ایک دن میں تنگ آ کر میں نے بیوی سے چار ماہ کا بچہ چھینا اور اسے میکے چھوڑ آیا ۔ اس کے جانے کے بعد مجھے گھر میں کوئی پانی تک نہ پوچھتا کیونکہ آگے میری بیوی ۔۔۔

رات کو کام سے واپس آتا تو گھر والے میری بیوی کے خلاف میرے کان بھر دیتے ۔ ایک دن میں تنگ آ کر میں نے بیوی سے چار ماہ کا بچہ چھینا اور اسے میکے چھوڑ آیا ۔ اس کے جانے کے بعد مجھے گھر میں کوئی پانی تک نہ پوچھتا ۔ آخر ایک دن میں اسے واپس لینے چلا گیا ۔ جب میں اس کے دروازے پر پہنچا تو آگے دیکھ کر میرے پاوں تلے سے زمین نکل گئی کیونکہ آگے میری بیوی ۔۔۔

میں نے اس سے چار ماہ کا بیٹا چھین لیا اور اسے میکے چھوڑ آیا ، دراصل میں گھر والوں کے روز روز کے طعنوں سے تنگ آ چکا تھا ۔ ” تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کر تی ” مجھے بھی ایسا ہی لگنے لگا تھا ، آخر تم کیا کر تی ہو سارادن ؟ بر تن ، کپڑے ، گھر

کی صفائ تو کام والی کر جاتی ہے ، لیٹی ہی رہتی ہو ۔ اس کے جانے کے بعد آج میری پہلی رات کا ں آغاز تھا ، میرے پہلو میں کوئی مجھے اپنی شرارتوں سے ہنسانے والا نہیں تھاہاں میر ابیٹاضر ور تھا ، جسے میں نے ابھی ابھی فیڈر دیکر سلایا

تھا ، آپ مجھے نہیں ۔۔ ؟ دودھ پلانے سے لے کر بچے کو سلانے تک مجھے کیا کیا کر نا پڑا ، میں تفصیل میں جانا چاہتا ہوں ، میں اٹھا اور کچن میں گیا فیڈر کو صابن سے دھو کر میں نے چو لہے پر پانی چڑھایا ، فیڈر کو ابالا ، پھر دودھہ بنانے کیلئے پانی نیم گرم کیا اور اس میں پاوڈر ڈالا تب کہیں جا کر ایک فیڈر تیار ہوا ، ں

دودھ پلانے کے بعد میں اسے کندھے سے لگا کر تھپکتارہاتا کہ دودھہ ہضم ہو سکے ، پھر اسکا پیمپر تبدیل کرنے کیلئے اسے لٹایا تو معلوم ہوا کہ بچے نے پاخانہ کیا ہوا ہے ، اسے باتھ روم لے جاکر صاف کر کے واپس آیا تو اس نے دودھہ کی الٹی کر دی ، میں جلدی سے رومال کی اٹھانے کو لپکا خیر اسکو پیمپر دوبارہ لگایا

اور بازووں میں جھولا کر سلانے لگا دودھ ابال کر اسے ٹھنڈا کیا اور فریج میں رکھ دیا ، وہ ہوتی تو ملک شیک بناکر میرے ہاتھ میں تھمادیتی ، لیکن اب اتنے ۔ جھمیلوں میں کون پڑے ابھی اپنی روٹی پکا کر کھالوں ا گا۔لیکن آٹا ۔ ؟ ابھی تو وہ گوندھنا پڑے گا ، شکر ہے سالن تو پکا پڑا ہے ، بس کٹوری میں ڈال کر اوون کا

بٹن ہی دبانا ہے میں ذرا بیڈ سے بکھیر ااٹھالوں پیمپر ، ، وائیں ، کھلونے ، فیڈر ، شیٹس کو انکی مخصوص جگہوں پر رکھا اور روٹی نہیں ۔ صبح آفس جانے کیلئے کپڑے بھی تو استری کرنے ہیں ، میں لگا کپڑے استری کرنے ۔ ابھی شرٹ پر یس کی تھی کہ بیٹارونے لگا ، اب کی بار میں نے اسکو جھولے میں ڈالا اور مجھولا جھلانے

لگا بھوک سے میر ابر احال تھا ۔ اللہ اللہ کر کے بچے کو سلایا اور ایک ریسٹورنٹ پر کال کر کے کھانے ڈلیور کرنے کا آرڈر کیا آدھے گھنٹے بعد کھانامیرے سامنے تھا ، میں نے بڑے بڑے نوالوں میں کھانا ختم کر دیا کیونکہ میں جانتا تھا کہ اگر بیٹا دوبارہ جاگ اٹھا تو کھانا پڑارہ جائیگا پھر دوبارہ گرم کرنے کیلئے بھی

ٹائم چاہیئے اور ” مشقت ” بھی مجھے اکتاہٹ ہونے لگی ، گھڑی گیارہ بجار ہی تھی ۔ میں بستر پر ڈھہ سا گیا ۔ سائرہ و ہ چادر ہی الماری سے نکال دو ، میں اوڑھ کر سوناچاہ رہاہوں لیکن نہیں اب خود ہی اٹھ کر لینی پڑے گی ، ابھی میں یہ سوچ ہی رہا تھا کہ یو بی ایس . . . بھی جو اب دے گیا اور پنکھا بند ہو گیا اس سے پہلے کہ

گرمی کے سبب میر ابیٹا جاگ جاتا اور چلانے لگتا ، میں ۔ نے بیڈ سے چھلانگ لگائی اور جھٹ سے دستی پنکھا الماری سے نکال لایا میں اسکو پنکھا جھلنے لگا اور ساتھ ساتھ نیند کی شدت سے خود بھی مجھولنے لگا ، بارہ بجے بجلی آئی اور میں فورا ہی سو گیا ، دو بجے بیٹے کے رونے کی آواز سے میری آنکھ کھل گئی اچانک گہری نیند

سے جاگنے پر میرے سر میں درد ہونے لگا ، اسے بھوک لگی ہوئی تھی میں سستی سے اٹھا اور اسے ڈبے کا دودھہ بنا کر پلایا ۔ اڑھائی بجے کے قریب بیٹا سو گیا اور میں بھی اسکے بعد بیٹا کب جا گا اور کب تک رو تا رہا مجھے نہیں معلوم ۔ البتہ جب صبح آٹھ بجے آنکھ کھلی تو وہ رو ہی رہا تھا اور اسکے پیمپر سے مواد نکل کر

بیڈ شیٹ میں جذب ہو رہا تھا ، جلدی سے اٹھا ، پیمپر تبدیل کیا ، دودھ پلایا ، بیڈ شیٹ کو دھویا اور ایک دھلی ہوئی بیڈ شیٹ بچھائی سوانو ہو چکے تھے۔ناشتے . میں جو میں دہی کھاتا تھاوہ سائرہ گھر میں بنالیتی تھی ، نہیں کس پہر بناتی تھی میں نے چاۓ بنانے کی ، غرض سے ساس پین میں دودھہ انڈ یلا اور سوچنے ،

لگا ، کونساوقت تھاجب سائرہ مصروف نہیں ہوتی تھی ۔ میری خدمت میں بھی کوئی کمی نہیں آنے دی ، گھر میں صرف وہی تین کام تو نہ تھے جن کیلئے میں نے نوکرانی رکھ دی تھی ایک بچے کو سنبھالناہی کافی تھا اسکو تھکن سے چور کرنے کیلئے لیکن وہ مجھے وقت پر کھانا دیق میں تھک جاتا تو مجھے دباتی ، میں اداس

ہو تاتو مجھے ھنساتی ، اور میری دلجوئی کرتی ۔ میں کار و باری معاملات میں کشمکش میں پڑ جاتا تو وہ میرا حوصلہ بندھاتی ، میں سوچوں میں گم تھا ، دودھہ اہل کر شیلف پر آچکا تھا میں آہستہ آہستہ شیلف پر کپڑ الگانے لگا ۔ تم کر تی کیا ہو سارا دن ۔ ؟؟ واہ تمہارا جسم کیوں درد ا کرنے لگا ۔ ؟؟ کونسا پہاڑ ڈھا ماسے تم نے ۔ ؟؟ اور وہ پہلو

بدل لیتی ، شاید میرے طنزیہ جملوں پر آنسو بہاتی ہو گی ۔ پر میں ظالم انسان نے پر واہ نہیں کی کبھی کچھ دیر بعد خود ہی سائیڈ بدل کر میرے چہرے پر جھک جاتی ، ” آئی لو یو ” تو میں جوابا مسکرادیتااور وہ اصرار کرنے لگتی نہیں آپ ” آئی لو یو ٹو ” بولیں مجھے اسکی شرارتیں یاد آنے لگیں … صبح کے دس بج رہے

تھے اور کام پر نیند نہ پوری ہونے کی وجہ سے چھٹی ماری اور وہ سب اپنے اپنے کمروں میں مشغول تھے ، جو ابھی کل ہی مجھے کہہ رہے تھے کہ تمہاری بیوی کوئی کام نہیں کرتی ، کسی نے مجھے چاۓ کا ایک کپ بھی بناکر دینے کی زحمت نہیں کی ، میں نے بچے کو گاڑی میں ڈالا اور گاڑی ان راستوں پر دوڑادی جو

راستے مجھے ہمیشہ کیلئے سائرہ کے ساتھ جوڑنے والے تھے ۔ وہاں پہنچ کر میں نے دونوں ہاتھ جوڑ کر معافی مانگی اور وہ ہمیشہ کی طرح بڑا دل کر کے چلی آئی میرے ساتھ ۔ شادی شدہ حضرات سے میری ریکولیسٹ ہے کہ ٹھیک ہے سب کا حق آپ پر ہے سب آپ کو مشورہ دے سکتے ہیں لیکن ماں باپ کے بعد

سب سے زیادہ حق آپ پر آپ کی بیوی کا ہے اسکو ، ٹائم دیں اس سے پوچھیں اسکی دلجوئی کر میں سارا دن بغیر مز دوری کے ، بنالا لچ آ پکی ،

Categories

Comments are closed.