ایک علوی خاندان کا شخص فوت ہو گیا تو اس کی بیوی اور جوان لڑکیوں کو غریبی اور تنگدستی نے گھیر لیا ۔ وہ عورت مجبور ہو کر

لوی خاندان کا ایک شخص بلخ میں رہتا تھا جو عجم کے ں میں سے ایک شہر ہے ۔ اس کی بیوی اور لڑکیاں تھی اور اللہ تعالی نے انہیں ہر قسم کی نعمتیں عطا کر رکھی تھیں ۔ جب وہ آدمی فوت ہو گیا تو اہل و عیال کو اس کے مرنے کے بعد فقیری اور تنگدستی نے گھیر لیا ۔ ۔ چنانچہ وہ بیوہ علوی عورت اپنی لڑکیوں کو ساتھ لے کر کسی دوسرے شہر چلی گئی ۔ اتفاقا ان کا نکلنا بھی سخت

سردی کے موسم میں ہوا ۔ جب عورت شہر میں داخل ہوئی تو اپنی لڑکیوں کو ایک غیر آباد مسجد میں بٹھا دیا اور خود ان کے کھانے کے بندوبست کے لئے چلی گئی ۔ اس کا گزر دو جماعتوں پر ہوا ۔ ایک جماعت تو مسلمان کے ۔ پاس جمع تھی اور وہ شیخ البلد تھا ۔ اور دوسری جماعت ایک مجوسی کے پاس تھی جو اس کا نائب تھا ۔ پہلے وہ

عورت شیخ البلد کے پاس گئی اور کہا کہ میں ایک علوی شریف خاندان کی عورت ہوں اور میرے ساتھ لڑکیاں ہیں ہمیں کھانے کے لیے کھانا اور رہنے کے لیے مکان کی ضرورت ہے ، شیخ البلد نے کہا کہ پہلے میرے پاس کوئی گواہ لاؤ کہ واقع تم ایک علوی عورت ہو ۔ اس نے کہا کہ میں ایک اجنبی عورت ہوں اس شہر میں مجھے کوئی ت ۔

نہیں جانتا ۔ چنانچہ اس شیخ البلد نے منہ موڑ لیا اور وہ ، و عورت شکستہ دل ہو کر چلی گئی ۔ پھر وہ اس مجوسی آدمی کے پاس گئی اور اپنا حال اس کے سامنے بیان کیا کہ میرے عالمی ساتھ لڑکیاں ہیں اور میں ایک علوی شریف خاندان کی عورت ہوں اور شیخ البلد کے پاس جانے کا سارا قصہ بیان کیا ۔ وہ مجوسی فورا اٹھا اور اپنی عورتوں کو بھیجا کہ اس عورت کو بمع اس کی لڑکیوں کے میرے مکان پر لے آؤر پھر ان

کو نہایت ہی نفیس کھانا کھلا یا گیا اور بہترین لباس پہنایا ۔ جب آدھی رات ہوئی تو شیخ البلد نے خواب میں دیکھا کہ قیامت قائم ہو گئی ہے اور حجنڈا رکھا گیا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے سر انور پر اور ایک محل ہے سبز یاقوت کا جس کے کنارے یاقوت کے ہیں اور اس میں مرجان کے یاقوت جڑے ہوئے ہیں ۔ پھر کہا شیخ البلد نے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم یہ محل کس کا ہے ۔

آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم فرمایا یہ مسلمان کے لیے ہے ۔ اس نے کہا یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم میں مسلمان ہوں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میرے پاس گواہ لاؤ کہ تم واقعی مسلمان ہو ۔ وہ سن کر حیران رہ گیا تو نبی پاک صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایاد وہ علوی عورت جب تیرے پاس آئی تھی تو تو نے بھی تو یہی کہا تھا کہ میرے پاس گواہ لاؤ کہ واقعی تم علوی عورت ہو ۔ اس

طرح تم بھی میرے پاس گواہ لاؤ کہ تم واقع مسلمان ہو ۔ شیخ البلد جب خواب سے بیدار ہوا تو نہایت غمزدہ پریشان تھا ۔ بیدار ہوتے ہی اس نے دریافت کیا کہ وہ عورت کہاں ہے , جب معلوم ہوا کہ وہ عورت مجوسی کے پاس ہے تو اس نے فورا آدمی بھیجا کہ مجوسی کو میرے پاس لاؤ ۔ چنانچہ وہ لا یا گیا تو اس نے مجوسی کو کہا کہ میں یہ علویہ عورت تجھ سے مانگتا ہوں بمع لڑکیوں کے ۔ مجوسی نے کہا

کہ یہ کام بہت ہی مشکل ہے اور مجھ کو بلاشبہ بہت برکات ت حاصل ہوئی ہیں ۔ شیخ البلد نے کہا کہ مجھ سے ایک ہزار دینار لے لو اور ان کو مجھے دے دو اس نے جواب دیا کہ یہ بہت مشکل کام ہے میں انہیں واپس نہیں کروں گا ۔ مجوسی نے کہا جو چیز آپ چاہتے ہیں میں اس کا زیادہ مستحق ہوں اور محل جو آپ نے خواب میں دیکھا ہے وہ میرے لیے بنایا گیا ہے ۔ کیا تم میرے سامنے اپنا سلام ظاہر کرتے

ہو ? اللہ کی قسم جب تک میں اور میرے اہل و عیال تمام کے تمام اس علویہ عورت کے ہاتھ پر مسلمان ہیں ہوۓ رات کو سوۓ نہیں تھے ۔ میں نے خواب میں اس طرح دیکھا تھا جس طرح تم نے دیکھا ہے اور مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ وہ عورت علویہ اور اس کی لڑکیاں تیرے پاس ہیں ۔ میں نے عرض کی جی یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم تو آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلمنے فرمایا یہ محل تیرا اور تیرے گھر والوں کا ہے ، تو اور تیرے گھر والے جنتی ہیں

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *