ایک دن ایک بدکار عورت پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے ساتھ زنا کرو لیکن

بنی اسرائیل میں ایک عابد تھا جس کا نام جر بیج تھا اس نے عبادت کرنے کے لیے ایک عبادت خانہ تعمیر کیا ہوا تھا ۔ ایک دن وہ نماز پڑھ رہا تھا کہ اس کی ماں نے آ کر اسے آواز دی اے جریج مجھ سے کلام کرو مگر جریج نماز پڑھتا رہا اور دل ہی دل میں سوچا کہ اے اللہ ایک طرف میری نماز ہے اور دوسری طرف

میری ماں ہے اب میں کیا کروں نماز پڑھتار ہوں یا ماں کی سنوں ، پھر وہ نماز میں مصروف رہا ۔ ماں نے جب دیکھا کہ جریج نماز میں لگا ہوا ہے اور میری طرف توجہ ہی نہیں کر رہا تو وہ چلی گئی ۔ جب دوسرا دن ہوا تو ماں پھر آئی اتفاق سے دوسرے دن بھی جر بیج نماز پڑھ رہا تھا یہ دیکھ کر ماں پھر واپس لوٹ

لئی تیسرے دن بھی جر بیج کو نماز پڑھتے ہوئے پایا تو ماں نے اسے آواز دے کر بلایا مگر جر پیج نے توجہ نہ جریج کی ماں ناراض ہو کر چلی گئی اور غصے میں آ کر بد دعا دی کہ اے جریج تمہیں اس وقت تک موت نہ آئے جب تک تم کسی بد کار عورت کا منہ نہ دیکھ لو ماں کی دعا قبول ہو گئی اور اس کی تعمیل یوں ہوئی کہ ایک دن

جر بیج عبادت میں مصروف تھا کہ ان کی قوم میں سے ایک بدکار عورت اس کے پاس آئی اور کہنے لگی کہ میرے ساتھ بد کاری کرو مگر اس نے انکار کر دیا ۔ پھر وہ عورت واپس چلی گئی اور ایک چرواہے سے جا کر اپنی خواہش کی تکمیل کر والی جس سے وہ حاملہ ہو گئی ۔ جب اس نے بچہ جنا تو قوم نے پوچھا کہ یہ بچہ کس کا ا

ہے اس عورت نے جریج کا نام لگا دیا لوگوں نے غصے میں آکر اس عابد کو بہت مارا اور اس کا عبادت خانہ بھی گرادیاد جریج نے پوچھا بھائیوں کیا بات ہے تم میرے ساتھ ایسا کیوں کر رہے ہو مجھے کیوں مار رہے ہوانہوں نے کہا کہ تم نے اس عورت کے ساتھ ر فعلی کی ہے اور اس نے بچہ جنا ہے , جر بیج نے کہا کہ بد

اس بچے کو میرے پاس لاؤ لوگ اس بچے کو لے کر جریج کے پاس آگئے , جریج نے اللہ سے دعا کی اور پھر اس نے بچے کے پیٹ کو ہاتھ سے ٹھونکا اور پوچھا ۔ ۔ یا غلام اے بچے تیرا باپ کون ہے اللہ نے اس بچے ے کو قوت گویائی بخشی اور پھر وہ بولا کہ میرا باپ فلاں بکریوں کا چرواہا ہے ۔ جر بیج کی یہ کرامت دیکھ کر

لوگ بہت شرمندہ ہوۓ اور اس سے معافی مانگی پھر دریافت کیا کہ اب بتاؤ کہ تمہارا عبادت خانہ سونے کا یا چاندی کا بناد میں اس نے کہا کہ نہیں بس مٹی کا رہنے دو ۔ اس واقعہ سے ہمیں یہ سبق ملتا ہے کہ والدین کے ساتھ حسن سلوک کرنا چاہیے اور ان کی بد دعا سے ہمیشہ بچنا چاہیے ۔

Categories

Comments are closed.