بیٹوں کی خواہش رکھنے والے بادشاہ نے 12 عورتوں سے ہمبستری کی لیکن ہر عورت

سی زمانے میں ایک بادشاہ تھا ۔ وہ جب بھی شادی کرتا ہے تو اس کے ہاں بیٹی پیدا ہوتی , وہ ہر مرتبہ یہی سوچ کر شادی کر تا تھا کہ اس مرتبہ لڑکا ہوگا ۔ اس نے بہت سارے طبیبوں سے رابطہ بھی کیا اور ان کے مشورے بھی لیے لیکن ہر بار لڑکی ہی پیدا ہوتی تھی ۔ اس طرح کرتے کرتے اس نے بارہ شادیاں کر لیں اور اس کی بارہ بیٹیاں ہو گئیں ۔ اب وہ اپنی بیٹیوں کے لیے بہت پریشان

رہتا تھا ۔ کیونکہ بادشاہ کی بارہ بیٹیاں ہی بہت خوبصورت تھیں ۔ اور اس کو ان کی فکر لگی رہتی تھی ۔ وہ ایک ہی کمرے میں سوتی تھیں اور رات کو بادشاہ خود باھر سے دروازہ بند کر دیتا تھا ۔ بادشاہ کو ہر وقت یہی ڈر رہتا تھا کہ لڑکیوں کو کہیں کوئی کوئی تکلیف نہ پہنچ جاۓ ، اس لیے وہ ہر رات دروازہ بند کر دیتا اور اگلی صبح سویرے کھول دیتا ۔ ایک دن صبح جب بادشاہ دروازہ کھولنے آیا تو یہ دیکھ کر بہت حیران ہوا کہ سبھی لڑکیوں کے جوتے ایک قطار میں رکھے ہوۓ تھے اور ہر جوتے کی ایڑھی گھسی ہوئی تھی ، اور ساتھ مٹی بھی لگی ہوئی تھی ۔ بادشاہ سمجھ گیا کہ لڑکیاں ضرور رات کو کہی گئی تھیں ، مگر لڑکیاں کیوں باہر گئی ہوں گی ۔ یہ اس کی سمجھ میں نہ آیا ۔ یہ سلسلہ کافی دن چلتا رہا اور بادشاہ پریشان رہنے لگا ۔ اس نے لڑکیوں سے

پوچھنا مناسب نہ سمجھا , اور آخر کار مجبور ہو کر اس نے اعلان کیا ۔ کہ جو کوئی بھی معلوم کرے گا کہ شہزادیاں رات کو کہاں جاتی ہیں ، تو اس کی شادی اس کی مرضی کی شہزادی سے کر دی جائے گی جو اسے پسند ہو گی ۔ مگر شرط یہ ہے کہ تین دن کے اندر معلوم کر کے بتاۓ ورنہ اسکو پھانسی دی جاۓ گی ۔ کچھ دنوں کے بعد ایک شہزادہ آیا اور اپنے آپ کو اس کام کے لیے پیش کیا ۔ بادشاہ نے اس کا استقبال بڑی دھوم دھام سے کیا ۔ اور اس کو کمرہ دکھا دیا ۔ کمرے کے پاس ہی شہزادے کے سونے اور رہنے کا انتظام کیا گیا ۔ تاکہ نزدیک سے شہزادیوں کی نگرانی امچی طرح کر سکے ۔ رات کو شہزادیوں کے کمرے کا دروازہ کھلا چھوڑ دیا گیا تاکہ شہزادہ ان کے سونے جاگنے کو اچھی طرح دیکھ سکے لیکن ابھی تھوڑی ہی رات گزری تھی کہ شہزادے کی آنکھوں

میں نیند بھر آئی اور وہ بے خبر ہو کر سو گیا ۔ شہزادیاں ہر رات کی طرح اس رات بھی گھومنے چلی گئیں ۔ جب صبح سویرے بادشاہ آیا تو اس نے دیکھا کہ لڑکیوں کے جوتوں پر گرد پڑی ہوئی تھی ۔ اور ایڑیاں بھی گھسی ہوئی تھی ۔ بادشاہ نے شہزادے سے پوچھا کہ بتاؤ شہزادیاں رات کو کہاں گئی تھیں تو شہزادہ کوئی جواب نہ دے سکا ۔ دوسری اور تیسری رات بھی شہزادیاں گھومنے گئیں اور شہزادہ ہر رات سوتا رہا ۔ آخر کار چوتھے دن شہزادے کو پھانسی دے دی گئی ۔ اس کے بعد بہت سے شہزادے آۓ مگر کوئی بھی یہ معلوم نہ کر سکا کہ شہزادیاں رات کو کہاں جاتی ہیں اور کب جاتی ہیں ۔ ایک دن ایسا اتفاق ہوا کہ ایک غریب سپاہی سڑک سے گزر رہا تھا ۔ اس نے بھی بادشاہ کا اعلان سنا ہوا تھا ۔ وہ یہ سوچ رہا تھا کہ کسی طرح یہ بھید معلوم ہو جاتا کہ شہزادیاں رات کو کہاں جاتی ہیں تو زندگی بڑے آرام سے گزر جاتی لیکن یہ بھید کیسے معلوم ہو گا ۔ وہ اس سوچ میں چلا جا رہا تھا کہ راستے میں اسے ایک بڑھیا ملی ۔ بڑھیا نے پوچھا کہ سپاہی کہاں جا رہے ہو تو سپاہی نے کہا کہ یہ تو مجھے بھی نہیں معلوم , مگر دل یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح شہزادیوں کے گھومنے کا بھید معلوم ہو جاتا تو بہت اچھا ہو جاتا ۔ بڑھیا نے کہا کہ یہ کوئی مشکل کام نہیں

ہے ۔ بس تم ہمت کر لو تو بیڑا پار ہے ۔ میں تم کو سارا ماجرا بتاتی ہوں ۔ دیکھورات کو کھانے کے بعد لڑکیاں شراب بھجوائیں گی تم اس کو نہ پیار کیونکہ وہ پینے سے نیند بہت گہری آتی ہے ۔ بس تم ناٹک کر کے سو جانا اور یہ ظاہر کرنا کہ تم گہری نیند میں سورہے ہو تاکہ شہزادیاں نڈر ہو کر گھومنے جاسکیں ۔ اور یہ لبادہ بھی اپنے ساتھ لے جاؤ اس میں خاص بات یہ ہے کہ جب تم اس کو پہن لو گے تو تمہیں کوئی بھی نہیں دیکھ سکے گا اور تم سب کو دیکھ سکو گے ۔ جب بڑھیا نے سب کچھ سپاہی کو سمجھا دیا تو اس کی ہمت اور بڑھ گئی اور وہ خوشی خوشی بادشاہ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ میں معلوم کروں گا کہ شہزادیاں رات کو کہاں گھومنے جاتی ہیں ۔ بادشاہ نے سپاہی کو عمدہ کپڑے پہناۓ اور شہزادیوں کے کمرے کے پاس جا کر اس کو سونے کا کمرہ بتا دیا ۔ شام ہوتے ہی ایک شہزادی شراب کا پیالہ لے کر سپاہی کے پاس آئی ۔ اور ہنس کر پینے کو کہا ۔ سپاہی نے اپنے حلق کے پاس ایک تھیلی باندھ رکھی تھی ، پھر اس نے بڑی ہوشیاری سے شراب تھیلی میں انڈیل لی اور لیٹے ہی سونے کا بہانہ کر لیا ۔ شہزادیاں یہ دیکھ کر بہت خوش ہوئیں ۔ آدھی رات کے قریب شہزادیاں اٹھیں کپڑے پہنے , بال سنوارے اور گھومنے کے لیے تیار ہو گئیں ۔ سپاہی اپنی چار پائی

پر لیٹا یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا ۔ شہزادیاں ہنستی ہوئی کمرے سے نکلیں اور گھومنے کے لیے چل پڑیں ۔ سپاہی بھی چپکے سے اٹھا اور لبادہ اوڑھ کر شہزادیوں کے پیچھے چل پڑا ۔ تھوڑی دور چلنے کے بعد سب سے چھوٹی شہزادی بولی کہ مجھے ڈر لگ رہا ہے ، نہ جانے آج کیا بات ہے ۔ بڑی شہزادی نے کہا کہ تم بس یوں ہی ڈر رہی ہو کوئی بات نہیں ۔ یہ کہہ کر تمام شہزادیاں ہنستی ہوئی ایک باغ میں پہنچیں ۔ باغ کے تمام درخت نہایت خوبصورتی سے برابر لگے ہوئے تھے ۔ پتیاں چاندی کی طرح سفید تھیں ۔ سپاہی نے ایک درخت سے چھوٹی سی شاخ توڑ لی ۔ شاخ توڑنے سے آواز پیدا ہوئی ۔ چھوٹی شہزادی سہم گئی اور دوسری بہنوں سے کہنے لگی کیا تم لوگوں نے یہ آواز نہیں سنی ۔ آج ضرور کچھ نہ کچھ ہونے والا ہے ، مجھے تو بڑا ڈر لگ رہا ہے ۔ بڑی شہزادی نے پھر ہنس

کر اس کی بات کو ٹال دیا اور کہا کہ کچھ نہیں بس تم کو کوئی وہم ہو گیا ہے ۔ چلتے چلتے شہزادیاں ایک دوسرے باغ میں جا پہنچیں جہاں درختوں کی پتیاں سنہرے رنگ کی تھیں ۔ باغ کے بیچ میں ایک خوبصورت چبوترا بنا ہوا تھا ۔ سب شہزادیاں اس پر بیٹھ گئیں وہاں بارہ پیالے شربت کے بھرے ہوۓ رکھے تھے ۔ ہر ایک شہزادی نے ایک ایک پیالہ پیا اور پھر آگے کی طرف چل پڑیں ۔ سپاہی نے یہاں سے بھی ایک ٹہنی توڑلی اور ایک پیالہ اٹھا کر لبادے میں رکھ لیا ۔ چوٹی شہزادی شاخ ٹوٹنے کی آواز پر پھر ڈر گئی ۔ تھوڑی دیر بعد شہزادیاں ایک دریا کے کنارے پہنچیں یہاں بارہ کشتیاں کنارے پر لگی ہوئی تھیں اور ہر ایک کشتی میں ایک ایک شہزادہ بیٹھا ہوا تھا ۔ شہزادیاں ایک ایک کشتی میں بیٹھ گئی اور دریا کے پیچ جاکر موجوں کا تماشہ دیکھنے لگیں ۔ صبح ہونے سے پہلے شہزادیاں واپس آکر اپنی اپنی چار پائی پر لیٹ گئیں ۔ جب بادشاہ نے صبح کو شہزادیوں کے گھومنے کا حال سپاہی سے پوچھا تو سپاہی نے تفصیل سے تمام جگہوں کے بارے میں بتادیا اور ثبوت کے طور پر درختوں کی پتیاں اور پیالہ پیش کر دیا ۔ بادشاہ نے لڑکیوں کو بلا کر پوچھا کے سپاہی جو کچھ بتا رہا ہے کیا وہ ٹھیک ہے , لڑکیوں نے کہا ہاں پچ ہے ۔ پھر بادشاہ نے اپنا مقرر کردہ انعام دینے کا اعلان کر دیا ۔ سپاہی نے بڑی شہزادی کو پسند کیا اور اس کی شادی اس شہزادی سے کرادی گئی

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *