ایک ٹیکسی ڈرائیور ایک عورت کو ہسپتال مچوڑ کر آیا تو رات کو ہسپتال سے کال آگئی

ہ ایک عام سا آدمی تھا ۔ اور خاصی مدت سے ایک عرب ملک میں مقیم تھا ۔ اس کی بیوی اور بچے اس کے پاس تھے ۔ محدود آمدنی کے باوجود بھی وہ اپنی زندگی سے بڑا مطمئن تھا ۔ پھر مستقبل کی ذمہ داریوں کے احساس نے اسے مجبور کیا کہ وہ ٹیکسی چلایا کرے تاکہ آمدنی میں اضافہ ہو اور پھر وہ ٹیکسی ڈرائیور بن گیا ۔

ایک دن وہ معمول کے مطابق ٹیکسی لے کر نکلااور سواری کے انتظار میں تھا ۔ مغرب کا وقت ہوا جاتا تھا کہ برقع میں ملبوس ایک عورت نے تیسی کو اشارہ کیا ۔ اس آدمی نے ٹیکسی روک لی , عورت کہنے لگی کہ فوری طور پر مجھے ہسپتال کے ایمر جنسی وارڈ میں لے چلو میں زچگی کی حالت میں ہوں ۔ یہ سنتے ہی اس آدمی نے ٹیکسی چلانا شروع کی اور فوری طور پر ہسپتال پہنچ کئے ۔ عورت نے کہا کہ تھوڑی دیر انتظار کروںنرسیں اس کو لیبر وارڈ میں لے گئیں ۔ ادھر ہسپتال کے ایک ملازم نے ڈرائیور سے پو چھا کہ اس کا ایڈریس اور فون نمبر کیا ہے ! اس آدمی نے اس کو معمول کا معاملہ سمجھا کیوں کہ وہ مرتضہ کو لے کر آیا تھا ۔ چنانچہ وہ اپنا نمبر دے کر چلا گیا ۔

رات کے وقت اسے ہسپتال سے فون آیا کہ تمہارے ہاں بیٹا پیدا ہوا ہے , لہذا فوری طور پر ہسپتال آجاؤ اس آدمی نے جواب دیا کہ تمہیں کوئی غلطنہی ہوئی ہے ۔ میری ایک ہی بیوی ہے جو کہ گھر میں ہے ۔ ہسپتال کے ملازم نے کہا کہ کوئی بات نہیں تم ایک مرتبہ آؤ تو سہی , تمہارا آنا بہت ہی ضروری ہے ۔ تھوڑی دیر کے بعد ٹیکسی ڈرائیور ہسپتال پہنچا اور سٹاف سے جھگڑا شروع کر دیا کہ تم لوگوں نے مجھ پر نہایت ہی گھٹیا الزام لگایا ہے اللہ کا شکر ہے کہ میری بیوی کو پتہ نہیں چلا ۔ ورنہ گھر میں قیامت بر پا ہو جاتیکہ میں نے ایک اور شادی کر رکھی ہے ۔ ملازمین نے کہا کہ اس میں ہمارا کوئی قصور نہیں , جس عورت کو تم ٹیکسی میں لے کر آۓ تھے اس سے جب پوچھا گیا کہ تمہارا خاوند کون ہے تو اس نے تمھارا نام لیا ۔ بچے کی پیدائش کے بعد اس عورت نے یہی کہا تھا کہ اس بچے کا باپ ٹیکسی ڈرائیور ہے اور وہی مجھے ہسپتال مچوڑ کر گیا ہے ۔ وہ آدمی کہنے لگا کہ میں اللہ کی پناہمانگتا ہوں یہ بالکل بہتان ہے یہ تو گھر بیٹھے مصیبت میرے گلے آپڑی ۔ کسی نے بالکل درست کہا ہے کہ مصیبتیں اس حال میں تمہارے پاس آئیں گی کہ جب تم اطمینان سے سو رہے ہوگے ۔

بہر حال اس کی ہسپتال کے عملے کے ساتھ بحث جاری تھی کہ اچانک اس کو خیال آیا کہ اگر تمہیں میری سچائی پر یقین نہیں ہے تو ایسا کرو کہ اس بچے اور میرے خون کا ٹیسٹ لے لو تمہیں پتہ چلجاۓ گا ۔ ڈاکٹروں کے لئے اس معاملے کی تصدیق ضروری تھی اس لیے انہوں نے اس تجویز سے اتفاق کیا اور اس کے خون کا نمونہ لے لیا ۔ ٹیکسی ڈرائیور مسلسل دعائیں کر تا جارہا تھا کہ المی اس آزمائش کی گھڑی میں میری مدد فرما ۔ تھوڑی دیر کے بعد ڈاکٹر نتیجہ لے کر آیا اور کہنے لگا ! نوجوان ہم معذرت خواہ ہیں خوامخواہ تمہاراوقت ضائع کیا آپ کے خون کی تحقیق سے یہ باتسامنے آ گئی ہے کہ واقعی یہ آپ کا بچہ نہیں ہے اور یہ بھی معلوم ہوا ہے کہ آپ باپ بنے کے قابل ہی نہیں کیوں کہ آپ مکمل طور پر بھانجھ ہیں ۔ اب حیران اور پریشان ہونے کی باری اس آدمی کی تھی یہ خبر اس پر بجلی بن کر گری تھی وہ کہنے لگا کہ تمہاری یہ بات تو پہلی بات سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ میں کئی سالوں سے شادی شدہ ہوں اور میرے چھے بچے ہیں اور تم مجھےبھانجھ ہونے کا سرٹیفکیٹ دے رہے ہو یقینا تمہاری لیبارٹری رپورٹ بے کار ہے ۔ ڈاکٹر نے اس کی رپورٹ کو دوبارہ دیکھا اور کہا کہ نوجوان ہماری رپورٹ درست ہے مگر کوئی بات نہیں ہم ۔ دوبارہ ٹیسٹ لے لیتے ہیں ۔

ٹیسٹ دوبارہ ہوا اور ڈاکٹروں نے حتمی فیصلہ سنادیا کہ جس شخص کا یہ خون ہے وہ کبھی بھی باپ نہیں بن سکتا ۔ مگر میرے چھے عد د بچے ہیں اور ڈاکٹروں کا یہ دعویہے کہ میں باپ بن ہی نہیں سکتا ۔ وہ سوچ سوچ کر پاگل ہو رہا تھا ۔ پھر وہ حقائق کی دنیا میں آیا ۔ غور و فکر کیا , جانچ پڑتال شروع کی گھر کے ماحول پر غور کیا تو اس نتیجے پر پہنچا کہ اس کی بیوی یقینا غلط ہے ۔ مگر یہ ڈاکہ ڈالنے والا کون ہے ? اب ایک اور تلخ حقیقت اس کے سامنے تھی ۔ اس کے قدموں تلے سے زمین نکل گئی کہ اسکا حقیقی بھائی جو کہ عمر میں مچوٹاہجس کو وہ اولاد کے برابر جگہ دیتا تھا , جو شروع سے اس کے گھر میں مقیم تھا اس نے موقع سے ناجائز فائدہ اٹھایا اور اپنی بھابھی کے ساتھ اعتراف کر لیا ۔ ہاں اس کی بیوی کے ساتھ اس نے کئی سالوں سے ناجائز تعلقات قائم کر رکھے تھے اور پھر شدید دباؤ کے بعد اس کی بیوی اور بھائی نے ان ناجائز تعلقات کا اعتراف بھی کر لیا ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *