ایک دفعہ ملانصیرالدین بازار سے جا رہے

ایک دفعہ ملانصیرالدین بازار سے جا رہے تھے کہ پیچھے سے کسی نے انہیں زور سے تھپڑ مارا۔ ملا صاحب نے غصے سے پیچھے دیکھا، ، وہ شخص گھبرا کربولا:- “معاف کرنا میں سمجھا، میرا دوست ہے” – – – ملا صاحب نے کہا:- “نہیں – – – انصاف ہو گا ، چلو عدالت چلتے ہیں۔ ” – – جج صاحب کے سامنے اپنا مدعا پیش کیا۔جج نے اس شخص کا خوف دیکھ کر کہا :- “کیوں جناب! تم تھپڑ کی قیمت دو گے یا ملا صاحب آپ کو بھی تھپڑ لگائیں؟” – – –
اس شخص نے کہا:- “جناب! میں تھپڑ کی قیمت دوں گا ، لیکن ابھی میرے پاس کچھ بھی نہیں ہے۔ میری بیوی کے پاس کچھ زیور ہیں، وہ میں لے آتا ہوں۔ ” – – – جج نے کہا:- “ٹھیک ہے، جلدی لے کر آؤ۔ ” – – – ملا صاحب انتظار کرتے کرتے تھک گئے لیکن وہ شخص نہیں آیا، ملا صاحب اٹھے اور رکھ کے ایک زور کا “تھپڑ” جج کو مارا اور کہا :- “اگر وہ زیور لاۓ تو تم رکھ لینا ۔۔۔۔۔ تین سال کے انتظار کے بعد بھی کوئی پی ٹی آئی والا تبدیلی کی بات کرے تو اب عوام پی ٹی آئی والو کو رکھ کے تھپڑ مارے اور کہے کہ:-

Categories

Comments are closed.