ایک دفعہ نبی کریم کو قضائے حاجت محسوس ہوئی تو

حضرت عقیل رضی اللہ تعالی عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ایک سفر میں مجھے آپ کی ہمراہی کا شرف حاصل ہوا اس سفر کے در میان میں نے آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے تین معجزے دیکھے ۔ ان میں سے پہلا یہ کہ راستے میں جاتے ہوئے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قضائے حاجت کی ضرورت محسوس ہوئی

اس وقت ہم جس جگہ سے گزر رہے تھے وہاں کوئی ایسی جگہ نہیں تھی جہاں پر دے میں ہو کر آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم قضائے حاجت فرماتے لہذا آپ صلی اللہ علیہوآلہ وسلم نے کچھ دور ایک پہاڑ کی طرف دیکھا تو اس پر درخت نظر آۓ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم فرمایا کہ جاؤ جا کر ان دونوں درختوں سے کہو کہ تم دونوں کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بلارہے ہیں ، میں پہاڑوں کی طرف گیا اور جا کر ان درختوں سے کہا کہ چلو تم دونوں کو آقائے دو عالم صلی اللہ علیہ وسلم بلارہے ہیں ان دونوں درختوں نے پہاڑ میں سے اپنی جڑیں میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف چل پڑے

اور وہاں جا کر انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو چاروں طرف سے چھپالیا ۔ آپصلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے قضائے حاجت فرمائی اور پھر مجھ سے ارشاد فرمایا کہ ان سے کہو کہ واپس اپنی جگہ پر چلے جائیں میں نے ان سے واپس جانے کا کہا تو وہ واپس چلے گئے ۔ دوسرا معجزہ یہ کہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ہمراہی میں چلتا ہوا ایک جگہ پر پہنچاتو وہاں کچھ لوگ جمع تھے جو ایک اونٹ کے ارد گرد کھڑے تھے وہ شاید اونٹ کو مار دینا چاہتے تھے ۔ اونٹ نے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا توفورا آپ کی بارگاہ میں عرض کرنے لگا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم مجھے ان لوگوں سے بچالیں ۔ آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان لوگوں سے پوچھا کہ

تم سب اس اونٹ کو کیوں مارناچاہتے ہو انہوں نے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یہ اونٹ پاگل ہو گیا ہے ہمیں ٹانگیں بھی مارتا ہے اور دانتوں سے کاٹنا ہے اس نے ہمیں تنگ کر رکھا ہے ۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اونٹ سے پوچھا کہ تو اس طرح کیوں کرتا ہے اس نے جواب دیا یار سول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم میں پاگل نہیں ہوں بلکہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ و یہ لوگ سوۓ رہتے ہیں اور عشاء کی نماز ادا نہیں کرتے مجھے ڈر ہے کہان پر پر کہیں اللہ کا عذاب نازل نہ ہو جاۓ اور میں بھی ان کے ساتھ ہی مارا جاؤں لہذا میں انہیں نیند سے بیدار کرتا ہوں تو یہ سمجھتے ہیں کہ میں انہیں کاٹ کھاؤں گا ۔ یہ سن کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اے لو گو اس اونٹ کو چھوڑ دواور سونے سے پہلے عشاء کی نماز ادا کیا کر و پھر تمہیں کچھ نہیں کہے گا ۔ اور تیسرا واقعہ یہ کہ سفر کے دوران میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے عرض کی یارسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم مجھے بڑی سخت پیاس محسوس ہورہی ہے آپ نے فرمایا کہ جاؤاس پہاڑ کے پاسجا کر اسے کہو کہ تجھے

نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم حکم فرماتے ہیں کہ مجھے پانی پلاؤو میں پہاڑ کے پاس گیا اور جو کچھ آپ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا تھا میں نے اسے جا کر کہہ دیا ۔ پہاڑ نے میری بات سن کر مجھ سے کہا کہ حضور صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بارگاہ میں میر اسلام عرض کر نا اور کہنا کہ جب سے اللہ تعالی نے آیت کریمہ نازل فرمائی ہے کہ جہنم کا ایندھن لوگ اور پتھر ہوں گے اس دن سے رورو کر میں نے اپناسار اپانی ختم کر لیا ہے اب مجھ میں ایک بھی بوند پانی کی نہیں بھی اس وجہ سے میری پشت پر کوئیجڑی بوٹی بھی نہیں اگ سکی ۔ سبحان اللہ یہ تھی میرے پیارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی شان مبارکہ کہ ہر چیز جھک کر ادب سے سلام کرتی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم مبارک پر درخت اور پہاڑ بھی خود چل کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے اور آپ کا حکم مانتے تھے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *