ایک عورت کے ہاں دس سال کے بعد بیٹا پیدا ہوا تو اسکی خوشی کی انتہا نہیں تھی لیکن جب نرس نے بچے کے

جمہ کی طبیعت اچانک خراب ہوئی تو انور اسے ہسپتال لے گیا ۔ انور کافی پریشان تھا مگر اس کی پریشانی اس وقت ختم ہو گئی جب لیڈی ڈاکٹر نے چیک اپ کے بعد نجمہ کو یہ خوشخبری سنائی کہ وہ ماں بننے والی ہے ۔ ماں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو جاری ہونے لگے اور انور بازار کی طرف مٹھائی لینے کے لئے چل پڑا ۔ نجمہ نے اس خبر کے لیے دس سال تک انتظار کیا تھا ۔

انور جب مٹھائی لے کر آیا تو اس نے پورے ہسپتال میں مٹھائی بانٹنا شروع کر دی اور اپنی بیوی کو واپس گھر لے آیا۔اب وہ نجمہ کا پہلے سے بھی زیادہ خیال رکھنے لگا ۔ اس کا ایک کریانہ سٹور تھا ۔ پہلے وہ سٹور پر رات گئے تک کامکرتا تھا کیونکہ رات کے وقت گاہک زیادہ آتے تھے مگر اب نجمہ کی وجہ سے وہ شام کو ہی گھر واپس آ جاتا ۔ دن گزرتے گئے اور آخر کار وہ دن آ گیا جس کا نجمہ اور اس کے شوہر کو بڑی شدت کے ساتھ انتظار تھا ۔ دس سال کے بعد نجمہ کا بچہ پیدا ہوا ، نجمہ کو جب ہے پتہ چلا کہ وہ ایک بیٹے کی ماں بن گئی ہے تو اس کی خوشی کی انتہا نہ رہی وہ اپنی تکلیف بھول گئی اور لیڈی ڈاکٹر سے کہا کہ میرا بچہ میرے سامنے لاؤ میں اپنے بچے کا دیدار کرنا چاہتی ہوں ۔

لیڈی ڈاکٹر جب بچہ اس کے سامنے لائی اور بچے سے کپڑا ہٹایا تو بچے کے ر پر چھڑا نہیں تھا اور اس کا دماغ سامنے حرکت کر تار کھائی دے رہا تھا ۔ یہمنظر دیکھ کر ماں رونے لگی اس نے لیڈی ڈاکٹر سے پوچھا کہ کیا میرا بچہ بی تو جاۓ گا نا تو اس نے کہا کہ اس طرح کے کینسر میں بچے کا بچنا تقریبا ناممکن ہے ۔ وہ ابھی ہسپتال میں ہی داخل تھی کہ دو دن کے بعد بچے کی وفات ہو لئی ہسپتال کا سارا سٹاف جو پہلے نجمہ اور انور کو مبارکباد دے رہا تھا اب وہی اس کے پاس لوگ ان دونوں کو تسلی دینا شروع ہو اب وہی اور نجمہ سے کہا کہ زندگی میں ایسے مشکل مراحل اکثر آجاتے ہیں مگر انسان صبر کرنے کے علاوہ کچھ بھی نہیں کر سکتا ۔ نجمہ نے ڈاکٹر سے کہا کہ مجھے اپنے کئے کی سزا ملی ہے ،

مجھے جب تک ٹھوکر نہیں لگی تھی تو میں غفلت کینیند میں سوئی ہوئی تھی مگر آج پہلی بار مجھے تکلیف ہوئی ہے اور اب میں ان دونوں سے ضرور معافی مانگوں گی ۔ ڈاکٹر نے کہا کہ آپ کس کی بات کر رہی ہیں اور آپ کس سے معافی مانگیں گی ۔ نجمہ نے کہا کہ میری انور کے ساتھ دوسری شادی ہوئی تھی کیونکہ انور کی پہلی بیوی کا انتقال ہو چکا تھاد انور کی پہلی بیوی سے دو بیٹیاں تھیں ایک کی عمر چھ سال اور دوسری کی آٹھ سال تھی ۔ جب میری شادی ہوئی تو دونوں بہت خوش تھیں اور ایک دوسرے سے کہتی تھیں کہ ہماری ماں اللہ میاں کے پاس چلی گئی ہے اور اللہ نے ہمیں یہ ماں عطا کی ہے ۔ انور کو بیٹے کی بہت خواہش تھی اس لیے اسنے میرے ساتھ شادی کی تھی ۔

شروع میں تو میں ان دونوں کو برداشت کرتی رہی مگر کچھ عرصہ بعد وہ مجھے زہر لگنے لگیں وہ میرے بہت قریب آ چکی تھیں کیونکہ وہ کافی عرصہ اپنی ماں کی محبت سے محروم رہی تھیں۔اب میں نے دل میں یہ فیصلہ کر لیا تھا کہ ان دونوں کو اپنے سے دور کر دوں گی ۔ میں نے اپنا سوتیلا پن دکھانا شروع کر دیا اور انور کی غیر موجودگی میں ان پر ظلم ڈھانے لگی ۔ میں نے ان پر اتنا زیادہ ظلم کیا جو کہ شاید ان کی اوقات سے بھی زیادہ تھا اور صرف یہی نہیں بلکہ جب انور گھر آتا تو میں الثان دونوں کی شکایت کرتی ، وہ بے چاری ڈری اور سہمی ہوئی خاموش رہتی تھیں وہ بہتچوٹی تھیں اس لیے اپنے باپ کے سامنے میری شکایت نہیں کر سکتی تھیں ۔ انور صبح دکان پر چلا جاتا تو میں ان کو اپنی مرضی کا ناشتہ دیتی تھی ابھی وہ کھانا کھارہی ہوتیں کہ میں کھاناان کے سامنے سے اٹھالیتی۔

ایک دن وہ بے چار یاں بھوک سے نڈھال ہو کر کچن میں کھانا تلاش کرنے لگیں تو میں نے گرم سیخ سے ان کے ہاتھ جلادیے ظلم کا یہ سلسلہ کافی عرصہ جاری رہا۔ایک دفعہ میں نے ان کو رسی سے باندھ کر مچھت سے لٹکایا ہوا تھا کہ اچانک ان کی خالہ گھر میں داخل ہوئی اور اس نے سب کچھ اپنی آنکھوں سے دیکھ لیا وہ مجھ سے جھگڑنے لگی اور کہنے لگی کہ تم انسان نہیں ایک ڈائن ہو ہمارا جھگڑا جاری تھاکہ انور گھر میں داخل ہوا اس نے انور کو سب کچھ بتادیا مگر انور کو مجھ پر بھروسہ تھا ۔ پھر ان کی خالہ ان دونوں کو اپنے ساتھ اپنے گھر میں لے گئی ان دونوں کے جانے کے بعد گھر میں مجھے ہر وقت ان کی چنیں سنائی دیتی تھیں اور میں خوف کے مارے اپنے کانوں میں انگلیاں ڈال دیتی ۔ گھر بہت ویران ہو چکا تھا اور مجھے اس ویرانے سے ڈر لگنے لگا میری خواہش تھی کہ اللہ میری گود ہری کر دیے تاکہ مجھے اس ویرانے سے نجات مل جاۓ مگر آٹھ سال بیت کئے اور اس کے بعد آکر مجھے اولاد کی خوشخبری ملی مگر میر ابیٹادودن بعد ہی اس دنیا سے چل بسا۔اس نے انور سے کہا کہ میں ہسپتال سے سیدھالان دونوں بچیوں کے پاس جاؤ گی

دانوراور نجمہ ان کے گھر چلے گئے اور گھر جاتے ہی نجمہ ان کے پیروں میں گر گئی اور رورو کر ان سے معافی مانگنے لگی ۔ نجمہ نے کہا کہ میرے ساتھ دوبارہ میرے گھر چلو لڑکیوں نے کہا کہ ہم نے آپ کو معاف کر دیا مگر ہم اپنی خالہ کے پاس ہی رہیں گی ۔ نجمہ اب گھر میں اکیلی رہتی ہے اسے اب گھر کی ویرانی سے وہ خوف آتا ہے۔اس کہانی سے یہ سبق ملتا ہے کہ اگر آپ اس دنیا میں کسی کو تکلیف میں رکھیں گے تو ایک دن وہی تکلیف آپ کو بھی سہنی پڑے گی اس لئے اللہ تعالی سے ہماری دعا ہے کہ وہ ہمیں اچھے کام کرنے کی توفیق عطا کرے آمین

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *