بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ اگر میرے اس سوال کا جواب ٹھیک دو

ایک بادشاہ نے اپنے وزیر سے کہا کہ اگر میرے اس سوال کا جواب ٹھیک دو گے تو تمہاری وزارت برقرار رہے گی ورنہ تجھے وزارت سے خارج کر دیا جائے گا ۔

پچر بادشاہ وزیر سے کہنے لگا کہ ایک سولہ سال کا بچہ کسی دوسرے بچے کے ساتھ کھیل رہا تھا ۔ اچانک ان دونوں میں لڑائی ہو گئی تو پہلے بچے نے دوسرے بچے کو کنویں میں دھکا دے دیا ۔ اگلی صبح جب بچے نے کنویں میں جھانک کر دیکھا تو لاش اش موجود نہیں تھی ۔ وہ بہت حیران ہوا ۔ پھر جب وہ لڑ کا اٹھارہ سال کا ہوا تو اسکول میں اس کی کسی لڑکے سے لڑائی ہو گئی ۔جب چھٹی ہوئی تو اس نے اس لڑکے کو بھی کنویں میں دھکا دے دیا ۔ دوسرے دن اس نے کنویں میں جھانک کر دیکھا تو اس کی لاش بھی غائب تھی ۔

میں سال کی عمر میں اسے ایک لڑکی سے پیار ہو گیا ۔ شادی کے بعد وہ لڑکی کسی دوسرے آدمی سے ملنے لگی ، لڑکے کو اپنی بیوی پرگیا ۔ شادی کے بعد وہ لڑکی کسی دوسرے آدمی سے ملنے لگی لڑکے کو اپنی بیوی پر بہت غصہ آیا اور اس نے اس کو بھی کنویں میں پھینک دیا ۔ دوسرے دن اس نے کنویں میں جھانک کر دیکھا تو اس کی بیوی کی لاش بھی غائب تھی ۔ تیس سال کی عمر میں پھر اس آدمی کا اپنے بڑے بھائی سے جھگڑا ہو گیا اس نے اپنے بھائی کو دھکا دیا تو دیوار پر لگنے سے اس کا سر پھٹ گیا اور وہ مر گیا ۔اس نے اپنے بھائی کو بھی اس کنویں میں پھینک دیا ۔ لیکن اگلے دن کنویں میں سے اس کی لاش غائب نہیں ہوئی ۔ کیا تم بس اتنا بتا سکتے ہو کہ لاش غائب کیوں نہیں ہوئی ۔ وزیر کچھ دیر خاموش رہا پھر اچانک بولا کہ اس کا بڑا بھائی اپنے چھوٹے بھائی کا ہمدرد تھا ۔

چھوٹا بھائی جس کو بھی اپنی نادانی سے کنویں میں دھکا دے دیتا تو بڑا بھائی ثبوتمٹانے کے لئے لاش کو وہاں سے نکال کر زمین میں دفن کر دیتا ۔ مگر اس دفعہ اسے نکالنے والا کوئی نہیں تھا اس لیے اس کی لاش کنویں میں تیرتی رہی ۔ بادشاہ وزیر کے اس جواب سے بڑا متاثر ہوا اور خوشی سے وزیر کو بہت سارے انعامات سے نوازا ۔ اس طرح ٹھیک جواب دینے سے وزیر کی وزارت بھی بچ گئی ۔

Categories

Comments are closed.