ایک ہندو عورت حضرت لال شہباز قلندر ؒ کو دیکھنے کے لئے گھنٹوں باہر بیٹھی رہتی مگر

ایک ہندو عورت کا مکان حضرت لال شہباز قلندرؒ کے مسکن کے عائن سامنے تھا اور آپؒ جب بھی باہر بیٹھتے تو وہ عورت گھنٹوں آپؒ کی طرف دیکھتی رہتی مگر وہ آپؒ کا چہرہ مبارک با ہزار کوشش کو باوجود نا دیکھ پاتی ۔کیونکہ آپؒ ہر وقت گردن جھکائے بیٹھے رہتے تھے کبھی بھی ایک لمحہ کے لیے آپ سر اونچا نہیں کرتے تھے اس لیے وہ ہندو عورت اپنے مکان سے آپ کی زیارت کرنے سے قاصر رہتی تھی شوقِ آرزو(زیارت کی شوقین ) زیارت کے ذوق تمنّا میں وہ ہندو عورت اس قدر پرجوش ہوگی پھر ایک دن اس نے اپنے مکان کی اونچائی سے والی منزل سے جوش کے عالم میں مکان کی چھت سے نیچے زیارت کرتے کرتے چھلانگ لگا دی اور نیچے گر گئی ۔اس کی ہڈی پسلی ایک ہوگی ۔اس عورت نے زخمی حالت میں حضرت لال شہبازؒ کی زیارت کرلی ۔جب ہندو عورت نے آپؒ کو دیکھا دیکھتے ہی دیکھتے اس عورت کے منہ سے با اختیار الله اکبر نکلا اس کے منہ سے خون بہ رہا تھا

اور پسلیاں بھی ٹوٹ چکی تھی اور وہ زندگی اور موت کی کشمکش میں مبتلا تھی ۔ ۔اس کے رشتے دار اور خاندان والے دوڑے ہوئے آئے ۔ انہیں پہلے ہی پتا تھا کہ یہ عورت آپؒ سے عقیدت رکھتی ہے ۔اور آپؒ کی زیارت کے شوقؔ میں بیٹھی رہتی تھی مگر وہ اس بات کی بات کا برا نہیں مناتے تھے ۔کیونکہ آپؒ کبھی بھی کسی طرف نہیں دیکھتے تھے ہمیشہ سر جھکائے بیٹھے رہتے تھے ۔اور یاد الہٰی میں مصروف رہتے تھے ۔جب اس عورت نے اپنی آخری سانسیں لی۔تو پھر حضرت لال شہباز قلندرؒ نے اپنی ایک سیاہ رنگ کی چادر اس عورت پر ڈال کر اس کے جسم بے پردہ ہونے کی اندیشے سے ڈھانپ دیا ۔اس عورت کے خاندان والوں نے دیکھا کہ ان کی خاتون فوت ہوچکی ہے تو وہ اس کی لاش کواٹھانے لگے ۔ہندو اپنی رسم کے مطابق اس عورت کی میت کو سپرد آگ کرنے لگے ۔انہوں نے کافی زور لگایا مگر لاش کو اپنی تمام تر قواتوں و طاقت صرف کرنے کے باوجود نا اٹھا سکے۔

انہوں نے اپنی مدد اپنے دوسرے رشتے داروں کو بلایا ۔مگر پھر بھی نکام رہے .لاش کے بھاری ہونے پر ہندو بہت پریشان ہوئے ۔ہندوں کی سمجھ میں کچھ نہیں آرہا تھا کہ یہ سب ماجرا کیا ہے ۔آخر کار ایک بزرگ ہندو نے انہیں مشورہ دیا کہ حضرت لال شہباز قلندرؒ مدد حاصل کرو۔ان سے دعا کرواوں کیونکہ یہ عورت حضرت لال شہباز قلندرؒ سے بے حد عقیدت رکھتی تھی اس مشورہ پر عمل کرتے ہوئے ایک شخص آپؒ کی خدمت میں حاضر ہوا اور ساری صورتحال بتائی ۔اس کے بعد ہندوؤں نے آپ ؒ سے درخواست کی۔آپؒ نے ہندوؤں سے فرمایا اگر تم پورے شہر کے ہندوؤں اکھٹے ہو جاوں اس عورت کی لاش نہیں اٹھا سکو گے۔آپ نے فرمایا ہاں ایک شرد ہے اگر تم وعدہ کروں اسے آگ لگانے کے بجائے مسلمانوں کے طریقہ پر نماز جنازہ پڑھ کر زمین میں دفن کروں گے ۔تو پھر اس کی لاش ہلکی ہوجائے گی اور لاش اٹھ جائے گی ۔چنانچہ اِس عورت کا مسلمانوں کے طریقہ پر جنازہ اٹھا نمازیں پڑھی گئی ۔مسلمانوں کے طریقہ پر دفن کیا گیا ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.