ایک دن مدیجہ کے عاشق اسد نے اس کی برہنہ ویڈیوز بنا کر انٹر نیٹ پر اپ لوڈ کر دی ۔

چھاسنو نا پلیز یاد ہاتھ تو ہٹاؤ پلیز میری خاطر مدیحہ پلنگ پر بیٹھی ہوئی تھی وہ شرماتے ہوۓ بولی نہیں یار پلیز کیمرے کو بند کرو , ” اسد بولا ” , جاؤ رہنے دو یار تمہیں بھر وساہی نہیں مجھ پر و ” مدیحہ ” پلیز ناراض مت ہوں , بھروسہ نہیں ہوتا تو میں ادھر تمہارے ساتھ ہوتی , ” اسد ” تو پھر ہٹاؤ نہ ہاتھ صرف اپنے لیے ہی ریکار ڈ کر رہا ہوں نا ,

” پلیز میری جان ” تمہیں میری قسممدیحہ ” کیا یار اپنی قسم نہ دیا کرو ۔ ” اچھا یہ لو اب خوش ” اور اس نے اپنے ہاتھ اٹھادیے ۔ اس مقام تک آنے سے پہلے مدیحہ ای بالکل نہیں تھی ۔ مدیحہ نے میٹرک بہت اچھے نمبروں سے پاس کیا تھاد اور شہر کے ایک بڑے پرائیویٹ کالج میں داخلہ لینا چاہتی تھی ۔ اپنے ماں باپ کی اکلوتی بیٹی تھی اور بہت ہی خو بصورت اور حسین و جمیل تھی ۔ والد صاحب ایک فیکٹری میں ملازمتھے ۔ اسکے والد کی آمدنی اتنی زیادہ تو نہیں تھی ۔ پھر بھی بیٹی کی ہر ضرورت ہر خواہش کو پورا کرنے کی کوشش کرتے تھے ۔ مدیحہ کی ایک کمزوری تھی کہ اسے بڑے لوگوں جیسا امیر بننا تھا جیسے غیر ملکی چینلز کے ڈراموں میں حویلیاں ہوتی ہیں ۔

وہی دیکھ دیکھ کر اس کے دماغ میں تھا کہ اس کو بھی کوئی راجکمار ملے گا ۔ جو اسے اس مڈل کلاس لائیف سے دور لے جاۓ گا ۔ ٹی ویپرابھی بھی ایک غیر ملکی چینل پر اس کا پسندیدہ ڈرامہ آرہا تھا وہ بغیر آنکھیں جپکاۓ رومانس کو بڑے شوق سے دیکھ رہی تھی ۔ جہاں لڑ کی ایک چھوٹے سے گھرانے سے تھی اور لڑکا امیر گھرانے سے تھا ۔ بیچ میں کس طرح آہستہ آہستہ یہ دجالی میڈ یا ہمارے دماغوں میں یہ سب بھر رہا ہے ۔ ایک دن مدیحہ کی ماما اسے کسی کام کے لئے بلارہی تھی تو اس نے کہا ماما ڈرامےکا بالکل اینڈ ہو گیا ہے میں ابھی کام کر دیتی ہوں ۔ ماما ابھی اسے ڈانٹ ہی رہی تھی کہ اتنے میں دروازے کی گھنٹی بجی ۔ مدیحہ نے جا کر دروازہ کھولا تو با با سامنے کھڑے تھے ۔ سلام کرتے ہوۓ وہ ان کے سینے سے لپٹ گئی اسے پتہ تھا کہ اب اس کا راج شروع ہوا تھا ۔ کیونکہ ماما بابا کے سامنے اسے ڈانٹ نہیں سکتی تھی بس اتناہی کہتی تھی

فاخر صاحب آپ نے ہی اسے بگاڑاہوا ہے اتنا لاڈ بھی ٹھیک نہیں ۔ فاخر صاحب ہنستے ہوۓ آپ کو بھی تو ہم نے ہی بگڑا ہوا ہے مدیحہ زور سے ہنے لگی ۔ مدیحہ کی ماما روز اسے کہتی کہ بیٹا ڈراموں فلموں کی زندگی سے نکل جاؤ یہ کچھ بھی نہیں ہیں لیکن مد یحہ اپنی ماں کی بات کو ایک کان سے سنتی اور دوسرے کان سے نکال دیتی ۔ وقت گذرتارہااور مدیحہ نے ٹھانی تھی کہ وہ شہر کے ایک کالج میں داخلہ لے گی ۔اس کے والدین نے بہت سمجھایا مگر اس نے کسی کی نہ سنی اور اپنی بات منوا کر ہی رہی ۔ آج کالج میں پہلا دن تھا ۔ وہ عبایا پہنیں کالج میں داخل ہوئی تو ہر کوئی اسے گھور کر دیکھ رہا تھا ۔ جیسے کوئی خلائی مخلوق آگئی ہو سب کی نظر میں اسے ہی گھور رہی تھیں ۔ وہ بھی سمجھ چکی تھی کے اتنے ماڈرن ماحول میں وہ سب اس کے عبایا کو بہت معیوب سا سمجھ رہے تھے ۔کلاس میں داخل ہو کر وہ ایک بینچ پر بیٹھ گئی اس کے برابر میں ایک لڑ کی آکر بیٹھی جو مسلسل چیونگم چباتے ہوۓ اپنا منہ چلارہی تھی ۔

مدیحہ کو ایسا لگا کہ بھینس منہ ہلارہی ہے مگر وہ چیونگم چباتے ہوۓ خود کو فلمی ہیروئن سمجھ رہی تھی۔اس لڑکی نے پیٹ اور ٹی شرٹ پہنی ہوئی تھی اور اس کا نام ملالہ تھا ۔ وہ ایک رئیس باپ کی بیٹی تھی اس نے بیٹھے ہوئےمدیحہ کی طرف دیکھا , ” اکسکیوزمی ” نیو ایڈمیشن ” مدیحہ ” ہاں آج پہلا دن ہے ۔ ویسے آئی ایم مدیحہ و ملالہ نے ہاتھ مدیحہ کی طرف بڑھا دیا اور وہ سہیلیاں بن گئیں۔اب ” ملالہ ” مدیحہ کو اچھی لگنے لگی جو تھوڑی دیر پہلے اسے دل ہی دل میں بیھنس لگ رہی تھی ۔ خیر دن گزرتے کئے اور مدیحہ بھی پیٹ شرٹ پہن کر آنے لگی اوپر سے ایک عبایہ پہن کر نکلتی اور کالج پہنچتے ہی اسےبیگ میں ڈال دیتی ۔ فرسٹ ائیر ایسے ہی گزر گیا ۔ اب ان کا سیکنڈائیر شروع ہونے کو تھان کی کلاس میں اس دفعہ نئے لڑکے لڑکیوں نے ایڈمیشن لیانہی میں ایک تھا ” اسد ” لمبے سلکی بالواچی جسامت , بھوری آنکھیں , وہ اکثر اپنی بائیک پر کالج آ یا کر تا تھا ۔ وہ ایک رئیس گھرانے سے تھا ۔ مدیحہ کو لگا کہ جیسے اسد کی شکل میں اس کے خواب پورے ہو سکتے ہیں ۔

وہ اس سے باتکرنے کا بہانہ ڈھونڈتی رہتی تھی ۔ اور آہستہ آہستہ دونوں میں قربتیں بڑھنے لگیں ۔ پھر وہ وقت آیا جہاں سے کہانی شروع کی تھی ۔ مدیحہ اسد کے تمام گھر والوں کو جانتی تھی ۔ اسد بھی اس نے گہری دلچسپی رکھتا تھا مگر جب بھی مد یحہ اسے رشتے کا پو چھتی تو وہ یہی کہہ کر ٹال دیتا کہ یار انجواۓ کرو ابھی تو اسٹڈیز ہو رہی ہے بڑے بھائی جمال کی شادی ہو گئی پھر میریباری آۓ گی ۔ وہ اکثر ملنے لگے تھے اسد کے پاس اس کی کافی وڈیوز تھیں ۔ مدیحہ اکثر اسد سے کہتی کہ یار تم ان کو ڈلیٹ کیوں نہیں کر دیتے اور اسد یہ کہہ کر ٹال دیتا کہ ہاں یار کر دوں گا ویسے بھی یہ صرف میرے لیے ہیں ۔ اور پھر ایک دن اسد گھر سے رات کو رائیڈ کرنے نکلا تو دو ڈ کیٹ گن پوائنٹ پر اس کا موبائل اور پر س دونوں چھین کر لے گئے ۔اگلی صبح جب مدیحہ کالج کے لیے نکلیں تو نقاب میں اور عبایا پہن کر نکلی تھی کافج کے دروازے پر پہنچ کر کر جیسے ہی اس نے عبایا اتاراور اندر داخل ہوئی تو تمام لڑ کے اسے دیکھ کر ہنس رہے تھے اور مدیحہ کا مذاق اڑارہے تھے ” مدیحہ ” ہاتھ تو ہٹاؤ نا ” نہیں اسد ” رہنے دو وغیرہ وغیرہ ۔ یہ سنتے ہی مدیجہ کے پیروں تلے زمین نکل گئی اور وہ تیز تیز قدموں سے کلاس کی طرف بڑھنے لگی ۔

ابھی وہ کلاس میں داخل ہی ہوئی تھی کہ ملالہ جو بے صبری سے اس کا انتظار کر رہی تھی اس کا ہاتھ پکڑتے ہوۓ اس کو ایک کمرے میں لے گئی ۔ ملالہ نے موبائل نکال کر ایک ویڈیو پلے کی مدیحہ اسے دیکھتے ہی سکتے میں آگئی اس کا حلق سوکھنے لگا ۔ مگر وہ کپکپاتی ہوئی آواز میں کہنے لگی , ” یہ کیسے ” اور اس کا لہجہ بھاری ہو گیا ۔ مدیحہ نے فورا اس موبائل سے اسد کو کال ملائی ,مدیحہ کا دل بہت تیز ڈھڑک رہا تھا ۔ دوسری طرف اسد کا نمبر مسلسل بند جارہا تھا ۔ وہ گھبراۓ ہوۓ لہجے میں ملالہ کی طرف دیکھنے ” یار اب کیا کروں میں ” ملالہ نے اسے مشورہ دیا کہ فورا گھر جاؤ اور گھر پر سنبھالنے کی کوشش کرو ۔ مدیحہ جیسے ہی گھر کے قریب پنچی تو گلی کے کونے سے ہی اسے اپنے گھر کے پاس بہت زیادہ بھیٹر نظر آئی ۔ وہ کپکپاتی ہوئی ٹانگوں کے ساتھ گھر کی طرفبڑھنے لگی۔اس کے دل میں عجیب عجیب خیالات آر ہے تھے , ” آنے والے وقت کا سوچ سوچ کر اس کا جسم کانپ رہا تھا کہ کیا منہ دکھاؤں گی با باکو لگتا ہے سب کو پتہ چل گیا۔اتنے لوگ گھر کے باہر کیا کر رہے ہیں ? مختلف سوالات اس کے دماغ میں آگ بھر رہے تھے۔

دو تین میڈیاوالے بھی سامنے کھڑے تھے ۔ وہ بھیٹر کو چیرتے ہوۓ اندر داخل ہوئی اور سامنے کا منظر دیکھ کر اس کادماغ چکرانے لگا ۔ایک زور دار چیخ کے ساتھ وہ بیہوش ہو چکی تھی اور تقر یادو گھنٹے بعد اسے آہستہ آہستہ ہوش آنے لگا ۔ آ نکھیں ابھی بھی بند ہی تھیں مگر کانوں میں لوگوں کی آواز میں آرہی تھیں ۔ کیالڑ کی ہے ۔ ماں باپ کو کھا گئی بے شرم بد چلن بے ہودہ لڑ کی اس کی آ نکھیں آہستہ آہستہ کھلیں توامی اور باباسامنے سفید کفن میں لیٹے فرش پر بے جان پڑے تھے ۔ ان دونوں نے خود کو پھندا لگا کرخود کشی کر لی تھی ۔ جب مدیحہ کو ہوش آیا تو ایک کیمرہ مین اور رپورٹر اس کی طرف بڑھے , بی تو ناظرین اس لڑکی کو ہو چکا ہے جس کے برہنہ ایم ایم ایس کی وجہ سے اس کے والدین نے خودکشی کرلی ۔ ” تو کیسا لگ رہا ہے آپ کو ” رپورٹر کے اس سوال پر اس کا دل چاہ رہا تھا کہ زمین پھٹ جاۓ اور وہ اس میں دھنس جاۓ مگر اب پانی سر سے گزر چکا تھا ۔اب وہ بت بنی دو دن تک وہیں گم سم بیٹھی رہی جیسے پتھر کی بن گئی ہو ۔ اسکے بعد تمام محلے والوں اور رشتہ داروں نے اس سے قطع تعلق کر لیا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *