ایک دن ایک بھوکا فقیر ایک عورت کے دروازے پر آیا کہ مجھے بھوک لگی ہے

حضرت فکر مہ رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ پرانے زمانے میں ایک بادشاہ تھاجو بڑا ظالم اور جابر تھا ۔ رعایا پر بہت ظلم کرتا تھا ۔ اس نے اپنے ملک میں یہ اعلان کر وار کھا تھا کہ کوئی بھی شخص کوئی چیز صدقہ ں نہ کرے اگر کسی نے کوئی چیز صدقہ کی تو اس کے ہاتھ کاٹ دوں گا ۔ ایک دن ایک فقیر کو بڑی سخت بھوک لگی اور بھوک سے پریشان ہو کر وہ ایک عورت کے دروازے پر گیا اور کہا کہ مجھے بڑی سخت بھوک گئی ہے کچھ کھانے کو دے دو اس عورت نے کہا کہ میں تمہیں کھانے

کو کچھ نہیں دے سکتی ، تمہیں معلوم نہیں کہ بادشاہ نے کتنا سخت اعلان کر دار کھا ہے اور وہ ہے بھی بڑا ظالم ۔ فقیر نے کہا مجھے معلوم ہے مگر میں کیا کروں آج مجھے بھوک نے بہت ستایا ہوا ہے ۔ پھر اس فقیر نے عورت کی منتیں کرنا شروع کر دیں حتی کہ اس عورت کا دل پہیچ ہو گیا اور اس نے کہا کہ اچھا ٹھیک ہے میں تمہیں کھانا کھلا دیتی ہوں ۔ بادشاہ جو کرے گا دیکھ لیں گے ۔ یہ کہہ کر اس نے فقیر کو دو روٹیاں لا کر دے دیں ۔ فقیر نے خوشی خوشی وہ روٹیاں کھا لیں اور دعائیں دیتا

ہوا وہاں سے چلا گیا ۔ جب بادشاہ کو یہ پتہ چلا کہ فلاں عورت نے دو روٹیاں صدقہ کی ہیں تو وہ بہت ناراض ہوا اور پھر اس نے اس عورت کے ہاتھ کٹوادیے اور اسے شہر سے بھی نکال دیا ۔ اس عورت کا ایک چھوٹا بچہ بھی تھا جسے اس نے اپنے کندھوں پر سوار کیا اور لے کر شہر اپنے کندھوں سے باہر چلی گئی ۔ راستے میں اسے بہت سخت پیاس لگی ۔ پاس ہی دریا تھا پھر وہ دریا کے پاس گئی اور جھک کر اس میں سے پانی پینے لگی ۔ جو نہی وہ عورت پانی کی طرف جھکی تو اس کے کندھوں پر سوار بچہ پانی میں گر

گیا اور دریانے بھی اسے اپنے ساتھ بہانا شروع کر دیا ۔ یہ دیکھ کر عورت نے پر پیشانی کے عالم میں چیخنا اور چلانا شروع کر دیا ۔ اتنے میں اچانک دو خوش پوش عمدہ لباس والے آدمی وہاں آگئے اور اس عورت سے پوچھنے لگے کہ تو کیوں رو رہی ہے ۔ اس نے بتایا کہ میرا بچہ دربار میں گر گیا ہے اور میرے ہاتھ بھی نہیں ہیں جن کی مدد سے میں اسے نکال سکوں ۔ عورت کی یہ بات سن کر ان میں سے ایک نے دریا میں غوطہ لگا دیا اور تھوڑی دیر کے بعد ہاتھ میں ننھے منے بچے کو اٹھائے واپس باہر نکل آیا ۔

عورت اپنے لخت جگر کو صحیح سلامت دیکھ کر خوش ہو گئی ۔ اب دوسرے شخص کی باری تھی اس نے اپنے منہ میں کچھ پڑھ کر اس کے جسم پر دم کیا جس سے اس کے دونوں ہاتھ درست ہو گئے ۔ وہ عورت اور زیادہ خوش ہو گئی اور ان سے پوچھنے لگی اے اللہ کے نیک بندوں تم کون ہو انہوں نے کہا کہ تو نے ہمیں پہچانا نہیں اس نے کہا کہ نہیں ، پھر انہوں نے کہا ہم تمہاری وہ دو روٹیاں ہیں جو تو نے اللہ کی راہ میں صدقہ کی تھیں آج انہی کی وجہ سے تجھے مصیبت سے بھی نجات مل گئی ۔ جب ۔

ظالم بادشاہ کو اس بات کا علم ہوا تو اس نے کہا کہ بے شک اللہ تعالی نے ان روٹیوں کو فرشتے بنادیا اور فرشتے بنا کر اس کی مدد کے لیے بھیج دیا ۔ پھر اس بادشاہ نے اپنے ملک میں یہ اعلان کروا دیا کہ آج کے بعد سب کو اجازت ہے جو کوئی بھی فقراء کو صدقہ خیرات کرنا چاہے وہ کر سکتا ہے ۔ حضور اکرم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا کہ صدقہ بلاؤں کو ٹال دیتا ہے اور یہ بھی حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کا فرمان مبارک ہے کہ بخیل اللہ کا دشمن ہے اور سٹی اللہ کا دوست ہے

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *