ایک خو بصورت لڑ کی اپنے جسم کی منہ بولی قیمت لیتی اور ہر روز امیر لوگوں کے ساتھ غلط کام کرتی تھی۔

حضرت حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ ایک فاحشہ عورت کے بارے میں مشہور تھا کہ اسے دنیا کا ایک تہائی حسن دیا گیا تھا ۔ اس کی بد کاری بھی انتہا کو پہنچ چکی تھی ۔ جب تک وہ سو دینار نہ لے لیتی اپنے قریب کسی کو بھی نہ آنے دیتی ۔ لوگ اس کے حسن کی وجہ سے اتنی بھاری رقم ادا کر کے بھی اس کا قرب حاصل کرتے تھے ۔

ایک مرتبہ ایک عابد کی نظر اچانک اسعورت پر پڑ گئی اتنی حسین و جمیل عورت کو دیکھ کر وہ عابد اس کے عشق میں مبتلا ہو گیا اور اس نے یہ ارادہ کر لیا کہ میں اس حسین و جمیل عورت کا قرب حاصل ضرور کروں گا لیکن جب اسے معلوم ہوا کہ سو دینار دیۓ بغیر میری یہ حسرت پوری نہیں ہو سکتی تو اس نے مطلوبہ رقم حاصل کرنے کے لیے دن رات محبت مزدوری کر نا شروع کر دی ۔ کافی جد وجہد کی بعد جب سودینار جمع ہو گئے تو وہ اس بد کار عورت کے پاس جا پہنچا اور کہنے لگا ! اے حسن و جمال کی ملکہ میں نے محنت مزدوری کر کے سو دینار جمع کر کیے ہیں اور وہ لے کر تیرے پاس آ گیا ہوں ۔ یہ سن کر اس فاحشہ عورت نے کہا ۔ پھر جلدی سے اندر آ جاؤ ۔ جب وہ عابد کمرے میں داخل ہوا تو دیکھا کہ وہ حسین و جمیل عورت سونے کے تخت پر بیٹھی تھی ۔ پھر اس عورت نے عابد سےکہا ! میرے قریب آئو میں حاضر ہوں ۔ وہ عابد بے تاب ہو کر اس عورت کی طرف بڑھا اور اس کے قریب تخت پر جا بیٹھا ۔ جب وہ دونوں خدا کی نافرمانی کے لیے بلکل تیار ہو کئے تو اس عابد کی سابقہ عبادت اس کے کام آگئی اور اس کو خدا عز و جل کی بارگاہ میں حاضری کا دن یاد آ گیا ۔ بس یہ خیال آنا تھا کہ اس کے جسم پر کپکپی طاری ہو گئی ۔

اس کی گناہ کرنے کی خواہش ختم ہوگئی اور اسے اپنے اس فعل بد کے ارادے پر بڑی شر مندگی محسوس ہوئی۔اس نے عورت سے کہا ! مجھے جانے دو اور یہ سو دینار بھی تم رکھ لولیکن میں یہ گناہ نہیں کروں گا ۔ عورت نے حیران ہو کر پوچھا ۔ آخر تمہیں کیا ہوا پہلے تو تم کہہ رہے تھے کہ میر اقرب حاصل کرنے کے لیے تم نے بہت جتن کیے تھے اب جب کہ تم میرے قرب میں ہو اور میں نے اپنے آپ کو تمہارے حوالے بھی کر دیاہے تواب تم مجھ سے دور بھاگ رہے ہو آخر کس بات نے تمہیں میرے قریب آنے سے منع کیا ہے یہ سن کر اس عابد نے کہا ! مجھے اپنے رب سے ڈر لگ رہا ہے اور اس کاخوف تیری طرف مائل نہیں ہونے دے رہا۔ا گر آج میں نے یہ گناہ کر لیا تو کل بروز قیامت اللہ تعالی کو کیا منہ دیکھاؤں گا ۔ لہذا اب میرادل تجھ سے اٹھ چکا ہے ۔ مجھے یہاں سے جانے دو ۔ عابد کی یہ بات سن کر وہ فاحشہ عورتبہت حیران ہوئی اور کہنے لگی ! اگر تم اپنی اس گفتگو میں سچے ہو تو گی ! میں بھی پختہ ارادہ کرتی ہوں کہ تمہارے علاوہ میں بھی کسی اور کے ساتھ شادی نہیں کروں گی ۔ عابد کہنے لگا تم مجھے چوڑ دوں مجھے بہت گھبراہٹ ہو رہی ہے ۔ عورت نے کہا ! اگر تم مجھ سے شادی کر لو تو میں تمہیں مچوڑ دیتی ہوں ۔ پھر عابد نے کہا جب تک میں یہاں سے چلا نہ جاؤں اس وقت تک میں شادیکے لیے تیار نہیں ہوں ۔

عورت نے کہا اچھا ابھی تم چلے جاؤ لیکن میں تمہارے پاس ضر ور آؤں گی اور تم سے ہی شادی کروں گی ۔ پھر وہ عابد سر پر کپڑا ڈال کر منہ چھپاۓ شرمندہ شرمندہ وہاں سے نکلا اور اپنے شہر کی طرف روانہ ہو گیا ۔ اس عورت کے دل میں عابد کی بات اثر کر چکی تھی چنانچہ اس نے اپنے تمام سابقہ گناہوں سے توبہ کر لی پھر اس نے اپنے شہر کو خیر باد کہا اور اس عابدکے بارے میں پوچھتی پوچھتی آخر کار اس کے گھر پہنچ گئی ۔ لوگوں نے عابد کو بتا یا ہے کہ فلاں عورت تم سے ملاقات کرنا چاہتی ہے عابد باہر آیا جیسے ہی اس کی نظر اس عورت پر پڑی تو ایک زور دار چیخ کے ساتھ اس کی روح پرواز کر چکی گئی ۔ جب عورت اس کی طرف بڑھی تو دیکھا کہ اس کا جسم ساکت ہو چکا تھا ۔ وہ بہت زیادہ غمزدہ ہوئی اور اس نے لو گوں سے پوچھا ! کیااس کا کوئی قریبی رشتہ دار بھی ہے یا نہیں تو لوگوں نے کہا اس کا ایک بھائی ہے لیکن وہ بہت غریب ہے ۔ یہ سن بہ کر اس عورت نے کہا میں تو اس نیک عابد سے شادی کرنا چاہتی تھی لیکن یہ تو دنیا سے رخصت ہو گیا ہے ۔ اب میں اس کی محبت میں اس کے بھائی سے شادی کروں گی ۔ چنانچہ اس عورت اور عابد کے بھائی کی شادی ہو گئی ۔ رب تعالینے انہیں نیک اولاد عطا فرمائی اور ان کے ہاں سات بیٹے ہوۓ جو سب کے سب اپنے زمانے کے مشہور ولی بنے ۔

Categories

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *