ایک دفعہ ایک غلام چپ کر ملکہ اور بادشاہ کی باتیں سن رہا تھا اور

یخو بادشاہ کا ایک ایسا در باری تھا جو اداسی کی حالت میں بادشاہ کو خوش کرتا تھا ۔ اس کی باتیں سن کر بادشاہ خوش ہو جاتا اور اسے بہت سارے انعامات سے نوازا تھا ۔ ایک دن بادشاہ اور ملکہ آپس میں کچھ باتیں کر رہے تھے تو شیخو نے باتیں سننا شروع کر دیں شیخو کے لیے یہ گفتگو دلچسپی کا باعث بنی اور اس نے کھڑکی کے ساتھ اپنا کان لگالیا۔اچانک وزیر نے دیکھا کہ شیخو بادشاہ اور ملکہ کی باتیں سن رہا ہے

وزیر نے بادشاہ کو سب بتادیا ۔ بادشاہ کو شیخو پر بہت غصہ آیا اور حکم دیا کہ اس کو اذیت ناک سزادی جاۓ پھر وزیر نے بادشاہ کو مشورہ دیا کہ سبسے اذیت ناک سزا یہ ہے کہ شیخو کو بغیر کپڑوں کے ایک سرد خانے میں قید کیا جاۓ ، چنانچہ شیخو کو ایک مجرم کے ساتھ سرد خانے میں قید کر لیا گیا ۔ صبح جب بادشاہ کے آدمیوں نے سرد خانے کا دروازہ کھولا تو یہ دیکھ کر حیران ہو گئے کہ ایک مجرم تو سردی کی وجہ سے مر چکا تھا مگر شیخو زندہ تھا ۔ درباریوں نے بادشاہ کو رپورٹ پیش کی کہ شیخو ابھی بھی زندہ ہے بادشاہ نے کہا کہ ایسا کیسے ممکن ہے کمرے میں سخت سردی ہوتی ہے اور اس کے پاس اپنے آپ کو ڈھانپنے کیلئے ، کپڑے بھی نہیں تھے ۔ بادشاہ نے دوبارہ شیخو کو ایک مجرم کے ساتھسرد خانے میں قید کیا چو ٹیں گھنٹے کے بعد درباریوں نے جب سرد خانے کا دروازہ کھولا تو دوسرا مجرم بھی سردی کی وجہ سے مر چکا تھا جبکہ ۔ شیخو اس کی لاش کے ساتھ بیٹھا تھا ۔ بادشاہ کے لیے یہ واقعہ بہت حیران کن تھااور اسے اس بات کا تجسس شروع ہو گیا ۔

شیخو کیسے سردی سے اپنے آپ کو بچا لیتا ہے ۔ بادشاہ نے تیسرے دن بھی شیخو کو ایک مجرم کے ساتھ سرد خانے میں قید کیا اور سرد خانے کی دیوار کے ایک خفیہ سوراخ سے مشاہدہ کرنے لگا کہ شیخو کون سی ترکیب پر عمل کرتا ہے ۔ سرد خانے کا دروازہ بند کیا گیا اور بادشاہ دونوں قیدیوں کا مشاہدہ کرنے لگا ۔ بادشاہ نے دیکھا کہ شروع میں دونوں قیدی بیٹھے رہے مگر جیسے ہی سردی کی شدت میں اضافہ ہوا تو ایک قیدی کمرے نے کونے میں سکڑ کر بیٹھ گیا جبکہ شیخو نے قید خانے میں پڑا ایک وزنی پتھر اٹھالیا اور اس سے ورزش کرنے لگا ۔ اس طرح اس کے جسم کا درجہ حرارت بڑھ جاتا اور اسے سردی محسوس کے نہ ہوتی ، پھر جب شیخو تھک جاتا تو تھوڑی دیر آرام کر لیتا اور جب اسے سردی کی شدت محسوس ہوتی تو دوبارہ پتھر اٹھا کر ورزش میں مصروف ہو جاتا ۔ اس طرح ساری رات اس نے یہ سلسلہ جاری رکھااور سردی کو مات دیتے ہوئے زندہ رہا ۔ جبکہ دوسرا قیدی کونے میں پڑا رہا اور سکڑ کر مر گیا ۔ بادشاہ شیخو کی اس ذہانت سے کافی متاثر ہوا اور اس کو مزید آزمائش میں مبتلا کر دیا ۔

بادشاہ نے شیخو کو ایک قید خانے میں تیس دن کے لیے بند کر دیا اور کھانا صرف تین دن کا ہی دیاد ایک مہینے بعد بادشاہ نے جیل کا دروازہ کھولا تو شیخو ز ند ہ اور سلامت بیٹھا تھا اور اس کے کندھے پر ایک طوطا بھی بیٹھا تھا ۔ بادشاہ نے پوچھا یہ کیا ماجرہ ہے کھانا تو صرف تین دن کا ہی تھا ۔ شیخو نے کہا کہ میں ایک دن کھانا کھا رہا تھا تو روشن دان میں بیٹھا مجھے یہ طوطا نظر آباد میں

نے اس طوطے کے آگے تھوڑا سا کھانا چھینک دیا تو یہ میر ا عادی ہو گیا ۔ تین دن تک یہ میرے پاس ہی کھانا کھانے کے لئے آتا رہا پھر جب ایک دن یہ آیا تو میرے پاس کچھ نہیں تھا ۔ یہ واپس چلا گیا اور کچھ دیر بعد ایک کھجور توڑ کر لے آیاد بس اس دن سے اسے معلوم ہو گیا کہ میں اس کا محتاج ہوں یہ کوئی نہ کوئی پھل توڑ کر میرے لئے لاتا رہا حتی کہ ایک مہینہ گزر گیا ۔ بادشاہ نے دل میں یہ سوچا کہ شیخو تو مشکل سے نکلنے کا گر جانتا ہے ، پھر بادشاہ نے کہا کہ تیری آزمائش ابھی باقی ہے اس نے شیخو سے کہا میں تجھے شہر بدر کر دوں گا ، پھر بادشاہ نے دسقیدیوں کو شہر بدر کر دیا اور میرا ایک قیدی کی کمر میں ایک تھیلا باندھ دیا جس میں پانچ ہزار اشرفیاں تھیں ، بادشاہان کو کہنے لگا جب تم دریا کے اس پار جاؤ گے تو ان اشرفیوں سے اپنا گزر بسر کر لینا ۔ پھر بادشاہ نے چکے سے کشتی میں سوراخ کر وادیا ۔

جب کشتی دریا کے در میان پہنچی تو سوراخ بڑا ہو جانے کی ویرانی جمع ہونے لگا ۔ یہ دیکھ کر اس سب مسافروں نے دریا میں چھلانگ لگادی شیخو نے محسوس کیا کہ اشرفیوں کی تھیلی کے وزن کی وجہ سے میں تیر نہیں سکتا اور پانی میں ڈوب رہا ہوں شیخو نے وہ پانچ ہزار اشرفیوں کا تھیلا اپنے سے الگ کر دیا ۔جبکہ باقی کسی مسافر کے دمائی میں یہ بات نہیں آئی کہ اشرفیوں کا وزن اپنے سے دور کر لیں وہ یہ سوچ رہے تھے کہ اشرفیوں کو تو اپنے آپ سے کسی صورت دور نہیں کریں گے کیونکہ اگر یہ الگ کر دیں تو شہر میں مانگتے رہیں گے مگر شیخو نے اپنی ذہانت کا استعمال کرتے ہوۓ ان ۔ کو اپنے آپ سے دور کیا ۔ بادشاہ نے اپنے خادم سے پوچھا اس کشتی کے مسافروں کا کیا بنا جو شہر بدر کر دیے تھے ۔ خادم نے بتایا کہ شیخو کے علاوہ سب ڈوب کر مر کے ہیں ۔ بادشاہ نے سب کے سامنے کہا کہ میں جانتا تھا شیخو زندہ رہنے کا گر جانتا ہے ۔ بادشاہ نے شیخو کو دربار میں بلایااور کہا کہ تمہاری آزمائش اب ختم ہو چکی ہے اور اس سے یہ حلف بھی لیا کہ آئندہ چپ کر کسی کی باتیں سننے کی کوشش مت کرنا

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *