ایک ہندو سادھو کے سوال جب اللہ کو دیکھا نہیں تو اس کی وحدانیت

کسی زمانے کی بات ہے شہر میں ایک کافر تھا جو اپنی ذہانت کے سبب لوگوں میں بہت مقبول تھا اس کافر کی اہم بات یہ تھی کہ وہ مسلمانوں اور اسلام کے سخت خلاف تھا اور وہ اکثر بیہودہ سوالات نکالتا اور لوگوں کو چیلنج کرتا کہ میرے سوالوں کے جواب دیں اور اس طرح وہ اپنی غلیظ سوچ سے ان سب کو نیچا دکھاتا اور یوں اسے اپنی ذہانت پر غرور ہوگیا ایک بار اس نے تین ایسے سوالات سوچے جن کا جواب بڑے بڑے عالموں کے پاس نہ تھا۔ اور اس کی عقل کا ڈھنکا ایک بار پھر زور پکڑ گیا چانچہ سوالات کچھ یوں تھے اس کا پہلا سوال یہ تھا کہ جب کسی نے اللّٰہ کو دیکھا نہیں تو تم پہلے کلمے میں اللّٰہ کی وحدانیت کی گواہی کیسے دیتے ہو۔ کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں ہے۔اس کا دوسرا سوال تھا۔ کہ جب ہر چیز پر اللّٰہ قادر ہے اور جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللّٰہ کی مرضی سے ہوتا ہے تو پھر کسی بری بات کے لئے انسان قصور وار کیوں کہلائے گا اس کا تیسرا سوال تھا۔ کہ جب شیطان آگ سے بنا ہے اور اللّٰہ کہتا ہے کہ اسے قیامت کے دن جہنم کی آگ میں ڈالا جائے گا۔ تو اس سے اس کا کیا بگڑے گا۔ بھلا آگ پر آگ کا کیا اثر ہوگایوں اس نے اپنے سوالات پیش کیئے لیکن کوئی بھی اس کے سوالات کا جواب نہ دے سکا کچھ دن گزر گئے

ایک دن وہ کافر کسی کام سے شہر سے باہر نکلا۔ ابھی وہ کچھ دور ہی گیا تھا کے اس کا گزر ایک درویش کے پاس سے ہوا جو کہ وہ زمین پر بیٹھے مٹی کے دو بڑے بڑے گولے بنا رہے تھے جیسے ہی کافر ان کے پاس سے گزرا انہوں نے اسے آواز دی۔ اور اپنے پاس آنے کو کہا وہ کافر درویش کے پاس چلا آیا۔ انہوں نے کہا تمہارے چند سوالات ہیں جن کا آج تک کوئی جواب نہ دے پایا ہے۔ ذرا مجھے بھی اپنے سوالات بتاؤ شاید ان کا کوئی جواب میرے پاس موجود ہو یہ سن کر وہ کافر بڑے تکبر سے مسکرایا اور کہنے لگا جواب میرے سوالوں کے تو بڑے بڑے علماء نہ دے پائے ہیں۔ تو ایک درویش کے پاس کیا علم ہوگا۔ یہ سن کر وہ بزرگ مسکرا دیئے اور کہنے لگے اپنے سوالات بیان کرو اب ایک ایک کرکے سادھو نے اپنے سوالات دہرانے شروع کر دیئے۔ وہ کہنے لگا میرا پہلا سوال ہے۔ کہ جب کسی نے اللّٰہ کو دیکھا نہیں تو تم پہلے کلمے میں اللّٰہ کی وحدانیت کی گواہی کیسے دیتے ہو کہ اللّٰہ کے سوا کوئی معبود نہیں ۔میرا دوسرا سوال ہے۔ کہ جب ہر چیز پر اللّٰہ ہی قادر ہے اور دنیا میں جو کچھ بھی ہوتا ہے وہ اللّٰہ کی مرضی سے ہوتا ہے۔ تو پھر کسی بری بات کے لئے انسان قصور وار کیوں کہلائے گا ۔میرا تیسرا سوال ہے۔ کہ جب شیطان آگ سے بنا ہے اور اللّٰہ کہتا ہے کہ اسے قیامت کے دن جہنم میں ڈالا جائے گا اس آگ سے اس کا کیا بگڑے گا۔ بھلا آگ پر آگ کا کیا اثر ہوگا۔ محترم میرے یہ تین سوالات ہیں جن کا کسی کے پاس جواب نہیں۔وہ درویش بزرگ اسے دیکھتے رہے۔

اور کچھ سوچتے رہے وہ سادھو من ہی من میں خوش ہو رہا تھا جس کا اندازہ اس کی مسکراہٹ سے ہوتا تھا۔ایک دم اس درویش نے اپنے ہاتھ میں موجود مٹی کا وہ بڑا سا گولا۔ اس کافر کے سر پر مارا۔ اور اس کے سر سے خون بہہ نکلا وہ اٹھ کر کھڑا ہوا اور کہنے لگا یہ کیا ظلم آپ نے مجھ پر کردیا۔ مجھے کیوں مارا۔ میں اس زیادتی کی شکایت قاضی سے کروں گا۔ اور آپ کو عدالت میں پیش ہونا پڑے گا۔یہ کہہ کر وہ کافر سیدھا قاضی کے پاس پہنچا۔ اور اپنا مدعا بیان کر ڈالا۔ اس کے سر سے ابھی بھی خون بہہ رہا تھا اور تکلیف سے اس کا برا حال تھا۔چنانچہ درویش بزرگ کو قاضی صاحب کے سامنے پیش کیا گیا۔ اب قاضی صاحب نے پوچھا بزرگ آپ نے کس بنا پر اس کو مارا ہے۔ بزرگ نے کہا میں نے تو ان کے سوالات کا جواب دیا ہے۔ جو اس نے مجھ سے پوچھے تھے۔ اب یہ بلا وجہ مجھ پر الزام لگا رہا ہے۔عدالت میں موجود ہر شخص حیران تھا کیونکہ بہرحال سبھی ان کافر کے اس سوالوں سے واقف تھے۔قاضی صاحب کہنے لگے کہاں ہے اس کے سوالوں کے جواب۔ ہمیں تو کچھ پتہ نہیں چلتا۔اس پر وہ بزرگ فرمانے لگے جناب اس نے پہلا سوال کیا کہ جب اللّٰہ دکھائی نہیں دیتا کہ کیسے ہم اس کی موجودگی کی گواہی دیتے ہیں۔

اس کا جواب مجھ پر لگائے گئے الزام میں ہے۔ اس نے کہا کہ مجھے سر پر چوٹ لگنے سے درد ہو رہا ہے۔لیکن اس کے پاس اس بات کے سوا کوئی گواہ ہے اسے درد ہو رہا ہے۔ وہ کافر بولا اس بات کا گواہ کیسے ہو درد تو مجھے ہورہا ہے۔ درویش نے کہا یہ ہم کیسے مان لیں کہ تمہیں درد ہو رہا ہے وہ سادھو بولا کیوں کہ مجھے درد محسوس ہو رہا ہے اس پر بزرگ نے فرمایا ٹھیک اسی طرح جیسے تمہارا درد دکھائی نہیں دے رہا مگر تم محسوس کر رہے ہو۔ ہمیں  خدا دکھائی نہیں دیتا۔ مگر ہم اسے ہر وقت اپنے ساتھ محسوس کرتے ہیں۔ کیونکہ دنیا میں اس کی قدرت کے نظارے جگہ جگہ موجود ہیں وہ کافر حیران ہو کر کہنے لگا چلو مان لیا کہ پہلا جواب مل گیا۔ اب میرا دوسرا سوال وہ بزرگ بولے تم کہتے ہو جو کرتا ہے وہ اللّٰہ کرتا ہے۔ اس میں بندے کا کیا قصور۔ اب اس کے دوسرے سوال کا جواب بھی اس کے الزام میں ہی موجود ہے۔ جو اس نے مجھ پر لگایا۔ جب سب اللّٰہ نے کیا تو اس میں میرا کیا قصور ہے۔ کہ مینے تمہیں مارہ۔ کہ اس نے مجھ پر الزام کیوں لگایا۔ اب اس کے دوسرے سوال کا جواب بھی اس کے سامنے تھا پھر کہنے لگا اچھا مان لیا کہ مجھے دوسرے سوال کا جواب بھی مل گیا۔ لیکن کیا میرے تیسرے سوال کا جواب موجود ہے  چنانچہ وہ بزرگ بولے تمہارا تیسرا سوال ہے کہ جب شیطان آگ سے بنا ہے

اور اللّٰہ کہتا ہے کہ اسے قیامت کے دن جہنم گی آگ میں ڈالا جائیگا۔ تو اس آگ سے شیطان کا کیا بگڑے گا۔ تو تم پہلے یہ مجھے بتاؤ کہ تم خود کس چیز سے بنے ہو کافر نے کہا میں مٹی سے بنا ہوں اس پر بزرگ نے پوچھا اچھا وہ گولا جو میں نے تمہارے سر پر مارا تھا وہ کس چیز کا تھا۔ سادھو بولا وہ بھی مٹی کا تھا۔ اس پر درویش نے کہا بلکل ٹھیک جیسے تم مٹی سے بنے ہو اور وہ گولا بھی مٹی کا تھا۔ جس سے تمہارا سر پھٹ گیا اگر تم یہ کہتے ہو کہ شیطان آگ سے بنا ہے۔ اور اس پر جہنم کی آگ کا کیا اثر ہوگا۔ تو اس طرح تمہیں بھی مٹی کے گولے سے کچھ نہیں ہونا چاہیئے تھا۔ لیکن تمہارا سر زخمی ہوگیا۔ بالکل ایسے ہی قیامت کے دن دوزخ کی آگ شیطان کو پاش پاش کردیگی۔ وہ سادھو بہت حیران تھا۔ حتیٰ کہ عدالت میں موجود ہر شخص حیران تھا۔ کہ کیسی حکمت سے درویش نے اس کافر کو لاجواب کردیا۔چنانچہ وہ کافر بولا۔ میں اب ہی اپنی حماکتوں سے توبہ کرتا ہوں۔ اور اللّٰہ پر ایمان لاتا ہوں۔ بے شک اللّٰہ جسے چاہے کسی کو بخش دے۔ اور وہ ہی اصل حکمت والا اور ہر چیز پر قادر ہے ۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.