ایک شخص اللہ تعالی کا فرمانبردار تھا اور دوسرا شخص اللہ کا نافرمان تھا ۔

ایک شخص اللہ تعالی کا فرمانبر دار تھا اور دوسرا شخص اللہ تعالی کا نافرمان تھا ۔ دونوں مچھلی کا شکار کرنے چلے کئے ایک اپنے بتوں کا نام لیتا اور جال بچھینک دیتا ۔ اس کے جال میں بہت سی مچھلیاں آ جاتیں اور دوسرا شخص اللہ پاک کا نام لیتا اور جال پھینک دیتا ۔ اس کے جال میں کوئی بھی مچھلی نہ آتی , کوشش کرتے کرتے شام ہو گئی ۔ غیر اللہ کا نام پکارنے والا مچھلیوں سے

تھیلا بھر کر لے گیا ۔ جبکہ اللہ پاک کا نام لینے والا خالی تھیلا اپنے ساتھ واپس لے گیا ۔ اللہ پاک کے فرشتے عمگیں ہو کئے اور عرض کی اے دو جہانوں کے مالک تیرا نام لینے والا خالی ہاتھ جا رہا ہے ۔ اور تیرے دشمنوں کا نام لینے والا مچھلیوں سے بھرا ہوا تھیلا لے کر جا رہا ہے ۔ اس پر اللہ پاک فرشتوں کو ان دونوں کا آخرت میں ٹھکانہ دکھاتے ہوئے کہتا ہے کہ دیکھ جو مچھلیوں کا تھیلا

بھر کر جا رہا ہے اس کا ٹھکانہ جہنم ہے , مچھلیاں اس کے کس کام کیں , اور جو خالی ہاتھ جا رہا ہے اس کا مسکن یہ جنت ہے ۔ اور اس کا کوئی بدل نہیں ہے ۔ جیسے ہم کہتے ہیں کہ وہ اتنے نافرمان ہیں لیکن پھر بھی مزے کر رہے ہیں ۔ اور یہ اتنے فرمانبر دار ہیں پھر بھی تکلیفوں میں مبتلا ہیں اللہ کے یہاں مقبولیت اور پسندیدگی کا معیار کچھ اور ہے ، وہ حکیم ذات ہے ۔

Categories

Comments are closed.