ایک دن قبریں کھودنے والا آدمی کی نظرسات جوان لڑکیوں پر پڑی جو کہ ایک درخت کے نیچے بیٹھ کر عجیب باتیں کر رہی تھیں

یک دن سلمان نے قبر بنانا شروع کی اور اپنے کام سے فارغ ہو کر میت کے آنے کا انتظار کرنے لگا ، میت آتے آتے کوئی رات دس بجے کا وقت ہو گیا اور تدفین سے فارغ ہوتے ہوتے رات کے گیارہ بج گئے ۔ تدفین کے بعد سلمان لواحقین کے جانے کا انتظار کرنے لگا ، جب تمام لوگ قبرستان سے چلے گئے تو سلمان نے بھی اپنا سامان سمیٹنا شروع کیا ۔

پھر اپنے کام سے فارغ ہو کر وہ گھر جانے لگا ، ابھی اس نے آدھا قبرستان ہی پار کیا تھا کہ اس نے دیکھا کہ قبرستان کے اندر مدھم سی روشنی ہو رہی تھی اسےقبرستان میں دور پچھ جلتا ہوا نظر آ رہا تھا ۔ اس نے سلمان وہیں رکھا اور روشنی کی طرف بڑھنے لگا ۔ تھوڑا آگے جا کر اس نے دیکھا وہ کالی چادر میں ملبوس ایک لڑکی تھی جس کے ہاتھ میں ایک لکڑی تھی اور اس لکڑی میں آگ جل رہی تھی ۔ وہ حیرانی سے اس لڑکی کو دیکھتا رہا اس نے سوچا کہ اس وقت کسی لڑکی کا قبرستان میں کیا کام پھر وہ بہت پریشان ہوا کہ ابھی تھوڑی دیر پہلے قبرستان میں کسی انسان کا وجود نہیں تھا پھر یہ لڑکی کہاں سے آگئی سلمان نے سوچا کہ لڑکی شاید اپنے کسی عزیز کی قبر پر آئی ہو گی کیونکہ عموماً رات کو لوگ اپنے پیاروں کی قبر پر قرآن پاک پڑھتے تھےیا فاتحہ خوانی کرتے تھے مگر سلمان نے پہلی دفعہ کسی لڑکی کو اتنی رات کو قبرستان میں دیکھا تھا ۔ سلمان اس لڑکی کے پیچھے گیا وہ لڑ کی ادھر ادھر قبروں کے اوپر چلتی جارہی تھی اور سلمان اس کے پیچھے کیے جارہا تھا ۔ لڑکی بہت تیزی سے چل رہی تھی سلمان نے بھی اپنے قدموں کی رفتار بڑھادی ۔ پھر سلمان نے دیکھا تو اچانک وہ لڑکی غائب ہو گئی

سلمان ادھر ادھر دیکھنے لگا لیکن وہ لڑکی اس کو کہیں نظر نہ آئی سلمان نے سوچا شاید وہ اپنے گھر چلی گئی ہو ۔ یہی سوچ کر سلمان بنا کوئی مزید وقت ضائع کئے گھرکی طرف جانے لگا ۔ اس نے اپنا سارا سامان اٹھایا اور روانہ ہو گیا ۔ سلمان سے سوچتا ہوا جا رہا تھا کہ اچانک اسے قبرستان میں دور کچھ لوگ نظر آۓ اس نے سوچا کہ کوئی فوت ہو گیا ہو گا شاید اس لیے اتنے لوگ ہیں وہ دور سے ان کی آواز میں اور ملکی ہلکی روشنی دیکھ رہا تھا ۔ پھر اس صورت حال کو دیکھ کر اس نے سوچا کہ ابھی تک قبرستان میں کوئی نہیں تھا پھر اچانک یہ لوگ کہاں سے آگئے معاملے کا جائزہ لینے کے لئے وہ بھی اس جانب روانہ ہوا جہاں ملکی ہلکی روشنی ہو رہی تھی اور آواز میں آ رہی تھیں ۔ وہ کچھ لجھتے ہوئے آگے بڑھ رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ اگر کسی کی فوتگی ہوئی ہوتو جا کر ان کی مدد کرتا ہوں جب وہ نزدیک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ ایک درخت کے نیچے کچھ نوجوان لڑکیاں آگ جلا کر اس کے پاس بیٹھی ہیں اور آپس میں کچھ باتیں کر رہی ہیں سلمان ان کی باتوں اور ان کی زبان کو سمجھ نہ سکا کیونکہ وہ عجیب قسم کی زبان میں باتیں کر رہی تھیں وہ کافی , حیران ہوا ۔ پھر جب ان لڑکیوں کے نزدیک پہنچا تو اس نے دیکھا کہ وہ سات لڑکیاں تھیں جو بڑے مزے سے آگ جلا کر بیٹھی تھیں اور سکون سے ہنستے ہوۓ ایک دوسرے سے باتیں کر رہی تھیں

ان سب لڑکیوںمیں وہ لڑکی بھی موجود تھی جسے اس نے تھوڑی دیر پہلے دیکھا تھا ۔ سلمان کو لگا کہ شاید یہ سب لڑکیاں کسی بڑے گھر کی امیر زادیاں ہیں جو وقت گزارنے کے لئے قبرستان آ کر بیٹھ گئی ہیں ۔ سلمان نے غصے میں لڑکیوں کو مخاطب کیا اور پوچھا تم لوگ کون ہو اور اس وقت اس قبرستان میں کیا کر رہی ہو ۔ سلمان کے اس سوال کا جواب کسی نے نہیں دیاد سلمان ایک بار پھر بولا کیا تم سب کے گھر والوں کو معلوم ہے کہ تم سب اس وقت تک قبرستان میں بیٹھی ہو ۔ ایک بار پھر ان لڑکیوں نے سلمان کیآواز سنی وہ سب کھڑی ہو گئیں ۔ اب جو سلمان نے غور سے ان کی جانب دیکھا تو اسے ایسا لگا کہ میں خواب دیکھ رہا ہوں کیونکہ نا تو ان کی ناک تھی اور نہ ہی منہ تھا ۔ ان کے چہرے پر صرف کان اور آنکھیں تھیں جو انتہائی سرخ تھیں۔ایک دم سلمان کو خیال آیا کہ یہ کوئی انسان نہیں بلکہ کوئی اور ہی کو ہی مخلوق ہے ۔ سلمان لڑکیوں سے شدید خطرہ محسوس کرنے لگا وہ فورا وہاں سے جانے لگا لیکن اسے ایسا لگا کہ کسی نے اس کے پاؤں مضبوطی سے پکڑ لیے ہوں ۔ پھر وہ سلمان کے قریب آئیں اور جیسے انھوں نے قریب آکر سلمان کو چونا چاہا مگر ان کو ایسا جھٹکا لگا جیسے کوئی شخص بے دھیانی میں بجلی کی تارچھولے اس کے بعد ایک چڑیل نے اپنے دوسرے ساتھیوں کو کہا کہ اس کے پاس کوئی تعویز ہے جس کی وجہ سے ہم اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتیں , پھر ایک چڑیل سلمان کو کہنے لگی کہ آج تو تجھے اس تعویذ نے بچا لیا ورنہ آج ہم تیرے خون سے اپنی بھوک مٹاتیں۔اس کے بعد وہ تمام چڑیلیں سلمان کے پاس والے درخت کے اندر اس طرح داخل ہوئیں جیسے وہ ہوا سے بنی ہوں ۔ اس کے بعد سلمان کے پاؤں آزاد ہوئے اور وہاں سے بھاگ گیا ۔ دوسرے دن سلمان نے اس واقعہ کو ایک نورانی عمل کرنے والے عالم سے بیان کیا انھوں نے سلمان کو بتایا کہ رات کو تمہارا سامنا بہت ہی خطر ناک چڑیلوںسے ہوا تھا جو تمہیں اپنا شکار بنانا چاہتی تھیں

مگر تمہاری گردن میں جو تعویذ ہے اس نے تجھے بچا لیا ۔ اس کے بعد وہ چڑیلیں کبھی بھی سلمان کو نظر نہ آئیں اور اس کے بعد سلمان قبرستان کے اس حصے میں دن کو ہی جاتا تھا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *