بے اولاد عور تیں خوشی سے جھوم اٹھی

بسم اللہ الرحمن الرحیم ایک مرتبہ ایک دہی بیچنے والی عورت سر پر دہی کی ٹھلیاں لے کر حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے پاس سے گزر رہی تھیں حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے اسے روک کر دریافت کیاد ہی پیچو گی عورت نے ٹھہر کر جواب دیا دہی بیچنے کے لیے ہی تو بوجھ اٹھائے پھر رہی ہوں میاں جی وہی قیمتی ہے تم اسے خرید بھی پاؤ گے حضرت بو علی شاہ رحمتہ اللہ علیہ

نے اس سے پوچھا کیا قیمت ہے عورت نے مسکرا کر کہا سونے کا ایک سکہ حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے اپنے زانوں کے نیچے سے ایک سکہ نکال کر عورت کی طرف اچھال دیا اور بے نیازی سے کہا جاؤ یہ سکہ بھی تمہارا اور دہی بھی تمہارا فقیر کو کچھ نہیں چاہیے عورت نے انہیں حیرت اور تعجب کی نظر سے دیکھا سکا اس کے ہاتھوں میں تھا اور وہ چلی گئی جاتے ہوۓ وہ عورت

ان کی طرف مڑ مڑ کر دیکھ رہی تھی اور اس کے بعد وہ چلی گئی وہ عورت چار روز بعد پھرتی ہوئی جھجکتے جھجکتے پہنچی حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے اسے دوبارہ ایک سکہ دے دیا ۔ اور پھر اس سے وہی کلام کیا کہ فقیر کو کسی چیز کی ضرورت نہیں ۔ اس کے بعد اس عورت کا یہ معمول ہو گیا ۔ کہ وہ آئیں اور سکہ لے کر واپس چلی جاتی ، ایک دن وہ عورت گھر پہنچ کر اپنے شوہر سے

ان کی تعریف کرتی جارہی تھی ۔ وہ عورت بے اولاد بھی تھی ۔ تو ایک دن ان کی تعریفیں کر رہی تھی . اس کے شوہر نے کہا تو اتنی میاں جی کی تعریف کرتی ہے اور سکہ بھی لے کر آتی ہے تو ان سے ایک بیٹا بھی مانگ لے وہ اللہ کے بہت ہی نیک بندے معلوم ہوتے ہیں کیوں نہ تو ان سے ایک بیٹا بھی مانگ لے اگر انہوں نے دعا کر دی تو یقینا ہم جو بے اولاد ہیں صاحب اولاد ہو جائیں

گے . دوسرے روز عورت نے حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ کے پاس پہنچ کر بیٹی کی تمنا ظاہر کی ۔ اور اس مسئلہ میں ان سے دعا کی درخواست کی . حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے کہا جاؤ ! اپنے محلے میں اعلان کر دو . کہ جس جس کے یہاں اولاد نہیں ہوتی . وہ وہ یہاں آۓ ہم ان کے لیے دعا کر میں گے کہ اللہ تعالی انہیں نیک اور صالح اولاد عطا فرماۓ . عورت

واپس چلی گئی ۔ اس نے گاؤں میں جاکر اعلان کروادیا ۔ تیسرے روز وہ سب ہی عورتوں کو لے کر حضرت بو علی شاہ قلندر رحمت علیہ کے پاس پہنچی ، حضرت بو علی شاہ قلند ر رحمتہ اللہ علیہ نے پان کی ایک گلوری کے ٹکڑے کیے اور ایک ایک ٹکڑا تمام عورتوں کو کھلا دیا ۔ ایک عورت کو چھوڑ کر ساری عورتوں نے پان کھا یا مقررہ وقت گزرنے کے بعد سب کی مرادیں پوری ہو گئیں مگر جس

عورت نے پان کا ٹکڑا نہیں کھایا تھا وہ بدستور بے اولاد ہی رہ گئی اولاد حاصل کر نے والی عورتوں نے عقیدت کے طور پر دہی کی ایک ایک ٹھلیہ حضرت ابو علی شاہ قلندر رحمۃ اللہ علیہ کی خدمت میں حاضر کی . حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے ان کی نذرانے کو قبول کر لیا ۔ ان عورتوں میں وہ عورت بھی شامل تھی جس نے پان کا ٹکڑا نہیں کھایا تھا اور جو اولاد سے محروم تھی وہ

بہت عمگین اور پریشان کھڑی ہوئی تھی حضرت بو علی قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے پوچھا تم غمگین کیوں ہو اس نے سارا ماجرا کہہ سنایا ۔ کہنے لگی آپ کا دیا ہوایان منہ میں رکھنے کی بجاۓ . میں ایک پتھر کے نیچے رکھ کر آگئی تھی ، حضرت بو علی شاہ قلندر رحمتہ اللہ علیہ نے اس سے فرمایا ، غمگین ہونے کی کیا بات ہے ? اللہ تعالی تیری بھی مراد پوری کر دے گا ۔ اس کے بعد ساری

عور تیں چلی گئیں اور آپ کی زبان سے دعا نکلی تھی کہ اللہ تعالی تیری بھی مراد پوری کر دے گا ۔ اس کی برکت سے اللہ تعالی نے اس عورت کو جو اولاد سے محروم رہ گئی تھی اسے بھی اولاد عطا فرما . دی

Categories

Comments are closed.