ایک بھکاری عورت ملکہ کے پاس آئی

ایک ملکہ خضران بڑی شان و شوکت سے اپنے محل میں بیٹھی ہوئی تھی جو ان کی لونڈی نے آکر عرض کیا ملکہ عالم محل کے دروازے پر ایک بہت ہی لاچار خستہ حال غریب عورت کھڑی ہے اور وہ ملکہ کی خدمت میں حاضر ہوکر کچھ عرض کرنا چاہتی ہے ملکہ نے کہا کون ہے وہ اور اس عورت کا حسب نسب پوچھ لو اور یہ بھی معلوم کرو کہ اس کو کس چیز کی ضرورت ہے لونڈی نے باہر آکر اس غریب عورت سے پوچھا اس نے اپنا نام نسب خاندان کا پتا سب کچھ دیا لیکن اس نے یہ نہیں بتایا کہ ملکہ سے کیوں ملنا چاہتی ہے اس کا بس ایک ہی جواب تھا جو کہنا چاہتی ہے وہ ملکہ سے زبان ہی میں کہنا چاہتی ہے لونڈی نے ادھر آکر اس عورت کا جواب ملکہ کو سنایا تو وہ بہت حیران ہوئی اس وقت حضرت عبداللّٰہ بن عباسؓ کی پڑپوتی زینب بنت سلیمان بھی ان کے پاس بیٹھی ہوئی تھی وہ بنو عباس کی خواتین میں بہت ہی داناء تسلیم کی جاتی تھی ملکہ نے ان سے مشورہ کیا کہ اس عورت کو اندر آنے کی اجازت دوں یا ملنے سے انکار کردوں انہوں نے فرمایا ضرور بلواؤ دیکھیں تو سہی کیا چاہتی ہے چنانچہ ملکہ نے لونڈی کو حکم دیا کہ اس کو اندر آنے کی اجازت دے دی جائے چنانچہ تھوڑی دیر میں ایک بھٹے پرانے کپڑوں میں ایک انتہائی شکستہ حال عورت کھڑی ہے

اس کی حالت سے معلوم ہوتا تھا کہ کوئی شریف زادی ہے لیکن میل کوچیل بوسیدہ کپڑوں نے اس کی حالت گداگروں جیسی کردی تھی عورت ملکہ کو دیکھ کر پہلے تو گھبرئی پھر فورًا ہی جراّت کرکے ملکہ کو سلام کیا اور کہنے لگی اے ملکہ میں مروان بن محمد کی بیٹی مزنہ ہوں جو خاندان بنو امیہ کا آخری تاجدار تھا جوں ہی اس کے منہ سے یہ بات نکلی تو ملکہ حضران کا چہرہ فرط غضب سے سرخ ہوگیا اور اس نے اکڑ کر کہا اے بدبخت عورت تجھ کو یہ جراّت کیسے ہوئی کہ تو اس محل کے اندر قدم رکھے کیا تو نہیں جانتی تیرے خاندان نے عباسیوں پر کیسے ظلم ڈھائے اے سنگ دل عورت کیا تو وہ دن بھول گئی کہ جب بنو عباس کی بوڑھی عورتیں تیرے پاس التجا لے کر گئیں تھیں کہ تو اپنے باپ سے سفارش کر کہ میرے شوہر مہدی کے چچا امام محمد بن ابراہیم کی لاش دفن کرنے کی اجازت لے دے کمبخت عورت خدا تجھے غرق کرے تونے معزز اور مظلوم عورتوں پر ترس کھانے کے بجائے انہیں ذلیل کرکے محل سے نکلوا دیا تھا کیا یہ تیری حرکت انسانیت کی توہین نہیں تھی مانا کے آپس میں دشمنی تھی لیکن پھر بھی ایک بے بس اور لاچار دشمن کے ساتھ ایسا سلوک جائز نہ تھا خدا کا شکر ہے کہ اس نے تجھ سے حکومت چھین لی اور تمہیں ذلیل کیا مزنا خیریت اسی میں ہے کہ تم فورًا واپس چلی جاؤ چنانچہ ملکہ کی یہ باتیں سن کر مزنہ بالکل مغروب نہ ہوئی بلکہ اس نے زوردار قہقہہ لگایا اور بولی بہن اپنے آپ سے باہر نہ ہو جو کچھ میں نے کیا خدا سے اس کی سزا پالی اسے نے ہی تو مجھے آپ کے سامنے آکر لاکھڑا کر دیا ہے کیا تمہیں معلوم نہیں میں کسی وقت آپ سے زیادہ شوخ اور مغرور تھی دولت میرے گھر کی غلام تھی مجھے اپنے حسن پر بہت بڑا ناز تھا

مجھ کو تکبر اور اکڑ نے اندھا کردیا تھا ملکہ کیا تم نے نہ دیکھا جلد ہی زمانے نے اپنا ورق الٹا دیا خدا نے تمام نعمتیں اپنی مجھ سے چھین لی اور اب میں ایک فقیر سے بدتر ہوں اچھا کیا تم چاہتی ہو کہ تمہارے ساتھ بھی یہی کچھ ہو اچھا خوش رہو میں جاتی ہوں اتنا کہہ کر مزنا نے تیزی سے باہر کا رخ کیالیکن اب چند قدم ہی جا پائی تھی کہ خضران نے دوڑ کر اسے پکڑ لیا اور چاہا کے گلے لگا لے لیکن مزنہ نے پیچھے ہٹ کر کہا خضران سنو تم ملکہ ہو اور میں ایک غریب اور بے کس عورت ہوں میرے کپڑے بوسیدہ اور غلیظ ہیں میں اس قابل نہیں کہ ایک ملک مجھ سے بغل گیر ہو خضران نے آبدیدہ ہوکر لونڈیوں کو حکم دیا کہ مزنہ کو نہلا دو اور اعلیٰ درجے کی پوشاک پہنا دو اور اسے نہلہ دھلا کر میرے پاس لے آؤ لونڈیوں نے ملکہ کے حکم کی تعمیل کی چنانچہ اس وقت مزنہ کو دیکھ کر یہ معلوم ہوا کہ چاند بادل سے نکل آیا ہے خضران بےاختیار مزنہ سے لپٹ گئی پاس بٹھایا اور پوچھا دسترخوان بچھوائوں مزنا نے کہا ملکہ آپ پوچھتی کیا ہیں آپ کے محل میں مجھ سے زیادہ اور کون بھوکا ہوگافورا دستر خوان بچھا دیا گیا مزنہ نے سیر ہوکر کھانا کھایا تو ملکہ نے پوچھا آج کل تمہارا سرپرست کون ہے مزنا نے آہ بھر کر کہا آج کس میں ہمت ہے کہ میری سرپرستی کرے مدتوں سے در در کی ٹھوکریں کھا رہی ہوں کوئی رشتیدار بھی تو دنیا میں موجود نہیں کہ اس کے پاس جاؤں بس کچھ قربت ہے تو اسی گھرانے سے یعنی بنو عباس سے خضران نے فورًا کہا مزنہ پریشان مت ہو آج سے تم میری بہن ہو میرے بہت سے محل ہیں تم ان میں سے ایک محل پسند کرلو اور یہیں رہو جب تک میں جیتی ہوں تمہاری ہر ضرورت پوری کرونگی چنانچہ مزنہ نے ایک عالیشان محل پسند کیا اور خضران نے ان میں تمام ضروریات زندگی اور لونڈیاں اور غلام مقرر کردیئے ساتھ ہی پانچ لاکھ درہم نقد بھی اس کے حوالے کر دیئے

کہ جس طرح جی چاہے تم خرچ کرلو شام کا خلیفہ مہدی حرم میں آیا اور دن بھر کے حالات پوچھنے لگا تو ملکہ خضران نے آج کا واقعات تفصیل سے سنانا شروع کردیا جب اس نے بتایا کہ مزنہ کو اس طرح پناہ میں رکھا تو خلیفہ فرط غضب سے بے تاب ہوگیا اور اس نے ملکہ کی بات کاٹ کر کہا خضران تم پر ہزار افسوس جو خدا نے تمہیں نعمتیں عطا کی ہیں تم نے ان کا شکریہ ادا کرنے کا ایک بیش بہا موقع ہاتھ سے کھو دیا تمہاری یہ حرکت ایک ملکہ کی شایان شان نہیں تھی چنانچہ خضران نے کہا امیرالمومنین میری پوری بات تو سنیں اس کے بعد اس نے جب مزنہ سے حسن سلوک کی تفصیل بتائی تو مہدی کا چہرہ چمک اٹھا اس نے خضران کی اعلیٰ ظرفی کو بہت سراہا اور کہا آج سے میری نظر میں تمہاری قدر اور منزلت زیادہ بڑھ گئی ہے چنانچہ پھر اس نے بھی اپنی طرف سے مزنہ کو اشرفیوں کے سو توڑے بھیجے اور ساتھ ہی کہلا کر بھیجا کہ آج میری زندگی کا سب سے بڑا یوم مسرت ہے کہ اس نے ہمیں تمہاری خدمت کی توفیق دی اب تم اطمینان سے یہاں رہواس کے بعد مزنہ طویل عرصے تک زندہ رہی مہدی کی وفات 169 ہجری بمطابق 785 عیسوی کو ہوئی اس کے بعد اس کا بیٹا ہادی بھی اس کی خدمت کرتا رہا ہادی کے بعد ہارون رشید خلیفہ بنا تو اس نے بھی مزنہ کو ماں کے برابر سمجھااس کے عہد خلافت کی ابتداء میں مزنا نے وفات پائی تو ہارون رشید بچوں کی طرح بلک بلک کر رویا اور اس کے جنازے کو شاہانہ شان و شوکت سے قبرستان پہنچایا۔اللہ ہم سب کا حامی وناصر ہو۔آمین

Categories

Comments are closed.