ایک یہودی عالم حضرت علی علیہ السلام کے پاس آیا اور کہنے لگا ۔

یک بار یہودیوں نے سوچا کہ حضرت علی علیہ السلام سے سوال کیا جاۓ کہ حضرت علی سوچ میں پڑ جائیں ۔ یہودی سوچنے لگے کہ ایسابندہ کہاں سے ملے کا جو حضرت علی سے ایسا سوال کرے ؟ یہودیوں نے ایسابند ہ ڈھونڈ نا شروع کر دیا ۔ ڈھونڈتے ڈھونڈتے کافی عرصے کے بعد ایک ایسے یہودی عالم کے پاس کئے جو سال سے غار میں رہ رہا تھا ۔ وہ یہودی انتہائی بوڑھا

اور کمزورہو چکا تھا اس کی اتنی ریاضت تھی کہ وہ غیب کی چیزوں کو بھی دیکھ سکتا تھا ۔ دو یہودی اس یہودی عالم کو لے کر کوفہ آگئے ۔ حضرت علی علیہ السلام مسجد میں تشریف فرماتھے ۔ یہودی عالم کو مسجد سے باہر تیار کر کے مسجد کے اندر بھیجا گیا ۔ یہودی عالم جب مسجد میں داخل ہوا تو سامنے حضرت علی علیہ السلام ممبر پر تشریف فرما تھے ۔ یہودی آ کر کہنے لگا کہ اے علیمیں چاہتا ہوں کہ تم کوفہ کے لوگوں سے سوال کرتے ہو ۔ مجھ پر سوال کر کے دیکھو میں تمہیں جواب دوں کا ۔ حضرت علی آگے سے کہنے لگے :

اکیلا تو ہی جواب دے کا یا تھے جو لے کر آۓ ہیں وہ بھی تمہارے ساتھ جواب دیں گے ، میر امقابلہ اکیلا تو ہی کرے گا یا جو تجھے لے کر آۓ ہیں وہ بھی تیرا ساتھ دیں گے ۔ یہودی عالم کہنے کا : اے علی ! میں آ گیا ہوں تو میر امقابلہ کرمجھے کسی اور کی ضرورت نہیں ہے ۔ آپ سوال کر میں میں جواب دیتا ہوں ۔ مسجد میں موجود لوگوں نے حضرت علی علیہ السلام سے عرض کی : یاعلی علیہ السلام آپ سوال کر میں اب امیر المومنین حضرت علی علیہ السلام کے سامنے کوئی نبی کھڑا ہو تا تو شاید علی علم کا بھی باپ ہوتالیکن سامنے کھڑا تھا تو ایک جاہل یہودی۔اچانک علی علیہ السلام نے اپنے ہاتھ کو پیچھے کیجانب کر کے اپنی مٹھی بند کر کے اس کے سامنے کر کے کہا : بتامیری مٹھی میں کیا ہے ؟ یہودی عالم نے ایک لمحے کیلئے اپنی آنکھیں بند کر لیں آسانی کتابوں میں غیب کے علم کی مدد سے آسانوں میں جانکا

آنھیں کھولیں اور کہنے لگا : کوہ ابو قبیس میں ایک فاختہ نے انڈے دیے ہیں اور ان میں سے ایک انڈہ آپ نے اٹھایا ۔ صحابہ کرام اور تمام لوگوں کی نظر میں حضرت علی علیہ السلامکے ہاتھ پر تھی کہ کیا نکلتا ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام نے ہاتھ کھولا تو فاختہ کا انڈانکلا ۔ فاختہ کا انڈہ دیکھا تو یہودی اس یہودی عالم سے کہنے لگے بہت اچھا اور کہنے لگے اب کرے علی سوال ؟ اچانک حضرت علی علیہ السلام ممبر سے نیچے اترے اور کہنے لگے کہ ابھی تک لسی ماں نے ایساپیٹا جناہی نہیں جو علی کا مقابلہ کرے ۔ حضرت علی علیہ السلام نے وہی انڈا اس یہودی عالمکے ہاتھ پر رکھ دیا اور فرمایا کہ لے اس کو وہیں رکھ کر د کھا جہاں سے میں نے اٹھایا ہے ۔ حضرت علی علیہ السلام کا اتنا کہنا تھا کہ یہودی عالم آپ کے قدموں میں گر پڑا اور کہنے کا یا علی جو میں نے بتایا وہ عالم کرتے ہیں ۔ جو آپ نے کیاوہ خالق کرتے ہیں ۔ جب یہودی شر مسار ہو کر جانے لگا

تو حضرت علی نے فرمایا : ا گراب تو یہاں آ ہی گیا ہے تو مجھے بھی کچھ بتا کے جا ۔ یہودیسر جھکا کر کھڑا ہو گیا اور کہنے لگا : پوچھیے یاعلی ! آپ نے پوچھا یہ جو تو غیب کے جواب دے دیتا ہے یہ علم تم نے کہاں سے لیا ؟ یہودی لم سے ) کہنے لگا : میں نے ریاضت کی ہے ، عبادت نہیں ریاضت کی ہے ۔ علی علیہ السلام کہنے لگے کہ اپنانفس مارا ؟ یہودی کہنے لکا : جی مارا ۔ حضرت علی علیہ السلام نے پو چھا کیا کر تا ہے تو اس نفس کو مارنے کے لیے ؟ یہودی کہنے لگا : میر انفسمجھے جس کام کو کرنے کے لیے کہتا ہے میں وہ نہیں کر تا ، جس سے وہ روکتا ہے اسے میں کر تاہوں ، کلمہ ناپڑھتے ہوۓ بھی میں ریاضت کے اس مقام پر پہنچ گیا ہوں کہ میں غیب کی چیزوں سے واقف ہو گیا ہوں ۔ حضرت علی علیہ السلام نے فرمایا : اچھا تیرا نفس جو تھے کہے وہ تو نہیں کرے گا ؟ یہودی کہنے لگا بالکل نہیں کروں کا ۔

علی نے کہا : تیرا نفس کیا کہتا ہے تیرے مسلمانہونے کے لیے ؟ یہودی کہنے کا : میر انفس کہتا ہے کہ مسلمان نہ ہو ۔ علی کہنے لگا : پھر مسلمان ہو ۔ا گر تیرانفس کہتا ہے کہ مسلمان نہ ہو تو گر تیرافر پھر ہو ۔ کیونکہ تو کہتا ہے کہ تیرانفس جس کام سے مجھے روکتا ہے تو میں وہی کر تاہوں ۔ یہودی حضرت علی علیہ السلام کے قدموں میں گرا اور گر کر کہنے لگاے علی تو نفس سے کیسے واقف ہے ۔ علی نے سینے پر ہاتھ مار کر کہا : میں نفس سے واقف ہوں ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *