ایک دن میں کالج سے جلدی گھر آگیا دیکھا تو کمرہ اندر سے لاک تھا

یرا نام زین ہے اور میری عمر 18 سال ہے میں کالج میں پڑھتا ہوں یہ کہانی میری بہن اور میری کزن کی ایک مزیدار کہانی ہے جس کو سن کر اچھے اچھوں کی موں سے رال ٹپکنے لگ جاتی ہے سردیوں کے یخ بستہ دن تھے ۔ کالج سے دو پیریڈ آف تھے اس لئے جلدی مچھٹی ہو گئی ۔ میں نے کالج میں ٹائم پاس کرنے کی بجائے گھر جانا مناسب سمجھا ۔ گھر میں میرا اور میری بڑی بہن کا کمرہ ایک ہی تھا ۔ہم دونوں روم ایک دوسرے سے شیر کرتے تھے ۔

باہر کے گیٹ کی اور کمرے کی ڈبلیکیٹ چابی میرے پاس تھی ۔ میں باہر کا گیٹ کھول کے اندر داخل ہوا اور پھر دیکھا تو گھر میں کوئی بھی نہیں کہیں گئی ہوئی تھی اور بڑی بہن شائلہ بھی نظر نہیں آرہی تھی میں نے سوچا شمائلہ اندر کمرے میں ہو گی ۔ میں جب کمرے کا دروازہ کھولنے لگا تو دروازہ اندر سے لاک تھا ۔ نے دروازے سے کان لگایا تو مجھے کچھ عجیب سیآواز میں سنائی دیں ۔ میں نے چابی سے دروازہ کھولنے کے بجاۓ اندر دیکھنے کا پروگرام بنا یا اور اک سٹول لا کر اس پر چڑھ کر روشندان سے اندر جھانکا تو اندر کا نظارہ دیکھ کر میرے حواس اڑ گئے ۔ شمائلہ بنا کپڑوں کے بیڈ پر لیٹی ہوئی تھی اور اس کی سامنے کوئی لڑکی اسکے جسم سے حرکتیں کر رہی تھی ۔ یہ منظر دیکھ کر میرے ہوش اڑ گئے شمائلہ کی آوازوں پورا کمرہ گونج رہا تھا ۔ دوسری لڑکی جس کی شکلمیں ابھی تک نہیں دیکھ پا رہا تھا وہ مسلسل شمائلہ کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی تھوڑی دیر تک یہی منظر چلتا رہا اور پھر دوسری لڑکی کھڑی ہوئی تو میں اسے دیکھ کے حیران رہ گیا وہ اور کوئی نہیں میری کزن فہمیدہ تھی ۔ وو دونوں مسلسل ایک دوسرے کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہے تھے ۔ اور وہ دونوں آس پاس کے ماحول سے بے خبر خوب مزے میں یک دم میرے ذہن میں اپنی بہن اور کزن کواس حال میں دیکھ کر انکا فائدہ اٹھانے کا خیال آیا

اور میرے ذہن میں عجیب عجیب سے خیالات پیدا ہونے لگے اور میری بھی شہوت ابھرنے لگی میں نیچے اترا اور آہستہ سے چالی نکال کے دروازہ کھول کے اندر داخل ہو گیا ۔ میرے ایک دم اندر جانے سے وہ دونوں گبھرا گئی اور ڈر گئیں فہمیدہ جلدی سے اوپر سے نیچے اتری ۔ اور اپنے جسم کو کمبل سے ڈھک لیا اور شابلہ نے بھی کمبل کا ایک سرا اپنے جسم یہ ڈاللیا ۔ اور دونوں کا رنگ پھیکا ہو چکا تھا شائلہ کے شائلہ ( خوف کے ساتھ ) : بھیا آپ آج اتنی جلدی آ گئے اور دروازہ تو ناک کر کے آتے ۔ میں : ( غصے کے ساتھ ) مجھے نہیں پتا تھا کہ تم دونوں اتنی غیر اخلاقی حرکات کر رہی ہو ۔ کیا ہے یہ سب ؟ شائلہ 🙁 ہکلاتے ہوۓ ) بھیا سوری ہم وہ ایسے ہی لگے ہوئے تھے میں : کیا سوری .. ؟ میں ابھی ممی کو فون کر تا ہوں کیا چل رہا ہے یہ سبشائلہ 🙁 روتے ہوئۓ ) پلیز بھیا ایسا مت کرنا ہم دونوں کو بہت مار پڑے گی پلیز آج کے بعد ہم ایسا نہیں کریں گی ۔ فہمیدہ کے بھی آنسو نکلنے شروع ہو گئے فہمیدہ : بھائی آپ جو کہو گے ہم کریں گے پلیز آپ کسی کو مت بتانا یہ سن کر میرے دماغ میں شیطانی خیال آیا ۔ میں فہمیدہ کے پاس گیا اور اپنی طرف سے شروعات کی تو فہمیدہ بولییہ کیا کر رہے ہو آپ تو میری بہن شائلہ اوپر سے بولی فہمیدہ چپ رہو ورنہ یہ وہ ممی کو فون کر دے گا ۔ اور ویسے بھی ہمیں بھی تو کسی ایسے انسان کی ضرورت تھی جو ہماری ان خواہشات کو پورا کر سکے اب اگر گھر کا ہی بندو مل گیا ہے تو یہ تو اور اچھی بات ہے اسی طرح میں نے ان کی ان حرکات کو دیکھ کر او را فائدہ اٹھایا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *