بیٹی جہاں کام کرتی تھی وہاں پر کسی وڈیرے کے بگڑے ہوۓ بیٹے کا دل میری بیٹی پر آ گیا

و ہفتے پہلے ایک نئی عورت کو ہمارے ہاں کام کرنے کے لیے رکھا گیا ۔ جس کا نام زاہدہ تھا ۔ میں پچھلے تین دن سے نوٹ کر رہا تھا کہ زاہدہ اپنے ساتھ ایک نوجوان لڑکی جو بظاہر خوبصورت اور صحت مند بھی تھی اسے لاتی اور باہر لان میں درخت کے سائے میں درخت کے ساتھ ہی باندھ کر صفائی کرنے لگتی تھی ۔ اور جب باہر والی صفائی ختم ہو

جاتی تو اٹھ کر اس نوجوان لڑکی کو کھولنے کے بعد پانی والے تل پر لے جاتی اور اس نوجوان لڑکی کے ہاتھ پیر دھونے کے بعد پھر اپنے ہاتھ پیر دھوتی تھی ۔ اور نوجوان لڑکی کے کپڑے جھاڑنے کے بعد گھر کے اندرونی حصے میں آ جاتی اور بیٹی کو دروازے کی اندر والی سائیڈ پر باندھ کر کام کرنے لگتی تھی ۔ میرے لئے سب سے زیادہ حیرت کی بات میں تھی کہ جہاں وہ عورت اس نوجوان لڑکی کو بٹھاتی تھی ۔ وہ وہیں چپ چاپ بیٹھی رہتی اور اپنے آپ میں مگن رہتی ۔ پتہ نہیں پھر بھی کیوں آنٹی زاہدہ اسے باندھ کر رکھتی تھی ۔ آخر کار آج میں نے آنٹی زاہدہ سے اس نوجوان لڑکی کو باندھ کر رکھنے میں پی حکمت کے بارے میں پوچھ لیا ۔ ، مگر جب آنٹی زاہدہ نے مجھے سب کچھ بتا دیا تو میرے

رونگٹے کھڑے ہو گئے میں نے جب آنٹی زاہدہ سے بات سنی تب سے پچھتا رہا ہوں کہ کاش ایسا سوال نہ پوچھتا ۔ آنٹی زاہدہ نے جو کچھ بھی بتایا ۔ آۓ آپ بھی سنے آنٹی زاہدہ کی زبانی ۔ آنٹی زاہدہ نے بتایا کہ میرے شوہر ایک بس میں کنڈکٹر تھے اور ایک حادثے میں وہ فوت ہو گئے ۔ میرا ایک بیٹا ہے جس کا دماغی توازن بھی ٹھیک نہیں اور وہ جسمانی طور پر بھی معذور ہے ، میری دو جڑواں بیٹیاں تھیں ، میری فیملی کا آپس میں بہت زیادہ پیار محبت تقاد پھر نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ۔ میرے شوہر کی وفات کے بعد چونکہ بیٹا معذور تھا ۔ لہذا کمانے کی ذمہ داری بھی مجھ پر یا میری بیٹیوں پر آئی تھی ۔ میں نے یہ ذمہ داری اٹھائی مگر میں اتنا نہ سما سکی کہ میری بیٹیاں تعلیم

جاری رکھ سکتیں لہذا میری بیٹیوں نے بھی پڑھائی چھوڑ دی اور چند دنوں کے بعد میری بیٹیاں مجھ سے کہنے لگیں کہ وہ بھی میرے ساتھ کام پر جایا کریں گی ۔ مگر میری بیٹیاں جوان تھیں ۔ ان کا بھائی معذور تھا ۔ باپ فوت ہو چکا تھا ۔ اور معاشرہ درندوں سے بھرا پڑا ہے ۔ لہذا میں نے بیٹیوں کو سمجھا لیا کہ آپ کوئی اور اچھی ملازمت ملے گی تو کر لینا یہ کام آپ کے کرنے والا نہیں ہے ۔ کچھ عرصہ کے بعد میری ایک بیٹی ایک سٹور پر کام کرنے کے لئے لگ گئی جبکہ دوسری بیٹی گھر پر رہتی اور گھر کے کام کرتی تھی ۔ چونکہ گھر میں اب ہم دونوں ماں بیٹی کی کمائی آر ہی تھی لہذا گزارا بھی بہت اچھا ہو رہا تھا ۔ مگر تقدیر کو ہم سے ایک اور امتحان لینا تھا ۔ میری بیٹی جہاں پر کام کرتی

تھی وہاں کسی وڈیرے کا ایک بگڑا ہوا بیٹا بھی کام کرتا تھا ، جس کا دل میری بیٹی پر آ گیا تھا ۔ میری بیٹی کو اپنی حیثیت آبرو کا اچھی طرح اندازہ تھا ۔ اس بگڑے ہوئے لڑکے کے لاکھوں لالچ دینے کے باوجود بھی جب میری بیٹی نے انکار کر دیا اور تنگ آ کر مجھے بتا دیا تو پھر میری بیٹی جہاں پر کام کرتی تھی میں نے وہاں کی انتظامیہ کو جا کر سارا ماجرہ بنا دیا ۔ اور پھر انتظامیہ نے اس لڑکے کی سٹور میں اینٹری بند کر دی ۔ اس لڑکے نے غصے میں آ کر ۔ روڈ کراس کرتی ہوئی میری بیٹی کو گاڑی کے ساتھ کچل کر مار ڈالا ۔ میری بیٹی کی موت کا صدمہ مجھ سے زیادہ میری دوسری بیٹی کو ہوا ۔ وہ ذہنی مریض بن گئی اور آہستہ آہستہ حواس بھی کھو بیٹھی ۔ میں نے قانونی کاروائی

کی کوشش کرنا چاہی مگر پولیس کے بقول غلطی میری بیٹی کی تھی لہذا اگر میں قانون سے مدد لیتی تو مجرم ٹھہرتی اور مجھے جرمانے کے علاوہ سزا بھی ہو جاتی ۔ میں نے ڈر ے کے مارے ہاتھ جوڑ کر بیٹی کی لاش لی اور مانگ تانگ کر بیٹی کے کفن دفن کا انتظام کر کے اسے دفنا دیا ۔ آنٹی بات سنا کر رونے لگی اور میں بات سن کر اور ریاست جاری رکھ سکتیں لہذا میری بیٹیوں نے بھی پڑھائی چھوڑ دی اور چند دنوں کے بعد میری بیٹیاں مجھ سے کہنے لگیں کہ وہ بھی میرے ساتھ کام پر جایا کریں گی ۔ مگر میری بیٹیاں جوان تھیں ۔ ان کا بھائی معذور تھا ۔ باپ فوت ہو چکا تھا ۔ اور معاشرہ درندوں سے بھرا پڑا ہے ۔ لہذا میں نے بیٹیوں کو سمجھا لیا کہ آپ کوئی اور اچھی ملازمت ملے گی تو

مدینہ کا انصاف دیکھ کر رونے لگا ۔ جبکہ ہم دونوں کو دیکھ کر آنٹی کی ذہنی ابنارمل بیٹی مسکرانے لگی اور یقین کریں اس کی معصوم مسکراہٹ دیکھ کر میں سسکیاں لینے لگا ۔ کیونکہ اس کی مسکراہٹ میں چھپا درد ہی کچھ ایسا تھا کہ کوئی پتھر دل بھی دیکھتا تو دھاڑیں مار مار کر رونے لگ جاتا ۔ آنٹی نے مزید یہ بھی بتایا کہ ان کا معزور بیٹا گھر میں ہی رہتا ہے ، مگر بیٹی کو وہ اپنی نظروں سے ۔ اوجھل نہیں کرتی ۔ آنٹی کہتی ہیں مجھے لگتا ہے کہ جب میں اپنی دوسری بیٹی کو بھی آنکھوں سے دور کروں گی تو کوئی درندہ اس کی عزت بھی تار تار کر دے گا اور اگر نہ کر سکا تو دوسری بیٹی کی طرح جان سے مار دے گا ۔ اور دوسری بیٹی کو کھونے کے بعد بھی میں بیٹی کے ساتھ مر نہیں سکوں گی کیوں کہ معزور بیٹے کے لئے زندہ رہنا میری مجبوری بن جاۓ گی ۔ لہذا جب تک میری سانسیں چلتی ہیں تب تک میں اب کوئی اور اولاد نہیں کھونے دے سکتی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *