بچے کی جوان استانی ایک شہر کے چھوٹے سے قصبے میں ایک سکول میں ایک لڑکی ٹیچر

یک چھوٹے سے شہر میں پرائمری اسکول میں کلاس کی 5 ٹیچر تھیں ۔ ان کی ایک عادت تھی کہ وہ کلاس شروع کرنے سے پہلے ہمیشہ ” آئی لو یو آل ” بولا کر تیں ۔ مگر وہ جاتی تھیں کہ وہ بچ نہیں کہتیں ۔ وہ کلاس کے تمام بچوں سے یکساں پیار نہیں کرتی تھیں ۔

کلاس میں ایک ایسا بچہ تھا جو میں مانشہ کو ایک آنکھ نہ بھاتا ۔ اس کا نام طارق تھا ۔ طارق میلی کچیلی حالت میں اسکول آجایا کرتا ۔ اس کے بال بگڑے ہوئے ہوتے ، جوتوں کے تھے کھلے ہوئے ، قمیض کے کار پر میل کانشان ، لیکچر کے دوران بھی اس کا دھیان کہیں اور ہوتا ۔

مس عائشہ کے ڈانٹنے پر وہ چونک کر انہیں دیکھنے تو لگ جاتا مگر اس کی خالی خولی نظروں سے انہیں صاف پتہ لگتارہتا کہ طارق جسمانی طور پر کلاس میں موجود ہونے کے باوجود بھی دماغی طور پر غائب ہے ۔ رفتہ رفتہ مس عائشہ کو طارق سے نفرت سی ہونے لگی ۔

کلاس میں داخل ہوتے ہی طارق مس مانشہ کی سخت ستقید کا نشانہ بننے لگتا ۔ ہر بری مثال طارق کے نام سے ضوب کی جاتی ۔ بچے اس پر کھلکھلا کر ہفتے اور مس عائشہ اس کی تذلیل کر کہ تسکین حاصل کر تیں ۔ طارق نے البتہ کسی بات کا کبھی کوئی جواب نہیں دیا تھا ۔

مس عائشہ کو وہ ایک بے جان پتھر کی طرح لگتا جس کے اندر احساس نام کی کوئی چیز نہیں تھی ۔ ہر ڈانٹ ، طنز اور سزا کے جواب میں وہ بس اپنی جذبات سے ماری نظروں سے انہیں دیکھا کرتا اور سر جھکا لیا کرتا ۔ مس عائشہ کو اب اس سے شدید چڑ ہو چکی تھی ۔

پہلا سمیسٹر ختم ہوا اور پارٹیں بنانے کا مرحلہ آیا تو مس عائشہ نے طارق کی پروگریس رپورٹ میں اس کی تمام برائیاں لکھ ماریں ۔ پروگریس رپورٹ والدین کو دکھانے سے پہلے ہیڈ مسٹریس کے پاس بہایا کرتی تھی ۔ انہوں نے جب طارق کی رپورٹ دیکھی تو مس مائشہ کو بلالیا ۔

مس ماشہ پروگریس رپورٹ میں کچھ تو پروگریس بھی نظر آنی چاہیے ۔ آپ نے تو جو کچھ لکھا ہے اس سے طارق کے والدین اس سے بالکل ہی ناامید ہو جائینگے ۔ میں معذرت خواہ ہوں مگر طارق ایک بالکل ہی بد تمیز اور کمانچہ ہے ۔ مجھے نہیں لگتا کہ میں اس کی پروگریس کے بارے میں کچھ لکھ سکتی ہوں ۔

مس عائشہ نفرت انگیز لہجے میں بول کر وہاں سے اٹھ آئیں ۔ ہیڈ مسٹریس نے ایک عجیب حرکت کی ۔ انہوں نے چپڑاسی کے ہاتھ عائشہ کی ڈیسک پر طارق کی گوشتی سالوں کی پروگریس رپورٹس رکھوادیں ۔ اگلے دن مس مائشہ کلاس میں داخل ہو میں تور پورٹس پر نظر پڑی ۔

الٹ پلٹ کر دیکھا تو پتہ لگا کہ یہ طارق کی رپورٹس ہیں ۔ پچھلی کلاموں میں بھی اس نے بینایی کل کھلائے ہو گئے ۔۔ انہوں نے سوچا اور کلاس 3 کی رپورٹ کھولی ۔ رپورٹ میں ریار کس پڑھ کر ان کی حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی جب انہوں نے دیکھا کہ رپورٹ اس کی تعریفوں سے بھری پڑی ہے ۔

” طارق جیسا ذہین بچہ میں نے آج تک نہیں دیکھا ۔ انتہائی حساس بچہ ہے اور اپنے دوستوں اور ٹیچر سے بے حد لگاؤ رکھتا ہے آخری سمیسٹر میں بھی طارق نے پہلی پوزیشن حاصل کر لی ہے ۔ مس عائشہ نے غیر یقینی کی حالت میں کلاس 4 کی رپورٹ کھولی ۔ ” طارق نے اپنی ماں کی تیاری کا بے حد اثر لیا ہے ۔

اس کی توجہ پڑھائی سے ہٹ رہی ہے ۔ طارق کی ماں کو آخری ایٹج کا کینسر تشخیص ہوا ہے ۔ گھر پر اس کا اور کوئی خیال رکھنے والا نہیں جس کا گہرا اثر اس کی پڑھائی پر پڑا ہے ۔ ” طارق کی ماں مر چکی ہے اور اس کے ساتھ ہی طارق کی زندگی کی رمق بھی اسے بچانا پڑے کا اس سے پہلے کے بہت دیر ہو جائے ۔

مس عائشہ پر لرزہ طاری ہو گیا ۔ کانپتے ہاتھوں سے انہوں نے پروگریس رپورٹ بند کی ۔ آنسو ان کی آنکھوں سے ایک کے بعد ایک گرنے لگے ۔ اگلے دن جب مس عائشہ کلاس میں داخل ہوئیں تو انہوں نے اپنی عادت کے مطابق اپنا روایتی جملہ ” آئی لو یو آل ” دہرایا ۔ مگر وہ جانتی تھیں کہ وہ آج بھی جھوٹ بول رہی ہیں ۔

کیونکہ اس کلاس میں بیٹھے ایک بے ترتیب بالوں والے بچے طارق کے لیے جو محبت وہ آج اپنے دل میں محسوس کر رہی تھیں وہ کلاس میں بیٹھے اور کسی بچے کے لیے ہو ہی نہیں سکتی تھی ۔ لیکچر کے دوران انہوں نے حسب معمول ایک سوال طارق پر دانا اور ہمیشہ ہی کی طرح طارق نے سر جھکالیا ۔

جب کچھ دیر تک مس مانشہ کی طرف سے کوئی ڈانٹ پھٹکار اور ہم جماعت ساتھیوں کی جانب سے پانی کی آواز اس کے کانوں میں نہ پڑی تو اس نے اپنے میں سر اٹھا کر ان کی طرف دیکھا ۔ غلاف توقع ان کے ماتھے پر آج بل نہ تھے ، وہ مسکرارہی تھیں ۔ انہوں نے طارق کو اپنے پاس بلوایا اور اسے سوال کا جواب بتا کر زبردستی دہرانے کے لیے کہا ۔

طارق تین چار دفعہ کے اصرار کے بعد آخر بول ہی پڑا ۔ اس کے جواب دیتے ہی مس عائشہ نے نہ صرف خود پر جوش اند از تالیاں بجائیں بلکہ باقی سب سے بھی بجوائیں ۔ پھر تو یہ روز کا معمول بن گیامس عائشہ ہر سوال کا جواب اسے خود بتائیں اور پھر اس کی خوب پذیرائی کرتیں ۔ ہر اچھی مثال طارق سے طوب کی جانے لگی ۔

روزیلا رفته رفته بر اناطارق سکوت کی قبر پھاڑ کر باہر آگیا ۔ اب مس عائشہ کو سوال کے ساتھ جواب بتانے کی ضرورت نہ پڑتی ۔ وہ بلانقص جوابات دے کر سب کو متاثر کر تا اور نئے نئے سوالات پوچھ کر سب کو حیران بھی ۔ اس کے بال اب کسی حد تک سنورے ہوئے ہوتے ، کپڑے بھی کافی حد تک صاف ہوتے جنہیں شاید وہ خود دھونے کا تھا ۔

دیکھتے ہی دیکھتے سال ختم ہو گیا اور طارق نے دوسری پوزیشن حاصل کر لی ۔ الوداعی تقریب میں سب بچے مس عائشہ کے لیے خوبصورت تھے تحائف لے کر آئے اور مس مائشہ کے ٹیبل پر ڈھیر کرنے لگے ۔ ان خوبصورتی سے پیک ہوئے تحائف میں ایک پرانے اخبار میں بد سلیقہ طور پر پیک ہوا ایک تحفہ بھی پڑا تھا ۔

بچے اسے دیکھ کر ہنس پڑے ۔ کسی کو جاننے میں دیر نہ گی کہ تھے کے نام پر یہ چیز طارق لایا ہو گا ۔ مس مائشہ تحائف کے اس چھوٹے سے پہاڑ میں سے ایک کر اسے نکالا ۔ کھول کر دیکھا تو اس کے اندر ایک لیڈیز پرفیوم کی آدمی استعمال شدہ شیشی اور ایک ہاتھ میں پہننے والا ایک بوسید و ساکڑا تھا جس کے زیادہ تر موتی جھڑ چکے تھے ۔

مس عائشہ نے خاموشی کے ساتھ اس پر فیوم کو خود پر چھڑکا اور ہاتھ میں کڑا پہن لیا ۔ بچے یہ منظر دیکھ کر حیران رہ گئے ۔ خود طارق بھی ۔ آخر طارق سے رہا ند گیا اور مس عائشہ کے قریب آکر کھڑا ہو گیا ۔ کچھ دیر ۔ بعد اس نے اٹک اٹک کر مس عائشہ کو بتایا کہ ”

آج آپ سے بالکل میری ماں جیسی خوشبو آرہی ہے ۔ وقت پر لگا کر اڑنے لگا ۔ دن ہفتوں پہفتے مینوں اور مہینے سال بدلتے بھلا کہاں دیر لگتی ہے ؟ مگر ہر سال کے اختتام پر مس عائشہ کو طارق کی طرف سے ایک خط با قاعدگی کے ساتھ موصول ہوتا جس میں لکھا ہوتا کہ میں اس سال بہت سارے نئے ٹیچر ز سے ملا ۔۔۔ مگر آپ جیسا کوئی نہیں تھا ۔

” چر طارق کا اسکول ختم ہو گیا اور خطوط کا سلسلہ بھی ۔ کئی سال مزید گزرے اور مس عائشہ ریٹائر ہوگئیں ۔ ایک دن انہیں اپنی ٹاک میں طارق کا خط ملا جس میں لکھا تھا : اس مہینے کے آخر میں میری شادی ہے اور میں آپ کی موجودگی کے سوا شادی کا نہیں سوچ سکتا ۔ ایک اور بات .. میں زندگی میں بہت سارے لوگوں سے مل چکاہوں ۔ آپ جیسا کوئی نہیں مفتھ ڈاکٹر طارق

ساتھ ہی جہاز کاریٹرن ٹکٹ بھی لفافے میں موجود تھا ۔ ۔ مس مانشہ خود کو ہر گز نہ روک سکتی تھیں ۔ انہوں نے اپنے شوہر سے اجازت لی اور وہ دوسرے شہر کے لئے روانہ ہوگئیں ۔ عین شادی کے دن جب وہ شادی کی جگہ پہنچیں تو تھوڑی لیٹ ہو چکی تھیں ۔ انہیں کا تقریب تم ہوچکی ہوگی ۔ مگر یہ دیکھ کر ان کی حیرت کی انتہا نہ رہی

کہ شہر کے بڑے بڑے ڈاکٹر ، بزنس مین اور یہاں تک کہ وہاں موجود نکاح خواں بھی آتا یا ہوا کھڑا تھا مگر طارق تقریب کی ادائیگی کے بجائے گیٹ کی طرف نکلٹکی لکانے ان کی آمد کا منتظر تھا ۔ پھر سب نے دیکھا کہ مجھے ہی یہ بوڑھی ٹیچر گیٹ سے داخل ہو ئیں طارق ان کی طرف پکا اور ان کا وہ ہاتھ پکڑا

جس میں انہوں نے اب تک وہ بوسیدہ ساکڑ ا پہنا ہوا تھا اور انہیں سیدھا اسٹیج پر لے گیا ۔ مائیک ہاتھ میں پکڑ کر اس نے کچھ یوں اعلان کیا ” دوستو آپ سب ہمیشہ مجھ سے میری ماں کے بارے میں پوچھا کرتے تھے اور میں نے سب سے وعدہ کیا تھا کہ جلد آپ سب کو ان سے ملواؤ نکا ۔ ” یہ میری ماں ہیں

اس خوبصورت کہانی کو صرف استاد اور شاگرد کے رشتے سے منسوب کر کہ ہی مت سوچنے کا ۔ اپنے اس پاس دیکھیے طارق جیسے کئی پھول مرجھارہے ہیں

Categories

Comments are closed.