بچے کی پیدائش کے بعد ڈیلیوری روم سے نکلے ایک گھنٹہ ہوا تھا اس کو ابھی ابھی ہوش آیا

چے کی پیدائش کے بعد ڈیلیوری روم سے نکلے ایک گھنٹہ ہوا تھا ۔ زچہ کو ابھی ابھی ہوش آیا تھا ۔ بدن میں طاقت بالکل ختم ہو گئی تھی ۔ کروٹ لینا تو دور کی بات ملنے میں بھی بے پناہ وقت ہو رہی تھی ۔ اس نے بڑی مشکل سے دائیں ہاتھ کو حرکت دی کچھ ٹولا

لیکن ہاتھ کو کچھ محسوس نہیں ہوں ۔ پریشانی کے عالم میں بائیں ہاتھ کو حرکت دینے کی کوشش کی ، پھر سے کچھ ٹٹولا مگر کچھ بھی ہاتھ نہیں لگا ۔ اب تو وہ بے چین ہو گئی تھی اور طرح طرح کے وسوسے ذہن میں سر اٹھانے لگے پھر اچانک خیال آیا کہیں نیچے تو لڑھک کر نہیں گرا

اوہ خدایا وہ بے حد پریشان ہو گئی ۔ پریشانی فطری بات تھی ۔ ، ہمت کر کے بمشکل پلنگ کے نیچے دیکھامگر نیچے بھی نہ اب اسے بہت گھبراہٹ ہونے لگی ، ماتھے پر پسینے کی ، بوندیں نمایاں ہو گئیں ۔ ڈور کھٹری ٹرس کو اشارے سے بلایا ہونٹ ہلے پر کچھ الفاظ نہیں نکل سکے

نرس نے بھی زچہ کی گھبراہٹ محسوس کر لی تھی ۔ اس کی آنکھیں بھی نم ہو گئیں ۔ آخر وہ بھی ماں تھی ، ماں کی تڑپ کو کیسے نہ سمجھ پاتی ۔ دوڑ کر انکیوبیٹر روم سے ۔ نوزائیدہ کو لا کر ماں کے ہاتھ میں تھماتے ہوۓ کہا ۔

میں سمجھ سکتی ہوں بہن ، لو جی بھر کے دیکھ لو ۔ زچہ بولی ، بہت شکریہ لیکن میں تو موبائل ڈھونڈ رہی تھی

Categories

Comments are closed.