ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔

ایک ملک پر ایک بادشاہ حکومت کرتا تھا۔ نہایت رحم دل اور خدا ترس تھا۔ اس کی ایک بیٹی تھی ۔ جو نہایت ہی ضدی تھی ۔اور ہر ایک سے ضد کر کے بات منواتی تھی ۔ ایک دن محل کے باغ میں پھول توڑنے کے لیے آئی ۔ تو اسے پھول پر شبنم کے قطرے نظر آئے۔ اس نے سوچا کیوں نا اس کا ہار بنا کر پہنا جائے۔

اس نے بادشاہ سے کہا، اباجان میں ان قطروں کا ہار پہننا چاہتی ہوں ۔ بادشاہ نے کہا۔ بیٹی یہ تو بھت مشکل کام ہے، ان قطروں کا ہار نہیں بن سکتا۔ مگر شہزادی نے اپنی ضد سے بادشاہ کو پریشان کردیا۔ آخر تنگ آکر بادشاہ نے اعلان کیا۔ جو شہزادی کو شبنم کے قطروں سے ہار بنادے گا۔ اسے انعام و اکرام سے نوازا جائے گا۔ دور دور سے لوگ آئے۔ مگر نا کام رہے۔ اس ملک میں ایک سنار کا بیٹا رہتا تھا۔ اس نے اپنے والدین سے اجازت لی اور بادشاہ کے محل کی طرف چل پڑا۔

محل جاکر اس نے کہا: شہزادی کے لیے شبنم کے قطروں کا ہار مین بنا کر دوں گا۔ سنار بادشاہ اور شہزادی کو لیکر باغ میں چلا گیا۔ سنار نے شہزادی کو کہا کہ ہار بنانے میں تمہیں میری مدد کرنا ہوگی ۔ یہ شبنم کے قطرے مجھے اٹھا اٹھا کر دو، تاکہ میں تمہارے لیے ہار بنا سکوں۔ شہزادی نے کہا، یہ تو کوئی مشکل کام نہیں ، جب شہزادی نے شبنم کے قطروں کو پکڑنے کی کوشش کی تو وہ ہاتھ سے بہہ جاتے ۔ اس طرح شہزادی کے سمجھ میں آگیا، تو اس نے ضد کرنے سے توبہ کرلی ۔ بادشاہ نے آگے بڑھ کر سنار کو گلے لگایا۔ اور خوب انعام و اکرام سے نوازا۔​

سبق:- آج عام انسان بھی اس بادشاہ کی بیٹی طرح ہے جو دولت کو اپنے پاس مقید کرنا چاہتا ہے جبکہ یہ دولت بھی شبنم کے قطروں کی مانند ہی ہے جو جس کے پاس آتی ہے اسکی کبھی نہیں ہوتی اور جو اسے قید (جمع) کرتا ہے وہ خود اسے چھوڑ کر اس دنیائے فانی سے رخصت ہو جاتا ہے۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *