””ایک ملاح حسین عورت اور اس کا بچہ کشتی میں سوار تھے ملاح نے عورت سے

کسی زمانے میں ایک قصاب تھا وہ رات کے وقت وہ جا کر جانور ذ ب ح کیا کرتا تھا اور دن میں اپنی دکان پر گ وش ت لا کر بیچا کرتا تھا جب وہ ذ ب ح کر تا اس کے کپڑوں میں خ و ن لگ جا تا مگر وہ گھر آکر خ و ن آلودہ کپڑ ے بدل لیا کرتا تھا۔ ایک رات جب وہ واپس آ رہا تھا جانور کو ذ ب ح کر کے رو راستے میں ایک جگہ پہ ایک آدمی شور مچا تا ہوا آ یا اور اس نے اس قصاب کو پکڑ لیا جب پکڑ لیا تو قصاب نے دیکھا

کہ اس آدمی کے جسم سے خ و ن بہہ رہا ہے۔ اور قصاب حیران ہوا اتنے میں اس آدمی کی جان نکل گئی قصاب نے دیکھا کہ اس آدمی کے جسم میں ایک چ ھ ر ی تھی جو کسی نے اس کو کھونپ دی تھی اب جو ق ت ل کرنے والا تھا وہ بھا گ گیا۔ اور م ق ت و ل نے اند ھیرے میں یہ سمجھا کہ اس قصاب نے مجھ کو ق ت ل کیا ہے۔ اور اتنے میں وہ آدمی مر گیا اور ولگ ادھر اکٹھے ہو گئے اب لوگوں نے اس قصاب کو بھی دیکھا م ق ت و ل کو بھی دیکھا اور قصاب کے کپڑوں میں جو خ و ن لگا تھا۔ وہ بھی دیکھا لوگوں نے قصاب کو پکڑ لیا تم نے اس آدمی کو ق ت ل کیا ہے اور قاضی کے پاس لے گئے قصاب پر مقدمہ چلا قاضی نے م ق ت و ل کو دیکھا

اور لوگوں کی گواہی سنی اور قصاب قصاص کا حکم سنا دیا۔ چاند کا ٹکڑا تھی میرا دل لڑکی پر فریفتہ ہو گیا میں نے لڑکی کو اشارے سے بات کی اور اس لڑکی بھی مجھ سے اشارے میں بات کی یہاں تک ہم میں ایک تعلق بن گیا لڑکی نے کہا میں نکاح کے بغیر تمہارے پاس نہیں آ سکتی۔ لہٰذا تم کو مجھ سے محبت ہے تو میرے ماں باپ سے رشتے کی بات کرو میں نے اس کے باپ کے رشتے کی بات کی تو اس نے کہا میری بیٹی خوبصورت ہے نیک ہے تمہارے پاس نہ علم ہے نہ کوئی نیکی ہے تم میں بہت خامیاں ہیں۔

لہٰذا میں اپنی بچی کا رشتہ تم سے نہیں کر سکتا میں بہت مایوس ہوا اور میرے دو سال گز ر گئے ایک دن میں کشتی چلا رہا تھا ایک عورت کشتی میں سوار ہوئی اس کے ساتھ اس کا ایک بچہ بھی تھا۔ میں نے غور سے دیکھا تو و ہ وہی لڑکی تھی جس سے میں محبت کر تا تھا جس کے پیار میں میں نے دو سال غم میں گزار دئیے میں نے اس سے باتیں کر نا شروع کر دیں اس نے کہا دیکھو میں تم سے بات نہیں کر سکتی میری شادی ہو گئی ہے۔ اور اس کو کہا میں تمہارے بیٹے کو پانی میں پھینک دوں گا تم میری خواہش پوری کر و اس نے میری منت کی ایسا نہ کرو میں نے اس کے بچے کو پانی میں سر کی طرف سے ڈبو یا وہ پھر بھی نہ مانی مجھے اللہ رسول کا واسطہ دیا پر میں نہ ما نا اسی اثنا میں اس کا بچہ میرے ہاتھ سے م ر گیا۔

اب وہ اکیلی ہو گئی میں نے اس کو کہا اب بھی میری بات ما ن جاؤ اس نے کہا تم جو مرضی کر لو میں اللہ کا حکم نہیں توڑ سکتی میرے اوپر درندگی سوار تھی اور میں ناکام ہو گیا پر وہ لڑکی بہت روتی رہی اپنے بچے کے لیے میں نے سوچا با ہر جا کر یہ مجھ پر بچے کے ق ت ل کا مقدمہ کرے گی میں پ ھ ا ن س ی لگ جاؤ ں گا لہٰذا اس لڑکی کو بھی م ا ر دوں میں نے اپنا گ ن ا ہ چھپانے کے لیے لڑکی کو بھی م ا ر کر پانی میں پھینک دیا میں نے بیس سال پہلے اس ماں اور بیٹے کو ق ت ل کیا تھا ڈر کے مارے میں نے کشتی کا کام چھوڑ دیا اور قصاب کا پیشہ اختیار کر لیا مگر اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہے۔ آج بیس سال گزر جانے کے بعد بظاہر میں بے قصور ہوں اس آدمی کو ق ت ل میں نے نہیں کیا مگر اس ق ت ل کے بدلے میں اللہ تعالیٰ نے مجھے آج پ ھ ا ن س ی کے تختے پر لا کھڑا کیا سچ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی لاٹھی بے آواز ہوتی ہے۔۔!!

Categories

Comments are closed.