ایک عورت کے دو بچے تھے ۔ اس کے گھر میں ایک کتیا تھی اور

سی گاؤں میں ایک عورت رہتی تھی ۔ جس کے دو بیٹے تھے ۔ ایک دن اس کے بڑے بیٹے نے ماں سے فرمائش کی آج ابلی ہوئی سویاں کھانے کو دل چاہ رہا ہے ۔ ماں نے جونی اپنے بیٹے کی فرمائش سنی جھٹ برتن میں پانی ڈال کر اسے چولے پر ابلنے کیلئے رکھ دیا ۔

اسی گھر میں ایک کتیار ہتی تھی جس کے دو چھوٹے چھوٹے پلے بھی تھے ۔ کتیا نے ان کو اس گھر میں جنم دیا تھا ۔ مگر عورت کو ان پلوں سے بہت چڑ تھی ۔ حالانکہ وہ صحن کے ایک کونے میں پڑے رہتے تھے اور گھر کی کسی چیز کو

بھی خراب نہیں کرتے تھے ۔ بہر حال عورت نے گرم کھولتے ہوئے پانی سے سویاں نکال کر ان پر چینی ڈال ، کر اپنے بچوں کو دیں ۔ جب عورت اپنے بیٹے کو سویاں دے رہی تھی اتفاق سے وہی کتیا اس وقت وہاں سے گزری ۔ اس کارخ اپنے بچوں کی

طرف تھا ۔ اس دوران عورت کے ذہن میں شیطانی سوچ ابھری اس نے گرم کھولتے ہوئے پانی کی دیجی کتیا پر انڈیل دی ۔ کتیا ساری رات تکلیف کی وجہ سے درد ناک آوازیں نکالتی رہی ۔ صبح کو عورت اور گھر کے سب افراد نے دیکھاکتیاکے

جسم پر بڑے بڑے چھالے تھے اور وہ مر چکی تھی ۔ دوسرے دن اس کے پہلے بھی ماں کے بغیر پیچ پیچ کر مرگئے ۔ محلے کی کچھ بزرگ خواتین نے اس عورت کو نصیحت کی کہ تمہیں ایسا نہیں کرنا چاہیے تھا ۔ بہر حال اب تم اللہ سے توبہ کر لو ۔ مگر

عورت نے حقارت سے کہا ۔ اس حقیر کتیا کی خاطر اللہ مجھے کیونکر مذاب دے کا ۔ کچھ دن بعد بڑے بیٹے کو بخار ہوا اور وہ دو دن کے اندر مر گیا ابھی اس کاز ثم مندمل نہیں ہوا تھا کہ اس کا دوسرا بیٹا بھی دوسرے ہفتے مر گیا ۔ دو بیٹوں کی علاج کرایا ہر ڈاکٹر کو دکھایا مگر بے سود ۔ اب میں عورت ہر ایک کو جانوروں کے ساتھ رحم کی نصیحت کرتی ہے اور اللہ سے توبہ کرتی ہے اور ہر آنے جانے والے سے کہتی ہے کہ وہ جانوروں پر ظلم نہ کریں کیونکہ اس سے اللہ ناراض ہوتا ہے ۔

Categories

Comments are closed.