ایک عورت کو اللہ ہر بار اولاد نرینہ سے نوازتا چند ماه بعد وہ بچہ فوت ہو جاتا ۔ لیکن

اس کے صبر کا بندھن ٹوٹ گیا ۔ وہ آدھی رات کو زندہ لاش کی طرح اٹھی اور اپنے خالق حقیقی کے سامنے سر سجدے میں رکھ کر خوب روئی اور اپنا غم بیان کرتے ہوۓ کہا ۔ اے کون و مکاں کے مالک . ! تیری اس گناہگار بندی سے کیا تنسیر ہوئی کہ سال میں نو مہینے خون جگر ۔ دے کر اس بچے کی تکلیف اٹھاتی ہوں اور جب امید کا درخت پھل لاتا ہے تو صرف چند ماہ اس کی بہار دیکھنا نصیب ہوتا ہے ۔

آۓ دن میرا دل غم کے حول کا شکار رہتا ہے کہ میرا بچہ پروان چڑھے گا بھی کہ نہیں ۔ اے ڈکھی دلوں کے بھید جاننے والے . ! مجھ بے نوا پر اپنا لطف و کرم فرما – دے ۔ ” روتے روتے اسے اونگھ آ گئی ۔ خواب میں ایک شگفتہ پر بہار باغ دیکھا جس میں وہ سیر کر رہی تھی کہ سونے چاندی کی اینٹوں سے بنا ایک محل نظر آیا جس کے ، اوپر اس عورت کا نام لکھا ہوا تھا ۔

باغات اور تجلیات دیکھ کر وہ عورت خوشی سے بیخود ہو گئی ۔ محل کے اندر جا کر دیکھا تو اس میں ہر طرح کی نعمت موجود تھی اور اس کے تمام بچے بھی اسی محل میں موجود تھے جو اسے وہاں دیکھ کے خوشی سے جھوم اٹھے تھے ۔ پھر اس عورت نے ایک غیبی آواز سنی کہ تو نے اپنے بچوں کے مرنے پر جو صبر کیا تھا ۔ یہ سب اس کا اجر ہے ۔ ” خوشی کی اس لہر سے اس کی آنکھ کھل گئی ۔

جب وہ خواب سے بیدار ہوئی تو اس کا سارا ملال جاتا رہا اور اس نے بھیگی ہوئی آنکھوں سے عرض کیا ” یا الٹی اب اگر تو اس سے بھی زیادہ میرا خون بہا دے تو میں راضی ہوں ۔ اب اگر تو سینکڑوں سال بھی 2 مجھے اس طرح رکھے تو مجھے کوئی غم نہیں ۔ یہ انعامات تو میرے صبر سے کہیں زیادہ ہیں

Categories

Comments are closed.