ایک پہلوان کی بیٹی جوان ہوئی تواس کی شادی کے لیے باپ نے ایک پہلوان کا ہی انتخاب کیا

کسی گاؤں میں ایک پہلوان رہتا تھا ۔ وہ اپنے علاقے کا بہت ہی مشہور اور جانانا پہلوان تھا۔اس کی ایک ہی بیٹی تھی۔اس نے اسے بہت ہی لاڈاور پیار سے پالا ہواتھاتھاوہ خو بصورت بھی بہت زیادہ تھی ۔ بیٹی جوان ہوئی تو باپ کو اس کی شادی کی فکر ہوئی چونکہ خود پہلوان تھاس لیے بیٹی کے لیے ایک پہلوان ہی پسند کیاجواونچالمباگبر و جوان اور زمیندار بھی تھا ۔ باپ نے بڑے نازوں سے پالی ہوئی

بیٹی اس کے ساتھ وداع کردی ۔ ہتھاہ بھی نہ گزرے تھے کہ پہلوان دامادنے بیٹی کومار پیٹ کر نکال دیا کے اسے توگھر کاکوئی کام نہیں آتا۔باپ کادل بہتر نجید ہ ہوا مگر کسی کو کچھ نہ کہا کے فضول میں تماشا بنے ۔اس نے اپنی بیوی سے کہا کہ اسے سارے کام سکھائماں نے بیٹی کو جھاڑ وپوچاکھاناپکاناسب کچھ سیکھادیا۔چند مہینوں کے بعد صلح ہو گئی اور باپ نے دامادکوبلاکر معافی مانگی کہ

ہم شرمندہ ہیں بہت لاڈ پیار سے پالی تھی اور پھر ر خصت کر دیا ۔ ابھی چھ ماہ نہ گزرے تھے کہ اس نے پھر بیٹی کو مار پیٹ کر میکے بھیج دیا کہ اسے توسلائی کا کام بھی نہیں آتا ۔ پہلوان پھر بہت پریشان ہو گیااوراپنی بیوی سے کہا کہ اسے سلائی کا کام بھی سکھاؤ۔بیوی نے سلائی کڑھائی رضائیاں بچھائیاں یہاں تک کہ پراندے بنانے بھی سکھادیئے پھر داماد کو بلا یا غلطی کی معافی مانگی اور

بیٹی کور خصت کر دیا پھر چند ماہ ہی گزرے تھے کہ بیٹی نیل و نیل مار کھاکر میکے واپس آگئی کہ اسے تو کھیتوں کا کام بھی نہیں آتا ور گاۓ بھینسوں کادودھ دھو نا بھی نہیں آتا ۔ پہلوان بڑاد کھی ہو گیا تھابڑی عزت تھی زمانے میں اس لئے خاموش رہا۔اس بار کسان نے بیٹی کو کھیتی باڑی کے کام بھی سکھادیئے اور ایک بار پھر ر خصت کر دیا ۔ پھر چند دن گزرے پھر بیٹی روتی ہوئی میکے واپس آگئی

پہلوان نے سوال کیا بیٹی اب کیا ہوا ہے وہ کہنے لگی کہ اب میر اشوہر کہتا ہے کہ آٹا گوندھتے ہوۓ تو ہلتی بہت ہے ۔ پہلوان کواب ساری بات سمجھ میں آ کئے اصل میں داماد کور عب جمانے اور مارنے کی عادت پڑ چکی تھی ۔ باپ نے کہا کہ بیٹی میں نے تمہیں سب کچھ سیکھایالیکن یہ نہیں سکھایا کہ توبیٹی کس کی ہے ۔ بیٹی حیران ہو گئی لیکن اس کو کچھ سمجھ نہ آئی۔چند ہی دن گزرے کے داماد کو

احساس ہوا کے اس بارنہ تو سر نے معافی مانگی اور نہ ہی بیٹی کو واپس بھیجا ۔ خیر وہ خبر لینے سرال گیا۔سر نے دروازے پرروک لیاور کہا نہیں پیروں واپس چلاجا۔اور آج کی تاریخ یادر کھلے پورے وسال بعد آنا وراپنی بیوی کو آکر لے جانا۔ا گراس سے پہلے مجھے نظر آ یاتو تیری ٹانگیں توڑ کر واپس بھیجدوں گا۔دامادشر مند ہو کر واپس چلا گیا۔دن گزرتے رہے پہلوان اپنی بیٹی کو منہ اند ھیرے

کھیتوں میں لے جاتا اور سورج نکلنے پر گھر بھیجتاہیوی نے بار بار پوچھا لیکن یہ راز نہ کھولا گیا۔دو سال گزر کئے داماد بیٹی کو لینے آیاباپ نے خوشی خو شی بیٹی کور خصت کر دیا۔ا بھی چند ہی دن گزرے کہ پہلوان داماد عادت سے مجبور چلاناشر وع ہو گیا۔اور مارنے کے لیے ہاتھ آگے بڑھایاتو بیوی نے کسی منجھے ہوۓ پہلوان کی طرح شوہر کو بازو سے اٹھا کر زمین پر پخدیا اور کہا کہ تو جانتا ہے میں

بیٹی کس باپ کی ہوں۔وہ سمجھ گیا کہ اب کی بار دوسال میں باپ نے بیٹی کو کیا سکھا کر بھیجا ہے ۔اور اس کے بعد پہلوان نے دوبارہ بیوی سے کبھی اونچی آواز میں بات نہیں کی ۔ باپ نے بیٹی کو کیا سکھا یا آپ بھی جان کئے ہوں گے ۔ہر چیز ماں کے سکھانے کی نہیں ہوتی کچھ باتیں کچھ اعتماد باپ بھی بیٹیوں میں لاتا ہے

Categories

Comments are closed.