”بیوہ کا چوکھٹ کوئی فرشتہ بھی پار کر جائے تو لوگ۔۔۔“

بیوہ کی چوکھٹ کوئی فرشتہ بھی پار کر جائے تو رنڈی کہنے میں لوگوں کو دیر ہی کتنی لگتی ہے اس بیوہ کا دروازہ بھی مسلسل بج رہا تھا میں ہوں بھابی حفیظ نام سنتے ہی اس نے جھٹ سے دروازہ کھول دیا حفیظ اس کے مرحوم شوہر کا بہترین دوست بھی تھا اور کولیگ بھی کل تک حفیظ اسی گھر کے فرد جیسا تھا اکثر شامیں اسی گھر میں موج مستی میں گزارا کرتی حفیظ مرحوم دوست کی کچھ ضروری چیزیں دینے آیا تھا

جو مرنے سے پہلے آفس میں رہ چکی تھی شوہر کی وفات کے بعد پہلی بار دونوں کا آمنا سامنا ہو رہا تھا مرحوم شوہر اور حفیظ کے ساتھ گزری شامیں وہ موج مستی سب کچھ ایک پل میں اس کی آنکھوں کے سامنے دوڑنے لگا آنکھیں بھیگ چکی تھی حفیظ کا گلا بھی شدت درد سے گھٹ رہا تھا اسلام علیکم بھابھی دروازے کے سامنے گلی میں کھڑے حفیظ نے سلام کیا آفس میں ان کا لیپ ٹاپ اور کچھ سامان تھا،سوچا تھا، عدت ختم ہوتے ہی اپنے ہاتھوں میں دے آؤں گا حفیظ نے ہاتھ آگے بڑھایا اور چھوٹا سا بیگ چوکھٹ پر رکھ دیا آپ کے دوست کو کسی اجنبی کی طرح دروازے سے لوٹا رہی ہوں مجھے معاف کر دیجیے گا

اس نے دل میں مرحوم شوہر کو پکارا اچھا بھابی چلتا ہوں ایک بار پھر طویل خاموشی کے بعد وہ گویا ہوا حفیظ بھائی لوگوں سے بہت ڈر لگتا ہے اب آپ کو پانی تک نہیں پلا سکتی میں سمجھ سکتا ہوں اسی لیے شاید میں دوبارہ کبھی نہ آسکوں دونوں محسوس کر چکے تھے کہ کسی اجنبی کی نظریں ان دونوں پر جمی ہوئی ہیں۔ کچھ فاصلے پر دیوار سے ٹیک لگائے، ایک کانا شخص مسلسل ان دونوں کو دیکھے جا رہا تھا اس کی کانی آنکھ بالکل سفید تھی اور پتلیاں بے جان تھی یہی سفید بے جان آنکھ اس کے چہرے کو خوفناک بنا رہی تھی وہ کسی ڈراؤنی فلم کا کردار معلوم ہوتا تھا اس کی چشم بینا رات کے آوارہ کتوں کی آنکھوں جیسی معلوم ہوتی تھی جو رات کی تاریکی میں اپنے ہی ہم جنسوں پر دانت گاڑتے ہیں

حفیظ خاموشی سے واپسی کے لیے پلٹ چکا تھا وہ بھی دو قدم دروازے سے باہر رکھ چکی اور بہتی آنکھوں سے حفیظ کو دیکھنے لگی حفیظ نظروں سے اوجھل ہو چکا تھا کانا شخص ابھی تک وہیں کھڑا اسے گھور رہا تھا دروازہ بند کرتے ہوئے اس کی نظر ایک بار پھر اس کی نظر کانے شخص پر پڑی کانے کی چشم بینا سے بیوہ کانپ سی گئی شام تک محلے کے سب گھروں سے بھونکنے کی آوازیں آ رہی تھیں مرد و زن کی زبانیں بیوہ کے لباس کو تار تار کر رہی تھی حفیظ کی آمد اس بیوہ کا جرم عظیم بن چکا تھا اہل محلہ ایک گھر میں جمع تھے ایک وسیع کمرے میں سب انتظار میں بیٹھے تھے دروازہ کھلا سب کی باتیں سرگوشیوں میں بدل گئی ایک ادھیڑ عمر شخص کمرے میں داخل ہوا اور سب کے سامنے ایک تخت نما چارپائی پر بیٹھ گیا اس نے ایک ہاتھ سے سیاہ چشمہ اتار کر گود میں رکھا جیب سے سفید رومال نکالا اپنی اندھی آنکھ سے بہتا گدلا اور بدبودار پانی صاف کیا جو کل سے مسلسل بہہ رہا تھا

اور پھر اپنی چشم بینا سے کمرے میں موجود لوگوں پر نظر دوڑائی اور مخاطب ہونے سے پہلے ایک بار پھر سیاہ شیشے پہن لیے کیوں کہ اب چشم بینا کا کام ختم ہو چکا تھا کہ اب باری زبان کی تھی سر محفل یہ زبان ایک بیوہ کے لباس کو تار تار کر کے برہنہ کر دے گی بیوہ کی چوکھٹ پر ایک اجنبی کی آمد جرم بن جائے گا ایک بیوہ کو رنڈی ثابت کرنے پر حاضرین محفل کانے شخص کو داد دیں گے بیوہ پر زمین تنگ کر دی جائے گی کل پھر اہل محلہ کا اجڑ اکٹھا ہو گا ایک بے آسرا بیوہ کو بے گھر کرنے پر محفل فتح سجے گی فاتح کی پگڑی کا نے شخص کے سر پر سجے گی وہ شخص اپنی یک چشم بینا پر مدتوں اتراتا رہے گا سیاہ چشمہ اتار پھینکے گا مگر اندھی آنکھ احساس ندامت پر بہتی رہے گی اور اپنی بے نوری پر سجدہ شکر بجا لائے گی کہ یہ بے نور آنکھ پلید سے پاک ہے

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *