””ایک محلے کی عورتیں تمام رات۔““

حضرت مخدوم نے بیان فرمایا کہ مولانا برہان الدین ساوی کے ساتھ میں ایک روز غیاث پور سے واپس ہو رہا تھا مولانا نے مجھ سے دو قصے بیان کیے ایک تو یہ کہ ایک جوان میرے خاندان میں تھا نیک تندرست اور توانا اس کی شادی ہوئی بہت دن ہو گئے لیکن کبھی بھی اس کو اپنی بیوی کے ساتھ یکجا نہیں دیکھا گیا گھر کے تمام لوگ حیران تھے کہ ایسا توانا تندرست اور زندہ دل نوجوان آخر کیا بات ہے

کے بیوی کے ساتھ تعلقات اس سے سرزد ہوتے نہیں دیکھے گئے اور شادی کے بعد اس کا چہرہ دن بدن زرد ہونے لگا لوگوں نے اس سبب پوچھا اس نے کہا مجھ پر ایک بلا مسلط ہے جو ہم بیان نہیں کر سکتے۔ پھر اس نے اپنے قریبی دوستوں سے کہا کہ جب رات کافی گزر جاتی ہے ایک آدمی آتا ہے اور میرے دونوں ہاتھ پیٹھ کی طرف سے باندھ دیتا ہے اور میری بیوی کو اپنے قابو میں کرکے جو چاہتا ہے کرتا رہتا ہے اگر کبھی میں اپنی بیوی سے قربت حاصل کرنا چاہتا ہوں تو وہ یکایک نمودار ہو جاتا ہے اور ایک زبردست طمانچہ مجھ کو رسید کرتا ہے جس کی وجہ سے کئی روز تک میرے سر میں درد رہتا ہے

اور اس کے بعد میرے ہاتھوں کو مضبوطی کے ساتھ پیچھے باندھ دیتا ہے اور خود اس عورت کے ساتھ لطف اٹھاتا ہے میرے خاندان والے حضرت شیخ کے مرید تھےاس واقعہ کو میں نے حضرت شیخ سے بیان کیا حضرت خواجہ نے فرمایا کہ تمہارے خاندان میں کوئی ایسا آدمی ہے جو کشمیری دروازے کے باہر سوئے وہی نوجوان جو اس بلا میں گرفتار تھا تیار ہو گیا اور اس نے کہا میں سوؤں گا حضرت خواجہ نے ایک تحریر اس کے ہاتھ میں بھی اور اتوار یا منگل کی رات مقرر کرکے فرمایا کہ اس جگہ رات گزارو پہلے ایک خوف ناک آواز سنو گے۔

پھر خوفناک سورتیں جیسے عظیم الشان ہاتھی بندر اور شیر وغیرہ کی سامنے آئیں گی تم ان سے ہرگز نہ ڈرنا اس کے بعد ایک آدمی سفید براق چہرے والا سفید کپڑا پہنے ہوئے گھوڑے پر سوار نمودار ہوگا اس کے ساتھ کئی پیادے بھی سفید رنگت والے سفید کپڑوں میں ملبوس نمودار ہوں گے تم کاغذ کو کھول کر ہاتھ میں لے لینا ان کو دکھلانا وہ نوجوان رات کو حضرت شیخ کی ہدایت کے مطابق کشمیری دروازہ کے باہر شب کو قیام پذیر ہو گیا تھوڑی رات گزری تھی کہ اسی طرح کی خوفناک آوازیں آنے لگی وہ سمجھ گیا وہی آواز ہے جس کے بارے میں حضرت شیخ نے فرمایا تھا

پھر اسی طرح ہاتھی بندر وغیرہ کی سورتیں میں نمودار ہوئی وہ پڑا پڑا سب کو دیکھتا رہا اس کے بعد ایک آدمی گوری رنگت والا سفید لباس میں ملبوس گھوڑے پر سوار نمودار ہوا اس کے ساتھ سفید رنگ والے سفید لباس میں ملبوس کی پیادے بھی تھے ۔ اس نے جب ان لوگوں کو دیکھا تو دور سے کاغذ کھول کر ہاتھ میں لے لیا اور ان کے سامنے کھڑا ہو گیا ان کی پیادوں میں سے ایک نے دیکھ لیا کہ ایک آدمی ہاتھ میں کاغذ لیے کھڑا ہے اس نے بڑھ کر سوار سے کہا سوار گھوڑا روک کر کھڑا ہو گیا جو ان کو بلایا اور کاغذ اس کے ہاتھ سے لے لیا۔

اس تحریر کو پڑھتے ہی وہ گھوڑے سے اتر گیا غیاث پور کی طرف منہ کر کے سر جھکا دیا اس کے بعد اس نے اس جوان سے کہا کہ تم اس ملزم کو پہچانتے ہو جو تمہارے اور تمہاری بیوی کے ساتھ یہ حرکت کرتا ہے اس جوان نے کہا جی ہاں میں دیکھ کر پہچان سکتا ہوں اس نے حکم دیا کہ جتنے بھی ادھر سے گزرے ہیں سب کو حاضر کیا جائے اس جوان کے سامنے جب سب پیش کئے گئے تو اس نے کہا ان سب میں وہ مجرم نہیں ہے پھر تحقیقات کرنے سے پتہ چلا کہ ایک شخص رہ گیا ہے وہ نہیں آیا ہے حکم ہوا اس کو بھی فورا” حاضر کرو وہ کپڑے سے منہ چھپائے ہوئے سامنے آیا

اس سوار نے کہا چہرہ کھول چہرہ کھولتے ہی اس جوان نے پہچان لیا کہ یہی وہ مجرم ہے اس سوار نے اس سے کہا کہ سن لو حضرت خواجہ نظام الدین اولیاء کے غلاموں میں سے ایک غلام کا وہ گھر ہے تو اپنی اس حرکت سے باز آجا اس نے کہا میں اس عورت پر عاشق ہوں میں ہرگز باز نہ آؤں گا سوار نے کہا اگر باز نہیں آئے گا تو گردن اڑا دی جائے گی اس نے کہا اب صرف یہی ہو سکتا ہے اس لیے کہ جب تک میں زندہ رہوں گا اس فعل سے باز نہیں رہوں گا۔

سوار نے جلاد کو بلا کر حکم دیا کہ اس کا سر قلم کر دو جلاد نے گردن اڑا دی اس کے بعد اس سوار نے اس جوان سے مخاطب ہو کر کہا کہ اے جوان جاؤ اور حضرت شیخ کی خدمت میں میرا سلام پہنچا دو اور عرض کرو کے آپ کے حکم کے ملتے ہی جس بدبخت نے آپ کے غلام کے گھر میں بے ادبی کی تھی اس کا سر قلم دیا گیا پھر وہ جوان اپنے گھر میں اپنی بیوی کے ساتھ جیسے شوہر رہتا ہے رہنے لگا اس نے حضرت خواجہ کے سامنے آکر جب یہ واقعہ بیان کرنا چاہا تو حضرت خواجہ نے کہا مجھے سب معلوم ہوگیا پھر فرمایا معلوم ہے یہ قوت کیسے حاصل ہوتی ہے

جو خدا کا ہو جاتا ہے اس کی ساری خدائی ہو جاتی ہے اللہ کا تابع ہوجانے کے بعد نقصان کا کوئی خوف ہی نہیں رہتا یہ وہ سودا نہیں ہے جس میں نقصان کا امکان ہو بس فائدہ ہی فائدہ ہے اور جو شخص اللہ خا لصتہ عبادت اور پر ستش نہیں کرتا بلکہ دوزخ کے خوف اور جنت کے لالچ میں پرستش کرتا ہے وہ حقیقت میں اللہ کی پرستش نہیں کرتا ہے۔

احیا ءمعلوم میں ایک جگہ کلام قدسی پیش کیا گیا ہے یعنی میرے بندوں میں میرا سب سے بڑا دشمن وہ ہے جو میری پرستش اور عبادت دوزخ کے خوف اور بہشت کے لالچ کی وجہ سے کرتا ہے کیوں کہ وہ دوزخ اور بہشت کا بندہ ہوا میرا بندہ نہیں ہوا حضرت مخدوم نے فرمایا کہ مجلس ابو علی فارمدی میں نے لکھا دیکھا ہے شیخ ابو علی شاہ فرماتے تھے کہ اگر لوگوں کو اللہ سے فرار کا موقع مل جاتا ہے تو سب ہی کے سر میں فساد پیدا ہو جاتا اللہ کے نیک بندے بہت کم ہیں زیادہ تر لوگ اپنی خواہشات کے غلام ہیں اللہ کے غلام اور بندے بہت کم ہیں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *