ایک عورت بادشاہ کو ہر رات خواب میں کہتی کہ آج آؤں یا کل

یک بادشاہ نے رات کو ایک عجیب و غریب خواب دیکھا کہ ایک عورت بادشاہ سے کہہ رہی تھی کہ آج آؤں یا کل آؤں ۔ بادشاہ ڈر گیا اور اس کی آنکھ کھل گئی ، دوسرے دن دوبارہ بادشاہ کو وہی خواب آیا تو بادشاہ نے اپنی بیٹی مہرالنساء سے خواب کی تعبیر پوچھی ۔ شہزادی مہرانساء خوابوں کی تعبیر کا علم رکھتی تھی شہزادی نے بادشاہ سے کہا کہ اس بار اگر آپ کو خواب میں وہی عورت آ کر پوچھے کہ آج آؤں یا کل آؤں تو آپ اسے کہہ دینا کہ نا آج آؤ اور نہ کل بلکہ ابھی کے ابھی آجاؤ ۔ بادشاہ نے اپنی بیٹی کی بات پر عمل کیا اور سو گیا ۔ رات کو وہی عورت خواب میں آئی اور پہلے والا سوال کیا ۔

بادشاہ نے عورت سے کہا تم ابھی کے ابھی آجاؤ ۔ یہ سن کر عورت مسکرائی اور غائب ہو گئی ۔ صبح بادشاہ جیسے ہی نیند سے بیدار ہوا تو ایک در باری نے بادشاہ کو اطلاع دی کہ پڑوسی ملک کے بادشاہ نے ہمارے ملک پر حملہ کر دیا ہے ۔ بادشاہ نے فورا اپنی افواج کو حکم دیا کہ جنگ کے لئے تیاری کی جاۓ مگر دشمن افواج نے اچانک حملہ کر دیا تھا اس لئے ان کے حملے کا جواب دینا اتنا آسان نہ تھا اور بادشاہ کی فوج کو پسپائی اختیار کرنا پڑی ۔ جب بادشاہ کو یقین ہو گیا کہ اب شکست یقینی ہے تو وہ اپنی بیٹی کو ساتھ لے کر جنگل کی طرف بھاگنے لگا ۔ بادشاہ کو جنگل میں ہی شام ہو گئی ، بھاگ بھاگ کر

شہزادی کے پاؤں میں چھالے پڑ گئے جنگل کے باہر بادشاہ کو ایک گھر نظر آیا تو بادشاہ گھر کی طرف روانہ ہوا ۔ بادشاہ نے جب دروازے پر دستک دی تو باہر ایک آدمی آیا جو بادشاہ کے دربار کی وزارت کر چکا تھا ۔ اس نے بادشاہ کو نے وزیر کو سب بتادیا تو وزیر نے کہا کہ آپ جتنے دن چاہیں میرے گھر میں رہ سکتے ہیں کیونکہ آپ کے میرے اوپر بہت سارے احسانات ہیں اور آپ کی خدمت کر کے مجھے بہت اچھا محسوس ہو گا ۔ رات ہوئی تو بادشاہ کو وزیر اور اس کی بیوی کی باتوں کی آواز آئی ، وزیر اپنی بیوی سے کہہ رہا تھا کہ یہ مصیبت اب پتہ نہیں کتنے دن ہمارے گھر اندر آنے کا لا

میں رہے گی اب یہ بادشاہ نہیں بلکہ فقیر بن چکا ہے ۔ بادشاہ نے وزیر کی یہ بات سنی تو اسے بہت افسوس ہوا اور صبح ہوتے ہی شہزادی کو ساتھ لے کر وزیر کے گھر سے نکل گیا ۔ وزیر نے روکنا چاہا تو بادشاہ نے کہا کہ میں آپ کی مہمان نوازی سے کافی متاثر ہو چکا ہوں اب مزید آپ کو تکلیف نہیں دینا چاہتا ۔ بادشاہ آگے بڑھا تو سرحد کے پار ایک چھوٹی سی ریاست میں داخل ۔ ہوا ۔ اس ریاست کے نواب نے بادشاہ کو دیکھا تو بہت خوش ہوا ۔ وہ نواب بادشاہ کا پرانا دوست تھاجب اسے حقیقت کا پتہ چلا تو اسے بہت دکھ ہوا ۔ نواب بادشاہ کو اپنے گھر لے آیاد پہلی ہی رات نواب کی بیوی مر گئی جسے ایک

پیاری لگ گئی ۔ نواب ایک عامل کو اپنے گھر لے آیا تو عامل نے اپنے عمل سے نواب کو بتایا کہ جو مہمان آپ کے گھر ٹھہرے ہیں یہ آپ کے لیے منہوس ہیں بادشاہ نے جب یہ سنا تو چپکے سے نواب کے گھر سے بھی روانہ ہو گیا ۔ بادشاہ کو اپنے محل کی عیش و عشرت بہت یاد آ رہی تھی آگے جا کر بادشاہ کی نظر ایک محل پر پڑی ، بادشاہ کو یہ جگہ کچھ جانی پہچانی سی لگی اچانک بادشاہ کو ن یاد آیا کہ یہ تو میرے داماد کا گھر ہے جہاں بادشاہ نے اپنی بڑی بیٹی کی شادی کی تھی ۔ جب بیٹی نے اپنے باپ اور بہن کو اس حالت میں دیکھا تو بہت روئی اور ان کو اندر لے گئی تھکا ہارا بادشاہ جب سونے لگا تو اس کی نظر حچت پر

لگے ایک سونے کے فانوس پر پڑی ، جب اس نے غور سے دیکھا تو فانوس کو ایک دیمک نما کیڑا کھا رہا تھا ۔ بادشاہ جلدی سے اٹھ کر بیٹھ گیا کہ کہیں فانوس میرے اوپر ہی نہ آ جائے و دیواروں پر غور کیا تو ادھر بھی کیڑے تھے جو کمرے میں موجود ہر چیز کو دیمک کی طرح چاٹ رہے تھے ۔ بادشاہ نے شہزادی مہرانساء کو نیند سے بیدار کیا اور اس سے کہا کہ میں اپنی محوست اپنی بیٹی کے گھر نہیں پھیلا سکتا ۔ تم ادھر شہر جاؤ میں کہیں اور چلا جاتا ہوں مگر شہزادی نے کہا کہ میں آپ کو اکیلا نہیں چھوڑ سکتی ۔ پھر دونوں آدھی رات کو ہی وہاں سے روانہ ہو گئے ۔ صبح کی اذان کے

وقت دونوں باپ بیٹی کو ایک جھونپڑی نظر آئی جس کے اندر سے دھواں نکل رہا تھا ۔ بادشاہ جھو نپڑی کے اندر داخل ہوا تو ایک درویش بیٹھا ہوا تھا ۔ بادشاہ نے درویش کو سلام کیا تو درویش نے کہا تم نے خواب میں عورت کو آج ہی بلا کر اچھا کیا اگر کل بلاتے تو مشکل میں پھنس جاتے ، بادشاہ درویش کی بات سن کر حیران ہوا پھر درویش نے کہا کہ تم نے خواب میں جو عورت دیکھی تھی وہ اصل گردش تھی جو برا وقت لے کر پوچھتی تھی کہ آج آؤں یا کل شہزادی مہرانساء جانتی تھی کہ بڑھاپے میں اگر آپ پر کوئی آزمائش آتی تو آپ برداشت نہ کر پاتے اس لیے آپ کی بیٹی نے آپ

کو مشورہ دیا کہ اسے ابھی آنے کا کہوں مگر اب تمہارے لیے اچھی خبر یہ ہے کہ برا وقت اب ختم ہونے والا ہے آپ کے وزیر نے فوج کو دو بارہ اکٹھا کیا اور دشمن فوج پر حملہ کر دیا جس کی وجہ سے دشمن فوج پیچھے ہٹنے پر مجبور ہو گئی وزیر آپ کی واپسی کا انتظار کر رہا ہے ۔ بادشاہ یہ سن کر بہت خوش ہوا اور خدا کا شکر ادا کیا کہ اس مشکل وقت سے نجات ملی ۔ بادشاہ اور شہزادی ب محل میں پہنچے تو ان کا شاندار استقبال کیا گیا ۔ کسی بھی مشکل گھڑی میں اگر صبر سے کام لیا جائے تو اچھا وقت ضرور آتا ہے مشکل وقت خدا کی طرف سے آزمائش ہوتی ہے اور مشکل کے بعد آسانی بھی ہوتی ہے

Categories

Comments are closed.