بیٹی کو رنگے ہاتھ زنا کرتے دیکھ کر باپ کا اپنا

رانے زمانے میں ایک بادشاہ زنا اور بد کاری جیسے گندے کاموں کے سخت خلاف تھا ۔ اس بادشاہ کی ایک بہت ہی خوبصورت اور حسین و جمیل بیٹی تھی ۔ شہزادی کے حسن پر سب درباری عاشق تھے شہزادی کے چلنے کے انداز کو دیکھ کر بڑے بڑے شہزادے اپنے دوڑتے ہوئے گھوڑوں کا رخ موڑ دیتے تھے ۔ کیونکہ شہزادی کا چہرہ دودھ کی طرح سفید اور اس کی آنکھیں ہیرے جیسی چک دار تھی ، جو بھی شہزادی کو دیکھتا اس پر پہلی ہی نظر میں فدا ہو جاتا ۔

اب شہزادی جوان ہو چکی تھی لیکن بادشاہ سلامت نے اس کی شادی ابھی تک کسی کے ساتھ نہیں کی تھی ۔ شہزادی اپنے منہ سے اپنے باپ کو کچھ کہہ نہیں سکتی تھی لیکن .آہستہ آہستہ اس کے دل میں کسی نامحرم کے ساتھ بد کاری کرنے کی خواہش پیدا ہونے لگی ۔ ایک دن شہزادی بادشاہ کی غیر موجودگی میں محل کی چھت پر گئی اور وہاں جا کر پوری سلطنت کا نظارہ کر رہی تھی کہ اچانک شہزادی کی نظر جنگل میں ایک جو نپڑی پر پڑی جس کے آگے ایک نوجوان بغیر قمیض کے ورزش کر رہا تھا ۔ اس نوجوان کے گورے جسم کو دیکھ کر شہزادی کو اس کے ساتھ زنا کرنے کی خواہش پیدا ہوئی لیکن بادشاہ سلامت نے شہزادی کو محل سے باہر ایک قدم بھی رکھنے کی اجازت نہیں دی تھی ۔ شہزادی تلوار بازی اور نشانہ بازی کی بھی بہت تھی ایک رات بستر پر لیٹے ہوۓ شہزادی اس نوجوان کے ساتھ بد کاری ماہرکرنے کے منصوبے بنا رہی تھی کہ اچانک اس کے ذہن میں ایک ترکیب آئی اور اس نے اپنی نیام سے تلوار نکالی اور محل کے دروازے پر پہنچ گئی ۔

جب سپاہیوں نے شہزادی کو روکنے کی کوشش کی تو شہزادی نے اسی وقت ان دونوں کی گردن اتار دی اور خود محل سے نکل کر اپنے گھوڑے پر سوار ہوئی اور اس جھونپڑی کے دروازے پر پہنچ گئی جو نپڑی کے دروازے پر پہنچی تو گھوڑے کی آہٹ کو سن کر اس نوجوان کی آنکھ کھل گئی اور وہ نوجوان بہت ڈر گیا کہ آخر اس وقت کون ہو سکتا ہے ، جیسے ہی اس نوجوان کی آنکھ کھلی تو اس نے اپنے سامنے شہزادی کو پایا ۔ اس کے بعد شہزادی نے اس کی گردن پر تلوار رکھی اور اسے کہنے لگی کہتمہیں میرے ساتھ زنا کرنا ہو گا , نوجوان بڑا حیران ہوا کہ پوری سلطنت میں صرف میں ہی اس کام کے لیے ملا تھا تو شہزادی نے کہا کہ جب میں نے تجھے ورزش کرتے ہوۓ دیکھا تو میں تیرے جسم کی دیوانی ہو گئی اور میرے اندر تجھ سے زنا کرنے کی خواہش پیدا ہو گئی پھر میں نے ٹھان لیا تھا کہ تجھ سے اپنی خواہش پوری کر کے رہوں گی ۔ پھر شہزادی نے اپنے متجر سے اس کے کپڑے پھاڑ دیے اور اس کے ساتھ بد کاری شروع کر دی , ساری رات اس نوجوان کے ساتھ زنا کرنے کے بعد وہ محل میں پہنچ گئی جب صبح ہوئی اور بادشاہ کی آنکھ کھلی تو وزیر نے بادشاہ سلامت کو بتایا کہ حضور محل کے دروازے کے دو سپاہیدروازے پر مرے پڑے ہیں ۔ بادشاہ یہ سن کر بڑا حیران ہوا کہ دو سپاہیوں کو کون مار سکتا ہے پھر بادشاہ نے سوچا کہ شاید کوئی ڈاکو آۓ ہوں گے

اور انھوں نے مزاحمت کر کے ہمارے دو سپاہی مار دیے لیکن جب دوسری رات ہوئی تو پھر شہزادی اپنی تلوار لے کر دروازے پر گئی اور پھر دو سپاہیوں کو مار کر وہاں سے اس نوجوان کی جھونپڑی میں گئی اور ساری رات اس کے ساتھ بد کاری کرتی رہی اور پھر اند ھیرا ختم ہونے سے پہلے محل میں لوٹ آئی ۔ دوسرے دن بھی بادشاہ کو خبر ملی تو بادشاہ بڑا حیران ہوا کہ آخر ہر رات ہمارے سپاہیوں کو کون مار رہا ہے ۔ انہی سوچوں میں پر یشان بادشاہ بیٹھا ہوا تھا کہ وزیر نے خبر دی کہ بادشاہ سلامتشہزادی گر کر بے ہوش ہو گئی ہے ۔ جب شاہی حکیم کو بلایا گیا تو اس نے بادشاہ سلامت کو اکیلے میں آ کر بتایا کہ شہزادی حاملہ ہو گئی ہے ۔ یہ سن کر بادشاہ غش کھا کر گیا اور بے ہوش ہو گیا ۔ ہوش آنے پر بادشاہ نے شہزادی سے پوچھا تو شہزادی ا نے صاف انکار کر دیا اور کہا کہ مجھے تو کسی مرد نے چھوا تک نہیں لیکن بادشاہ کو معلوم تھا کہ شہزادی جھوٹ بول رہی ہے ۔ بادشاہ شہزادی کو کچھ کہہ بھی نہیں سکتا تھا کیونکہ وہ بادشاہ کی اکلوتی بیٹی تھی اس کے بعد بادشاہ سلامت نے اپنے محل کی حفاظت کے لئے بہت سارے سپاہی نافذ کر دیے ۔ ایک رات تو شہزادی محل سے باہر نہ گئی

لیکن جب دوسری رات ہوئی تو پھر شہزادی اس نوجوان کےساتھ اپنی خواہش پوری کرنے کے لئے تڑپنے لگی ۔ بادشاہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا کہ شہزادی نے کس کے ساتھ زنا کیا ہے انہی سوچوں میں گم بادشاہ سلامت بیٹھا ہوا تھا کہ وزیر نے کہا کہ حضور میرے پاس ایک ترکیب ہے جس پر عمل کر کے ہم پتہ لگا سکتے ہیں کہ شہزادی کس کے ساتھ زنا کرتی ہے ۔ بادشاہ نے کہا کہ وہ کون سی ترکیب ہے جس سے ہم اس بد بخت کا پتا لگا سکیں ۔ وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ کو شہزادی کی حرکات پر نظر رکھنی ہو گی کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ شہزادی محل کے دروازے سے باہر جاتی ہے کیونکہ محل میں موجود کوئی آدمی بھی یہ کام نہیں کر سکتا ۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت نےشہزادی کی حرکات پر نظر رکھنا شروع کر دی ، جب رات ہوئی تو شہزادی پھر اس نوجوان سے اپنی خواہش پوری کرنے کے لیے تڑپنے لگی اور اس نے اپنی نیام سے تلوار نکالی اور چپکے سے محل سے نکل گئی لیکن بادشاہ کو معلوم ہو گیا کہ شہزادی کسی سے باہر زنا کرنے کے لیے جاتی ہے ۔ اس کے بعد بادشاہ گھوڑے پر سوار ہو کر باہر نکلا اور شہزادی کا پیچھا کرتے کرتے اس جھونپڑی کے دروازے پر پہنچ گیا ۔ جیسے ہی دروازے پر پہنچا تو دیکھ کر بادشاہ سلامت کے پیروں تلے سے زمین نکل گئی

کیونکہ شہزادی اس نوجوان کی گردن پر تلوار رکھ کر اس سے زنا کر رہی تھی ۔ بادشاہ سلامت کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور اس نے شہزادی کوکہا کہ میں نے ساری زندگی کسی کی ماں بہن اور بیٹی کو بری نظر سے نہیں دیکھا لیکن تم نے میری عزت کو خاک میں ملا دیا اس کے بعد بادشاہ نے اس نوجوان کی طرف دیکھا تو اس نے کہا کہ بادشاہ سلامت میں بہت مجبور تھا شہزادی ہر رات میرے پاس آتی ہے اور اور میری گردن پر تلوار رکھ کر زبردستی میرے ساتھ زنا کرتی ہے ۔ پھر جب بادشاہ سلامت شہزادی اور نوجوان کو لے کر محل میں آیا تو بادشاہ کے ایک بزرگ وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت اگر آپ برانہ مانیں تو ایک بات کہنا چاہتا ہوں بادشاہ نے کہا کہ کہو کیا بات ہے ، وزیر نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ یاد کریں کہ آپ نے زندگی میں کبھی کسی نامحرم لڑکی کے ساتھ زناکیا تھا ۔

بادشاہ نے اپنے ماضی میں نظر دوڑائی تو اس کو ایک واقعہ یاد آیا کہ جب میں جوان تھا تو ایک دفعہ ایک گاؤں سے گزرتے ہوۓ مجھے ایک لڑکی پسند آ گئی اور میں نے اس غریب کی بیٹی کے ساتھ زبردستی زنا کیا تھا اور پھر وہاں سے چلا گیا ۔ لیکن اس کے بعد میں نے اس گناہ کی توبہ نہیں کی ، پھر بزرگ بولا بادشاہ سلامت ز نا انسان پر قرض ہوتا ہے اور آج آپ نے وہ قرض چکا دیا اگر آپ نے اسی وقت اپنے گناہ کی معافی مانگ لی ہوتی تو شاید آپ کو یہ دن دیکھنا نہ پڑتا ۔ پھر اس بزرگ نے کہا کہ بادشاہ سلامت آپ نے جس لڑکی کے ساتھ زنا کیا تھا وہ میری بیٹی تھی اور جس نوجوان کے ساتھ شہزادی زنا کرتی ہے وہ میرا بیٹا ہے کل آپ نے میریعزت کے ساتھ کھلواڑ کیا تھا آج اس کا قرضہ میرے بیٹے نے چکادیا ۔ اس کے بعد بادشاہ سلامت نے اپنے تمام گناہوں سے معافی مانگ لی اور اس نوجوان کی شادی شہزادی سے کر دی اور اپنے ملک میں یہ قانون بنادیا کہ اگر کوئی بھی انسان زنا کرتے ہوئے پکڑا گیا تو اس کو محل کے سامنے سنگسار کر دیا جاۓ گا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *