ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ تمام رات جاگتے رہے

ازواج مطہرات میں سے کسی نے عرض کی ایک مرتبہ نبی اکرمﷺ تما م رات جاگتے رہے اور کروٹیں بدلتے رہے ۔ ازواج مطہرات میں سے کسی نے عرض کی یا رسول اللہﷺ آج نیند نہیں آتی ارشاد فرمایا کہ ایک کھجور پڑی ہوئی تھی میں نے اٹھا کر کھالی کہ ضائع نہ ہو۔اب مجھے یہ فکر ہے کہ کہیں وہ صدقہ کی نہ ہو اقرب یہی ہے کہ وہ حضورﷺ کی اپنی ہی ہوگی۔

مگر چونکہ صدقہ کا مال بھی حضورﷺ کے یہاں آتا تھا ۔ اس شبہ کیوجہ سے نبی اکرمﷺ کو رات بھر نیند نہیں آئی کہ خدانخواستہ وہ صدقہ کی ہو اور اس صورت میں صدقہ کا مال کھایا گیا ہو۔یہ تو آقا کا حال ہے کہ محض شبہ پر رات بھر کروٹیں بدلیں اور نیند نہیں آئی ۔ اب غلاموں کا حال دیکھو کہ رشوت ، سود چوری ، ڈاکہ ہر قسم کا مال کس سرخروئی سے کھاتے ہیں اور بڑے ناز سے اپنے آپ کو غلامان محمدﷺ شمار کرتے ہیں ۔

ازواج مطہرات (نبی اکرم ا کی بیویوں) کے متعلق اللہ تعالیٰ اپنے پاک کلام ( سورہ احزاب ۔ آیت ۳۲) میں ارشاد فرماتا ہے۔ (ےٰنِسَآءَ النَّبِیِّ لَسْتُنَّ کَاَحَدٍ مِنَ النِّسَاءِ) اے نبی کی ازواج (مطہرات) تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو تم بلند مقام کی حامل ہو۔ تمہاری ایک غلطی پر دوگنا عذاب دیا جائے گا۔ اور اسی طرح تم میں سے جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی فرماں برداری کرے گی اور نیک کام کرے گی ہم اسے اجر (بھی) دوہرا دیں گے اور اس کے لئے ہم نے بہترین روزی تیار کر رکھی ہے جیساکہ سورہ احزاب آیت ۳۰ اور ۳۱میں مذکور ہے۔

قرآن کریم‘ روز قیامت تک کے لئے لوگوں سے مخاطب ہے: (وَلَآ اَنْ تَنْکِحُوآ اَزْوَاجَہُ مِنْ بَعْدِہِ اَبَداً) (سورہ احزاب ۔ آیت ۵۳) اے ایمان والو! تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ رسول اکرم کے بعد ان کی ازواج مطہرات میں سے کسی سے نکاح کرو۔ یعنی ازواج مطہرات (نبی اکرم ﷺ کی بیویوں) تمام ایمان والوں کے لئے ماں (ام المؤمنین) کا درجہ رکھتی ہیں۔نبی اکرم ﷺ نے چند نکاح فرمائے۔ ان میں سے صرف حضرت عائشہؓ کنواری تھیں، باقی سب بیوہ یا مطلقہ تھیں۔ نبی اکرم ﷺ نے سب سے پہلا نکاح‘ ۲۵ سال کی عمرمیں حضرت خدیجہؓ سے کیا۔ حضرت خدیجہؓ کی عمر نکاح کے وقت ۴۰ سال تھی، یعنی حضرت خدیجہ ؓ آپ ﷺ سے عمر میں ۱۵ سال بڑی تھیں۔ نیز وہ نبی اکرم ا کے ساتھ

نکاح کرنے سے پہلے دو شادیاں کرچکی تھیں، اور اُن کے پہلے شوہروں سے بچے بھی تھے۔ جب نبی اکرم ا کی عمر ۵۰ سال کی ہوئی تو حضرت خدیجہ ؓ کا ان ت ق ال ہوگیا۔ اس طرح نبی اکرم ﷺ نے اپنی پوری جوانی (۲۵ سے ۵۰ سال کی عمر) صرف ایک بیوہ عورت حضرت خدیجہؓ کے ساتھ گزاردی۔۵۰سے ۶۰ سال کی عمر میں آپ ﷺ نے چندنکاح کئے۔ یہ نکاح کسی شہوت کو پوری کرنے کے لئے نہیں کئے کہ شہوت ۵۰ سال کی عمر کے بعد اچانک ظاہر ہوگئی ہو۔ اگر شہوت پوری کرنے کے لئے آپ ﷺ نکاح فرماتے تو کنواری لڑکیوں سے شادی کرتے۔ نیز حدیث میں آتا ہے کہ آپ ﷺ نے کسی عورت سے شادی نہیں کی اور نہ کسی بیٹی کا نکاح کرایا مگر اللہ کی طرف سے حضرت جبرئیل علیہ السلام وحی لے کر آئے۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *