ایک عورت نے اپنے آس پاس دیکھا اور پھر شرماتے ہوۓ بولی ! حکیم صاحب مجھے مردانہ کمزوری ہے

یک دور دراز کے گاؤں میں ایک حکیم چلتا پھرتا کہیں سے آ نکلا اور اپنی دکان بنا کر بیٹھ گیا ۔ اس گاؤں کے لوگوں کو علاج معالجے کی کوئی سہولت میسر نہ تھی اس لئے اس کا کام خوب چل پڑا ۔ کچھ ہی دنوں بعد حکیم نے یہ بات محسوس کر لی کہ ان سادہ دیہاتیوں کے پاس میرے علاوہ کوئی حکیم نہیں ہے ۔

لہذا مجھے خوب فائدہ اٹھانا چاہئے ۔ اب جیسے ہی کوئی گاہک اس کے پاس آتا حکیم صاحب اس سے خوب پیسے بٹورتے اوردوا کے نام پر اس کو میٹھی گولیاں کوٹ کر دے دیتے ۔ سب دیہاتیوں کا اس پر یقین بن چکا تھا ۔ اس سے ان میں سے اکثر آرام بھی مل جاتا تھا ۔ کرتے کرتے حکیم نے بہت ساری دولت کو جمع کر لی ۔ گاؤں میں ایک چالاک عورت بھی رہتی تھی اور اس شروع سے ہی حکیم پر گہری نظر تھی وہ جانتی تھی کہ یہ کوئی حکیم نہیں بلکہ ایک فراڈیا ہے ۔ جو لوگوں کو لوٹتا ہے لیکن اس کو حکیم کے خلاف کاروائی کرنے کا موقع نہیں مل رہا تھا ۔ایک دن وہ چالاک عورت دو پہر کو جب سارے لوگ گھروں میں سورہے تھے حکیم کے پاس پہنچ گئی ۔

حکیم نے اس کو کچے مٹکے کا پانی پلایا اور آنے کا مقصد دریافت کیا ۔ اس عورت نے چور نظروں سے ادھر ادھر دیکھا اور حکیم کے کان کے پاس منہ کر کے بولی کہ ر مجھے مردانہ کمزوری ہو گئی ہے ۔ کوئی اچھی سی دوا دو ۔ حکیم کو ہنسی تو بہت آئی لیکن وہ چھپا گیا ۔ پہلے تو حکیم نے سوچا کہ اس عورت کو بتا دے کہ مردانہ کمزوری مردوں کو ہوتی ہےعورتوں کو نہیں ۔ لیکن پھر وہ پیسے بٹورنے کے چکر میں آ گیا اور کہا کہ آپ فکر نہ کریں دوا ہے تو مہنگی لیکن آپ کو ایک ہفتے میں فرق پڑ جاۓ گا ۔ حکیم نے دوا کی پڑیا بناکر اس عورت کو دے دی اور جب پیسے طلب کیے تو اس چلاک عورت نے کہا کہ میرے پاس پیسے تو نہیں ہیں ۔

ہاں تم میرا ایک کانٹا رکھ لو یہ خالص سونے کا ہے ۔ حکیم کے تو مزے لگ گئے ۔ اس کو سوچ سے سو گنا زیادہ مل گیا ۔ جیسے ہی وہ عورت دکان سے باہر نکلی حکیم اس کی بے وقوفی پر دیر تک ہنستا رہا ۔مگر وہ عورت بھی تو چلاک تھی اس نے شام ہوتے ہی شور مچادیا کہ حکیم نے میرے گھر میں گھس کر میری عزت سے کھیلنے کی کوشش کی اور سارا سونا اور پیسے لے کر فرار ہو گیا ۔ گاؤں کے لوگ بہت حیران ہوئے اور اس عورت کو ساتھ لے کر حکیم کی دکان پر جا پہنچے ۔ لوگوں نے حکیم کے سامنے عورت کے لگائے ہوئے الزامات دہراۓ تو حکیم بیچارا پریشان ہو گیا اور کہنے لگا کہ نہ تو میں اس کے گھر گھسا ہوں اور نہ ہی اس کی عزت پر حملہ کیا ہے ۔ لیکن وہ عورت ضد کر رہی تھی کہحکیم نے ایسا ہی کیا ہے اس کی دکان کی تلاشی لی جاۓ ۔ گاؤں والوں نے جب دکان کی تلاشی لی تو اس عورت کا ایک کا شادکان سے برآمد ہو گیا

جبکہ دوسرا اس کے کان میں تھا۔اب حکیم مجرم ثابت ہو چکا تھا حکیم نے اپنی صفائی دینے کے لیے کہا کہ یہ کانشامیں نے اس عورت سے دوادینے کے بدلے لیا تھا ۔ جب لوگوں نے پوچھا کہ کون سی دوا تو حکیم بولا کہ مردانه کمزوری کی دوا ۔ پھر بس کیا ہوالو گوں نے اسے جوتے مارنے شروع کر دیے اور اب وہ حکیم حکمت چھوڑ کر مزدوری کرتا ہے

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *