند جیسی بہو لاؤ گی تو اب کیا ہوگا کوئی ملی نہیں کیا ، ایک عورت نے طنزیہ انداز میں کہا رابعہ بیگم اس کی بات سن کر شرمندہ ہوں گی

کیا کر سکتی تھی یہ جو نصیب میں ہونا ہوتا تھا وہی ہوتا ہے ، ایک اور عورت نے کہا ان کی باتیں سن کر دلہن بنی غزل کی آنکھوں آنسوؤں آگئےبس کریں آپ لوگ آپ یہاں شادی دیکھنے آئے ہیں تو دیکھیں اور جائیں ، افنان نے غصے سے کہا

ہمیں بھی کوئی شوق نہیں ہے یہاں روکنے کا بہت غرور تھا تمہیں اپنے حسن پر مگر اب اس میں بھی داغ آگیا تمہیں بیوی کے وجہ سے ، ایک عورت نے طنزیہ انداز میں کہا افنان بنا کچھ کہے وہاں سے چلا گیاامی آپ کو یہ ہی لڑکی ملی تھی میرے لیے نہ یہ خوبصورت ہے نہ ہی پڑھی لکھی ہے آپ کو مجھ پر ترس نہیں آیا ایسا کرتے ہوئے ، افنان نے غصے سے کہا بیٹا میں کیا کرتی میں مجبور تھی ، رابعہ نے کہا آپ نے میری ساری زندگی برباد کر دی ہے اب میں اس داغ کو لے کر کہی بھی جا نہیں سکتا ، افنان نے کہا

بیٹا ایسا تو مت کہو ، رابعہ نے افسوس سے کہا تو اور کیا کروں میں اس کے ساتھ اپنی ساری زندگی نہیں گزار سکتا مجھے شرمندگی ہوتی ہے اس کو اپنی بیوی کہتے ہوئے ، افنان نے غصے سے کہا اور وہاں سے چلا گیا رابعہ افسوس سے اسے دیکھنے لگی

وہ جیسے ہی کمرے میں آیا غزل کو آرام سے بیٹ پر بیٹھا دیکھ کر اس کا دماغ گھوم گیا تمہاری ہمت کیسی ہوئی میرے کمرے میں آنے کی میں تمہارا وجود بھی برداشت نہیں کر سکتے جب بھی میں تمہارا چہرہ دیکھتا ہوں میں خود کو دنیا کا بد نصیب انسان سمجھتا ہوں جیس کے نصیب میں تم جیسی بیوی لکھی تھیتم نے کبھی اپنی شکل دیکھی ہے کہاں تم اور کہا میں افنان نے سخت لہجے میں کہا میں کہاں جاؤ ، غزل نے نم آنکھوں سے پوچھا اپنی اتنی بےعزتی پر یقین س کا ۔ دل کیا زمین پٹھے اور وہ اس میں سما جائے

میری طرف سے بھاڑ میں جاؤ ، افنان نے غصے سے کہا غزل چپ چاپ واشروم میں آئی اب اس سے اپنے آنسو کنٹرول نہیں ہورہے ہیں بیسن کے پاس کھڑی ہو کر وہ پھوٹ پھوٹ کر رو پڑیاتنی ہی آخر میرے ساتھ ہی ایسا کیوں ہوتا ہے کیا میں بدصورت ہو کہ کوئی مجھے دیکھنا بھی نہیں چاہتا غزل نے غور سے خود کو آئینے میں دیکھاسبز لمبے بال چھوٹی آنکھیں گلابی ہونٹ گندمی رنگ ، وہ اتنی بھی بدصورت نہیں تھی جانتا لوگ کہتے تھے وہ زیادہ گوری تو نہیں تھی مگر کیسی کے کم بھی نہیں آنکھیں تھی غزل کے ذہین میں افنان کا چہرہ آیا نیلی آنکھیں گورا رنگ سرخ ہونٹ ماتھے تک آتے ہوئے بال وہ کیسی شہزادے سے کم نہیں تھا

کہاں وہ شہزاد اور کہاں میں وہ کیوں مجھے کو دیکھے گا اس کے سامنے تو میں کچھ نہیں ہو غزل نے کہا اور طنزیہ انداز میں مسکرائی اس کی آنکھوں اذیت تھی ایک درد تھا خود کے لیے نفرت تھی….

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *