ایک عورت بہت نیک تھی جب بھی اذان ہوتی وہ سارے کام چھوڑ کر پہلے نماز پڑ ھتی۔ایک دن اس

یک سبق آموز واقعہ جو کہ قرآن کی ایک معلمہ کے ساتھ مصر میں پیش آیا اور اس کی ایک ساتھی نے اپنے شاگردوں کو سنایا ۔ وہ معلمہ ہمیشہ اپنے شاگردوں کو نصیحت کرتی تھی کہ قرآن پاک کی اس آیت کے مطابق زندگی گزاریں ۔ ( اے پروردگار میں نے تیری طرف آنے میں جلدی کی تاکہ تو خوش ہو ) وہ کہا کرتی کہ میں اس آیت سے بہت متاثر ہوں ۔ سے بہت متاثر ہوں , جب بھی میں اذان کی آواز سنتی ہوں اور اگر میں کسی بھی کام میں مصروف ہوں ۔ تو میں اپنے آپ کو یہ آیت یاد دلاتی ہوں اور سب کچھ مچوڑ

کر نماز ادا کرنے کھڑی ہو جاتی ہوں ۔ رات کو دو بجے جب تہجد کا الارم بجتا ہے اور میں گہری نیند میں مزید سونا چاہتی ہوں تو یہ آیت مجھے یاد آ جاتی ہے اور مجھے جگا دیتی ہے ۔ اس خاتون کے شوہر کی عادت تھی کہ کام سے واپس گھر آتے وقت وہ اسے فون پر کھانے کے متعلق ہدایات دے دیتا , تاکہ اس کے گھر پہنچنے پر گرما گرم کھانا اس کو تیار ملے اور وہ کھانا کھا کر سو جاۓ ۔ ایک دن اس نے فون پر مٹی کھانے کی فرمائش کی ۔ ” انگور کے پتوں میں چاول بھرے جاتے ہیں اور پھر ان کو ملکی

آنچ پر پکنے رکھا جاتا ہے ۔ ” اتنی دیر میں اذان کی آواز سنائی دی تو اس کے صرف تین رولز رہ گئے تھے ، جن کے بھرنے میں زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ لگتے لیکن اس نے حسب عادت سب کام چھوڑ دیئے اور نماز ادا کرنے کھڑی ہو گئی ۔ اس خاتون کا شوہر اسے بار بار فون کرتا رہا لیکن کوئی جواب موصول نہیں ہوا ۔ جب وہ گھر پہنچا تو اس نے دیکھا کہ اس کی بیوی سجدے میں ہے اور کھانا ابھی تک تیار نہیں ہے ، اور اس نے یہ بھی دیکھا کہ صرف تین رولز بھرنے رہ گئے تھے تو اسے

شدید غصہ آیا اور اس غصے کے عالم میں اس نے اپنی بیوی کو ڈانٹنا شروع کر دیا اور کہنے لگا تم اپنا کام ختم کر کے دیچی چولہے پر رکھ کر بھی نماز ادا کر سکتی تھی ۔ تین رولز بنانے میں کتنی دیر لگتی ہے لیکن اس کی بیوی کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا ۔ جب وہ اس کے پاس آیا تو اس نے دیکھا کہ سجدے کی حالت میں اس کی بیوی کا انتقال ہو چکا تھا ۔ سبحان اللہ اگر اس نے ہماری طرح یہ سوچا ہوتا کہ چلو کوئی بات نہیں پہلے اپنا کام ختم کر لیتے ہیں پھر نماز پڑھ لیں گے تو اس کا انتقال کچن

میں ہوتا لیکن ایک شخص کا انتقال اسی حالت میں ہوتا ہے جس پر وہ ساری زندگی گزارتا ہے اور اسی حالت میں وہ دوبارہ اٹھایا جاۓ گا ۔ ہمارے آقا حضرت محمد صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے ارشاد فرمایا ! کہ ہر شخص اس حالت میں اٹھایا جائے گا جس میں فوت ہوا ۔ آیئے آج ایک عہد کریں جیسے ہی اذان کی آواز سنائی دے سب کام ایک طرف رکھیں اور نماز کے لیے اٹھ کھڑے ہوں ( زیادہ سے زیادہ ہیں منٹ تک جو کہ اقامہ ٹائم بھی ہے ۔ ) ہمارے آقا صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے کسی نے پوچھا کہ اللہ تعالی کے نزدیک سب سے محبوب معمل کیا ہے ، انہوں نے جواب دیا نماز کو کو اس کے اولین وقت میں ادا کرنا ۔

Categories

Comments are closed.