”ایک دن حضورپاکﷺ گھر میں آئے میں نے دیکھا آج حضورﷺ بہت خوش ہیں“

اماں عائشہ ؓ فرماتی ہیں ایک دن حضوراکرمﷺ گھر میں تشریف لائے میں نے دیکھا آپﷺ بہت خوش ہیں۔ حضورپاکﷺ جلدی میں کوئی چیز اٹھا کر جانے لگے اور میں نے راستہ روک لیا کہ میں نے نہیں جانے دینا۔ آپﷺ نے کہا عائشہ ؓ میرا کوئی انتظار کررہا ہے ۔اماں عائشہ ؓ نے کہا حضورﷺ لوگ تو آئے ہی رہتے ہیں

میری بھی بات سن لیں اچھا بتاؤ کیا بات ہے اماں عائشہ ؓ نے بتایا کہ مجھے میرے والد نے کہا تھا جس دن حضورپاکﷺ کو خوش دیکھو تو میری اور اپنی بخشش کی دعا کروانا ۔حضورپاکﷺ نے ہاتھ اُٹھائے اور فرمایا اے اللہ عائشہ ؓ اور ابوبکر ؓ کو عزت والی زندگی عطاء فرما۔ اے اللہ ان کا حساب قیامت میں آسان فرمانا اے اللہ انہیں بغیر حساب ہی جنت عطاء فرما حضورﷺ دعامانگ چکے توپوچھا عائشہ ؓ خوش ہوگئی تو حضورﷺ اٹھ کر جانے لگے تو واپس لوٹ آئے اور کہا عائشہ ؓ دعا سن کر رو رہی ہو ۔ مجھے قسم ہے اللہ تعالیٰ کی عزت کی میں اپنے ہر امتی کیلئے یہی دعا دن میں دو مرتبہ مانگتا ہوں۔ہم سب کو ہر وقت درودپاک پڑھتے رہنا چاہیے۔ ایک دن حضرت جبرائیل ؑ حضورﷺ کے پاس آئے اور کہا کہ اللہ تعالیٰ نے مجھے اتنی طاقت دی ہے کہ میں ساری دنیا کے درختوں کے پتے گن سکتا ہوں اور پانی کے سارے قطرے اور ریت کے سارے ذرے گر سکتا ہوں اور اس آدمی پر اللہ تعالیٰ کی رحمت کی تعداد نہیں گن سکتا جو آپ پر ایک بار درود پاک پڑھتا ہے ۔اسی طرح مدینہ منورہ میں ایک عورت تھی جس کا دماغی توازن ٹھیک نہیں تھا ایک دن

حضورﷺ ممبر پر تشریف فرما تھے وہ عورت دروازے پر آئی اور آقا کریم کو اشارہ کیا کہ باہر تشریف لاکر اس کی بات سن لیں حضور باہر تشریف لے گئے بہت تیز دھوپ تھی عرب کا موسم تھا ۔ اور اس عورت کا عقلی توازن بھی ٹھیک نہیں تھا ۔ لیکن آپﷺ دھیان سے اس وقت اسکی باتیں سنتے گئے جب تک وہ خود نہیں تھک گئی ۔ صحابہ کرام ؓ جوکہ یہ سب دیکھ رہے تھے ان کو بات ناگوار گزری اور حضرت عمر ؓ آپ سے مخاطب ہوئے اور کہا حضورﷺ یہ عورت پاگل ہے اس کو دیکھ کر لوگ راستہ بدل لیتے ہیں آپکا وقت قیمتی ہے بدن نازک اور نبوت کی گہری ذمہ داری آپ پر عائد ہے آپ ایسی عورتوں کی باتیں نہ سنا کریں پیارے آقاﷺ نے فرمایا عمر ؓ اس بیچاری کی پورے مدینے میں کوئی نہیں سنتا تو کیا میں بھی نہ سنوں سبحان اللہ ہمیں چاہیے کہ ہم اپنے قیمتی وقت میں کچھ وقت پیارے حبیبﷺ پر درود پاک پڑھنا معمول بنائیں تاکہ اللہ تعالیٰ کی رحمتیں ہم پر نازل ہوسکیں۔

Categories

Comments are closed.