بیٹی کی پیدائش کے بعد بادشاہ کی بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ بیوی کے انتقال کے بعد بادشاہ کی نظر اپنی بیٹی پر پڑی جو کہ جوان ہو گئی تھی

یک بادشاہ کی بیوی بہت ہی خوبصورت تھی اور بادشاہ اس سے بہت زیادہ پیار کرتا تھا ۔ جب ان کے ہاں بیٹی پیدا ہوئی تو بیٹی کی پیدائش کے بعد بادشاہ کی بیوی کا انتقال ہو گیا ۔ بیوی کے انتقال کی خبر بادشاہ پر بجلی بن کر گری اور پھر وہ ہر وقت افسر دو رہنے لگا بیوی کی وفات کے بعد وہ زیادہ تر شراب کے نشے میں ڈوبار ہتا اور باقی وقت خوبصورت

کنیزوں کی صحبت میں گزار دیتا ۔ وہ شراب اور کہاب کے نشے میں اتنا غرق ہو گیا کہ اسے اپنی بیٹی کی خبر تک نہ رہی جو کہ اب تک محل کے ملازموں کے ہاتھوں پر ورش پارہی تھی ۔ وقت گزرتا گیا اور بادشاہ کی بیٹی ہیں سال کی ایک خو بصورت دوشیزہ بن گئی ۔ بادشاہ کی بیٹی بالکل اپنی ماں جیسی تھی ۔ ایک دن بادشاہ کی نظر اس پر پڑی تو وہ چونک گیا اور

کافی دیر تک اپنی بیٹی کو دیکھتا رہا جو جوان ہو کر بالکل اپنی ماں کی ہمشکل نکلی تھی ۔ بادشاہ چونکہ شراب کے نشے میں ڈوب کر اچھے برے کی پہچان بھول چکا تھا اسلیے اس کا دل اپنی ہی بیٹی پر آ گیا ۔ اس نے سوچا اب جو بھی ہو اس سے شادی ضرور کروں گا لیکن کیسے یہ بات اس کو پریشان کر رہی تھی ۔ وہ ایسا کام کر کے اپنی رعایا کو اپنے خلاف نہیں

کر نا چاہتا تھا اور یہ بھی جانتا تھا کہ یہ بہت بڑا گناہ ہے لیکن وہ عورتوں کے ساتھ گناہ کرنے کی عادت کے ہاتھوں مجبور تھا ۔ آخر کار اس نے علماء کرام سے اپنے حق میں فتوی لینے کا فیصلہ کر لیا اس نے سوچا کہ وہ کسی عالم کو سونے چاندی کا لالچ دے کر اپنے حق میں فیصلہ کر والے گا اور پھر اپنی بیٹی سے شادی رچا لے گا اور اس طرح گناہ بھی ‘

فتوی دینے والے کے سر چڑھ جاۓ گا ۔ بادشاہ نے ایک عالم دین کو بلوا کر کہا کہ میں اپنی بیٹی سے شادی کرنا چاہتا ہوں کیا یہ جائز ہے ۔ عالم نے کہا نہیں ہر گز نہیں یہ بہت ، بڑا گناہ ہے ، بادشاہ نے اس کو ہر طرح کا لالچ دیا لیکن عالم ان دین نے بادشاہ کے حق میں فتوی دینے سے انکار کر دیاد بادشاہ نے غصے میں آ کر اسے قتل کروا دیا پھر دوسرے

عالم سے کہا کہ اسکے حق میں فیصلہ دے لیکن اس نے بھی انکار کر دیا بادشاہ نے اسے بھی قتل کروا دیا اور اسی طرح پھر تیسرے عالم دین کو بھی قتل کر وا دیا ۔ آخر کار بادشاہ نے چوتھے عالم دین کو بلوا کر فتوی مانگا اور پوچھنے لگا کہ کیا میری بیٹی مجھ پر حلال ہو سکتی ہے میری بیوی بن سکتی ہے ۔ عالم دین نے کہا ہاں بن سکتی ہے اس میں کوئی مضائقہ

نہیں ہے ، بادشاہ یہ سن کر بہت حیران ہوا اور پوچھا کہ وہ کیسے عالم دین نے بادشاہ کی آنکھوں میں دیکھ کر کہا اے بادشاہ وقت اللہ تعالی کے نبی کا فرمان ہے کہ جب تم حیانہ کر و تو پھر چاہے جو مرضی کر و ۔ جب تم نے بے حیا بن کر سوچ ہی لیا ہے تو تم پر سب کچھ جائز ہے کیونکہ تم بے حیا بن چکے ہو ۔ اتنا سننا تھا کہ بادشاہ کو اپنی غلطی کا احساس ہوا

السلام اور وہ رونے لگ گیا اور اپنے گناہوں کی معافی مانگنے لگا ۔ اس دن کے بعد بادشاہ نے اپنے گناہوں سے سچی توبہ کر لی سچ بات یہ ہے کہ اللہ کے ولی حق بات کہنے سے نہیں ڈرتے چاۓ ان کی جان ہی کیوں نہ چلی جاۓ ۔

Categories

Comments are closed.